بلاگ
19 اکتوبر ، 2021

کاش تم اِس راستے پر چلتے

اس مرتبہ بڑے زور و شور سے جشن عید میلاد النبیؐ منایا جا رہا ہے۔ ہر طرف چراغاں ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر تقریبات کا تسلسل ہے۔ گزشتہ رات بھی ایوارڈز کی ایک سرکاری تقریب پی این سی اے اسلام آباد میں ہوئی۔

آج ایوان صدر اور پھر کنونشن سنٹر میں دو بڑی سرکاری تقریبات ہوںگی۔ پہلی تقریب میں ڈاکٹر عارف علوی مہمان خصوصی ہوں گے، دوسری تقریب میں خیال ہے کہ وزیراعظم حسب معمول ریاست مدینہ کی باتیں کریں گے۔ ان تقریبات کے انعقاد میں صاحبزادہ نور الحق قادری اور ان کی وزارت کے سبھی افراد نے بڑی جانفشانی سے کام کیا ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ’’عمران خان کے ویژن کے مطابق‘‘ پورا مہینہ جشن منائیں گے۔

ویسے لاہور میں آج ایک بڑی تقریب غیر سرکاری سطح پر ہو رہی ہے۔ اس تقریب کا اہتمام بلوچستان اسمبلی کی سابق رکن فرح عظیم شاہ نے ’’اسلام فار آل‘‘ کے نام سے کر رکھا ہے۔ انہیں انٹرنیشنل روحانی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرشید کی معاونت بھی حاصل ہے۔ اس تقریب میں وزرا، اراکین اسمبلی، دانشوروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔ آج ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس نکلیں گے۔ نیاز کا اہتمام اور نعت کی محافل بھی ہوں گی۔

خوب جشن ہوگا اور بقول وزیراعظم پوری قوم جشن میں شریک ہوگی۔ آج لمبی چوڑی تقریروں میں حیات طیبہ کے پہلو اجاگر کئے جائیں گے مگر کوئی اس قوم سے یہ نہیںپوچھے گا کہ تم لوگ باتیں تو بڑی کرتے ہو، کیا تم محمدؐ کے راستے پر چلتے بھی ہو؟ علماء اور دانشور یہ کیوں نہیں بتاتے کہ حضرت محمدؐ نے دین کی باتیں بتانے سے پہلے خود کوسماج سےبہترین معاشرتی رویوں کے حوالے سے منوایا، ہمارے رہنما کیوں نہیںبتاتے کہ محمد ؐ نے معاشرے کی اصلاح کے لئے زیادہ کام کیا، معاشرے کو رہنما اصول بتائے، حکومت وقت سیرت اتھارٹی بنا رہی ہے، سیرت بطور مضمون پڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں، قرآن خوانی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔

یہ سب درست ہے مگر اپنےسماجی رویوں پر غور کون کرے گا، کیا تم ایسا معاشرہ تشکیل دےسکتے ہو جو محمدؐ نے عرب کے جاہلوں کو سکھا کر تشکیل دیا تھا، کیا تم انصاف کا وہ معیار قائم کرسکتے ہو جو ریاست مدینہ میں کیا گیا تھا، اگر نہیں کرسکتے تو پھر غور کرو کہ تم محمدؐ کے راستے پر پوری طرح چل بھی رہے ہو یا نہیں؟

تاریخ بتاتی ہے کہ فلاں امت کی تباہی فلاں عمل کی وجہ سے ہوئی، برباد ہونے والی قومیں کسی ایک برے فعل کی وجہ سے تباہی کاشکار بنتی تھیں، کیا وہ تباہی کے تمام افعال تم میں موجود نہیں ہیں؟ کیا تمہارے معاشرے میں انسانوں کو ناحق قتل نہیں کیا جاتا، کیا تمہارے معاشرے میں ظلم کا رواج نہیں، کیا تم اپنے بھائیوں کی زمینوں ، جائیدادوں پر قبضے نہیں کرتے، کیا تمہارے سماج میں جھوٹ عام نہیں، کیا تمہارے مذہبی و سیاسی رہنما سچ بولتے ہیں۔

