Time 27 ستمبر ، 2021
بلاگ

ففتھ جنریشن وارفیئر اور پانچواں کالم

جوانی خواب دیکھنے کا موسم ہے۔ محبتوں کے خواب، خوبصورتی کے خواب، دنیا کو جاننے کے خواب ، ناانصافی سے لڑنے کے خواب، دنیا کو بہتر بنانے کے خواب۔ ہم ایسے تو زمین کا بوجھ ہیں، ہمارے لئے یہی بہت ہے کہ تاریخ کی کثافت میں اضافہ کئے بغیر خاموشی کی وادی میں اتر جائیں۔

بڑے انسان اس خواب کو مہ و سال کی آندھیوں میں بچا رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے عہد کے اندوہ کو آسودگی کا کوئی زاویہ بخشنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 

وہ نسلیں خوش نصیب ہوتی ہیں جنہیں تاریخ کی آزمائش میں اپنے اثبات کا موقع ملتا ہے۔ گزشتہ صدی کا آخری ہفتہ تھا، ریگولا آلٹیوک مجھےBern سے کوئی 50 کلومیٹر کے فاصلے پر Neuchatel لے گئیں۔ ہماری منزل مغربی سوئٹزرلینڈ میں فرانس کی سرحد پر واقع اس قصبے کی وہ گلی تھی جہاں سے یکم اگست 1936 کو ہسپانوی خانہ جنگی میں جمہوریت کی مدافعت کیلئے اطالوی دانشور دومینکو لودووچی (1979-1893) کی قیادت میں پہلا انٹرنیشنل رضاکار دستہ فرانس کے راستے اسپین روانہ ہوا تھا۔ 

نظریے کے ان متوالوں کو کیا معلوم تھا کہ جنرل فرانکو کی پشت پر ہٹلر اور مسولینی ہی نہیں، اسٹالن بھی کھڑا تھا۔ بظاہر غیرجانبدار سوئٹزرلینڈ کی بھی جنگ زدہ یورپ سے مالیاتی ترسیلات پر نظر تھی۔ اپنے ایقان کی روشنی میں لڑنے والے ان 800 زن و مرد میں سے کوئی 170 کھیت رہے۔ باقی کو وطن واپسی پر سخت سزائیں دی گئیں۔

چھوٹی اینٹوں سے بنی گلی کے مختصر سے دفتر میں ایک ادھیڑ عمر خاتون پرانے کتابچوں، جھنڈوں اور اخبارات سے اٹی ایک میز پر بیٹھی تھیں۔ درویش نے دسمبر کی سرد ہوا میں ٹھہری تاریخ کو اپنے رخساروں پر محسوس کیا اور سوچا کہ نظریہ فرد انسانی کے لئے اثاثہ اور ریاست کے لئے محض بیوپارہے۔

20برس پرانی اس یاد نے آج اس لئے دستک دی کہ مجھے ففتھ جنریشن وارفیئر کے غلغلے میں سپین کے قوم پرست کمانڈر امیلو مولا (Emilio Mola) کی وضع کردہ اصطلاح’پانچواں کالم‘ کا خیال آیا۔ اگست 1936 میں میڈرڈ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے امیلو مولا نے کہا تھا، ’میری فوج چار کی صف بندی میں پیش قدمی کرتی ہے لیکن میرا مضبوط ترین اور نادیدہ کالم پانچواں ہے جو میڈرڈ کے اندر موجود ہے۔ میں اسکی مدد سے لڑے بغیر ہی میڈرڈ پر قبضہ کر لوں گا۔‘

روز نامہ جنگ کسی کے لئے اخبار ہو گا، ہمارے لئے وطن، دستور اور جمہور کے دفاع کا مورچہ ہے۔ اسی ادارتی صفحے پر آٹھ برس قبل سوال کیا تھا، ’پانچواں کالم کون لکھ رہا ہے؟‘ (22 اکتوبر 2013) آج بھی پانچویں کالم کی نشاندہی ضروری ہے۔ افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے ہمارے محترم وزیر اعظم عمران خان کی توہین کی ہے؟ کابل حکومت نے ہمارے وطن پر میلی آنکھ رکھنے والوں کو آغوش میں لے رکھا ہے۔ ایسے میں کون ہے جو افغان بحران کی پرچھائیوں کو وطن عزیز کی طرف بڑھتے دیکھ کر خوش ہو رہا ہے؟ کون ہے جو ہائبرڈ وارفیئر اورففتھ جنریشن وارفیئر کی ایسی ہی پرفتن تشریح کر رہا ہے جیسے سٹریٹجک ڈیپتھ کا مردہ خراب کیا تھا۔

اسٹریٹجک ڈیپتھ کا ڈاکٹرائن سوویت جنرل زخوف کی دین تھا۔ خلاصہ یہ تھا کہ جرمن افواج کو تقریباً 2000 کلومیٹر طے کر کے ماسکو تک آنے دیا جائے۔ اتنے فاصلے پر جرمن افواج کی رسد کمزور ہو گی اور انہیں اجنبی علاقے اور شدید سرد موسم میں تباہ کرنا آسان ہو گا۔ قبل ازیں 1940ءمیں برطانیہ پر ہوائی حملے میں بھی ریڈار کی مدد سے یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔ اسٹریٹجک ڈیپتھ اپنے اور دشمن میں فاصلہ پیدا کرنے کا نام ہے، اسے اپنے عقب میں تلاش نہیں کیا جاتا۔ 

ففتھ جنیریشن وارفیئر کی اصطلاح رابر ٹ اسٹیل نے 2003 میں استعمال کی تھی۔ اس کے مطابق جدید عہد میں قوموں کے درمیان مسلح تصادم کے علاوہ غلط معلومات، سائبر حملوں اور نان اسٹیٹ گروہوں کے ذریعے غیر متناسب لڑائی کے عناصر بھی شامل ہو چکے ہیں۔ قومیں اب گمراہ کن خبروں اور من مانے تاثر کی ترسیل کے ذریعے بھی اپنے ہدف حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

 اسی تسلسل میں فرینک ہافمین نے 2007ء میں ہائبرڈ وارفیئر کی اصطلاح استعمال کی جس کے مطابق جدید جنگ ہتھیار اور سیاسی بیانیے کا امتزاج ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کی تعریف پر عالمی اتفاق رائے موجود نہیں۔ تاہم پروپیگنڈا صدیوں سے جنگی حربے کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ دنیا میں غیر شفاف حکومتوں نے ان اصطلاحات کو اپنے ممالک میں سیاسی اختلاف رائے اور آزادی اظہار کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے۔ 

جمہوری اختلاف کو ملک دشمنی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ صحافت کا منصب ہی غلطی کی نشاندہی کرنا ہے اور تنقید کسی حکومت کو پسند نہیں ہوتی۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ صحافی کے قلم سے ملکی مفاد، دستور کے احترام یا شہریوں کے حقوق کو نقصان پہنچا یا تنقید کرنے والے صحافی دراصل دنیا میں اپنی ریاست کی جمہوری ساکھ بڑھا رہے ہیں۔ 

سفارتی آداب آڑے آتے ہیں ورنہ درجنوں ممالک کے نام لئے جا سکتے ہیں جہاں ٹین پاٹ حکومتیں اپنی مخالف آوازوں کو ہائبرڈ وارفیئر کے نام پر کچلنا چاہتی ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنا اور ملک دشمنی دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہائبرڈ وارفیئر کے نام پر وطن عزیز میں انہی صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حکومتی اور ریاستی پالیسیوں کے ناقد تصور ہوتے ہیں؟ 

صحافت آئینی یا ریاستی ادارہ نہیں لیکن اگر حیلے بہانے سے صحافت کا لہو نچوڑ لیا جائے تو قوم اپنی تمدنی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔ تمام ادارے اور شعبے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ عدالت عالیہ نے ابصار عالم کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عرش صدیقی نے کہا تھا، ’ اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا / مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا ‘۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