کیا کم تولنا عام نہیں، کیا معاشرے میںسود کا دھندہ نہیں، کیا تم ملاوٹ نہیں کرتے ہو، کیا تم مردہ اور حرام جانوروں کا گوشت حلال بتا کر فروخت نہیں کرتے، کیا تمہارے ہاں چوری اور ڈکیتی نہیں ہورہی، کیا تمہارے ہاں نفرت اور غصے کا اظہار نہیں ہو رہا، کیا تمہارے ہاں دھوکہ دہی رک گئی؟ کیا تم غیبت سے باز آگئے، کیا تم نے چغل خوری چھوڑ دی، کیاتم نے ذخیرہ اندوزی چھوڑی دی ہے، کیا رشوت کا کاروبار ختم ہوگیا، کیا ناجائز منافع خوری ختم ہوگئی، کیا ملک کی دولت لوٹنے کا چکر ختم ہوگیا، کیا تمہارے معاشرے میں ہمسایوں کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے، کیا بے روزگاروں کو روزگار مل گیا، کیا تمہارے معاشرے میں لوگ بھوکےسونا بند ہوگئے، کیا تمہارے ہاں صفائی کا اعلیٰ نظام قائم ہوگیا، کیا سونے جاگنے کے اوقات ٹھیک ہوگئے، کیا تمہارے معاشرے میں اخلاقیات کااعلیٰ معیار قائم ہو کر معاشرہ مثالی بن گیا، کیا تمہارے لوگ جہالت سے نکل آئے؟

اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے توپھر خالی تقریبات کا کیا مقصد؟ پھر تم محمدؐ کے راستے پر پوری طرح چلے ہی نہیں، تم اگر محمدؐ کے راستے پر گامزن رہتے تو دنیا تمہارے پیچھے ہوتی، تمہاری پیروکار بن جاتی مگر افسوس کہ تم نے مسلمان ہو کر دین احمدؐ کی عطا کردہ رہبری کو چھوڑ دیا، اب تم خالی نام کے مسلمان ہو، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمہارا عمل تمہاری عظمت کی گواہی دیتا۔ سونے جاگنے ہی پر بات کرلی جائے کہ کیا تم مسلمان درست ٹائم پر سوتے اور جاگتے ہو، دنیا میں ترقی کرنے والی قومیں سونے جاگنے میں خاص ترتیب رکھتی ہیں مگر تم راتوں کو خواہ مخواہ جاگتے ہو، تمہارے نبیؐ نےفرمایا کہ۔۔۔

جلدی سونے اور جلدی اٹھنے میں حکمت ہے

مگر تم نے اس فرمان کو نظر انداز کیا، جب رسولؐ نے یہ فرمایا کہ ’’عشاء کے بعد کوئی مجلس نہیں‘‘ تو پھر تمہارا تاجر رات دیر تک مارکیٹیں کھلی رکھنے پر کیوں بضد ہے، تمہارے سیاسی رہنما راتوں کو جلسے کیوں کرتے ہیں حتیٰ کہ تمہارے مذہبی رہنما بھی راتوں کو مذہب کے نام پر جلسے رکھ لیتے ہیں۔ ایک صدی پہلےاسی پہلو پر اقبالؒ رویا تھا اور اس نے ’’جواب شکوہ‘‘ میں کہا تھا کہ ؎

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے

ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

ماضی میں شاندار کردار ادا کرنے والے مسلمانوں کے حال پر اقبالؒ ہمیشہ دل گرفتہ رہے، اسی ملال میں وہ کہتے ہیں

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

اگر آج کی دنیا میں دیکھا جائے تو مسلمان قوم بہت پیچھے ہے، مسلمانوں کے ممالک قدرتی دولت سے مالا مال ہیں مگر مسلمان غلام بن کر رہ گئے ہیں، جدید کمالات میں مسلمانوں کا نام ہی نہیں، ہر طرف رسوائی بکھری پڑی ہے، وہ خود فرقہ بندی اور اختلاف کا شکار ہیں، کاش، مسلمان محمدؐ کے راستے پر پوری طرح چلتے، محمدؐ کے نام پر پرجوش نعرے لگانے والو!محمدؐ سے وفا یہی ہے کہ محمدؐ کا راستہ اپنایاجائے، ان کے راستے پر چلا جائے۔ اگر ایسا ہو تو پھر بقول اقبالؒ

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM