عمران خان اور قبل از وقت انتخابات

لاہور اور اسلام آباد کے باخبر اور صحافتی حلقوں میں یہ سوال اکثر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ملک قبل از وقت انتخابات کی طرف جا رہا ہے؟ حکومت کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے صحافیوں نے اِس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے کہ عمران خان وقت سے پہلے انتخابات کروانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس بات سے قطع نظر کہ یہ انتخابات تحریک انصاف کے لیے کس حد تک مفید یا نقصان دہ ہوں گے، اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ پاکستان کی تقدیر کے لیے بہتر ثابت ہوگا یا نہیں؟ عمران خان بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ اقتدار کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔

کرکٹ کی دنیا سے سیاست کے میدان تک ہر مقام پر پاکستانی قوم نے اُنہیں سر آنکھوں پر بٹھایا تھا، جس میدان کی طرف انہوں نے قدم بڑھایا کامیابی اُن کا مقدر بنی۔

سماجی خدمت کے راستے میدانِ سیاست میں داخل ہوئے تو وہی امیدیں وابستہ کر لی گئیں جو کرکٹ اور شوکت خانم اسپتال بناتے وقت وابستہ کی گئی تھیں۔

عمران خان مسلسل محنت کی بدولت 2018کے انتخابات میں مسندِ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، عمران خان نے احتساب کے نعرے پر انتخاب لڑا تھا، چوروں اور ڈاکوؤں کے پیٹ سے رقم نکالنے کے دعوے کیے، احتساب کے کوڑے کے ذریعے ملک کی طاقتور اشرافیہ کو درست سمت پر لانے کا عہد کیا تھا

ڈی چوک کا کنٹینر ہو یا ملک کے طول و عرض میں منعقد کیے جانے والے بڑے بڑے جلسے، ہر مقام پر عمران خان کا یہی نعرہ تھا کہ وہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ آج ان کے انتخاب کو تین سال سے زائد عرصہ گزرگیا ہے لیکن نہ تو کسی مجرم کو سزا ملی ہے اور نہ ہی بیرونِ ملک سے اربوں ڈالر تو کیا ایک دھیلا بھی واپس آیا ہے۔

آج عمران خان کا ووٹر مایوسی کا شکار ہے، احتساب کے حوالے سے حالیہ ترمیمی بل نے ان کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، بادی النظر میں یوں لگتا ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاستدانوں کا ایک نیا ایڈیشن ہیں۔ ان کے اردگرد بھی وہی لوگ ہیں جو پہلے حکمرانوں کی کچن کیبنٹ کا حصہ ہوتے تھے۔

چینی بحران پیدا کرنے والے عناصر عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں، آٹے کے بحران سے فائدہ اٹھانے والے لوگ عمران خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں، حکومتی اسٹیج سے اب بھی احتساب کی تقریریں ہوتی ہیں، اب بھی پیٹ پھاڑ کر دولت باہر نکالنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں اقتدار میں آئے ہوئے تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن ان کے کریڈٹ میں سوائے نعروں کے اور کچھ نہیں۔

نئے پاکستان میں معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے، خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ جو دوست ممالک پہلے عطیہ کے طور پر ریال دیا کرتے تھے اب کڑی شرائط کے ساتھ بھاری شرح سود پر پاکستان کو قرض دیتے ہیں۔ سالانہ شرح ترقی تباہی کی حد تک گر چکی ہے، بےروزگاری میں بےتحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، بیرونی سرمایہ کاری میں 30فیصد کمی ہو چکی ہے

حکومت کی متلون مزاجی کا یہ عالم ہے کہ تین برسوں میں تین وزرائے خزانہ لگائے گئے، ایجوکیشن جیسے محکمہ کے سیکرٹری 9مرتبہ تبدیل ہوئے، ایف بی آر کے چیئرمین 6مرتبہ تبدیل کیے گئے

بورڈ آف انویسٹمنٹ اور کامرس کے سیکرٹری 4مرتبہ تبدیل ہوئے، عدلیہ بھی انحطاط کا شکار نظر آرہی ہے، لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران کی جانے والی تقاریر نے اِس ادارے کے حوالے سے معاشرے میں پائے جانے والے اضطراب کو واضح کیا ہے۔

حکومتی وزراء نجی مجالس میں کھل کر اپنی حکومت سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور دیگر بڑی جماعتوں کے ساتھ آئندہ انتخابات کیلئے ٹکٹ کے حصول کی دوڑ میں سرگرم ہیں۔ دوسری طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نظر نہیں آ رہیں۔

عمران خان کی حکومت تین سال سے یہی صفائیاں دے رہی ہے کہ ان کا اقتدار اداروں کی اشیر باد کے مرہونِ منت نہیں بلکہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے برسراقتدار آئے ہیں .

لیکن عوام یہ بات ماننے کو تیار نہیں، آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے موقع پر حکومتی بدتدبیری سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں جو دراڑ آئی ہے، وہ ختم نہیں ہو سکی اور پھر ان کی بری کارکردگی کا سارا بوجھ اداروں کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے ورنہ خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ اداروں نے کب حکومت کو روکا ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کریں؟ ادارے کب یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کرپشن کے خلاف اقدامات نہ کرے؟ ادارے کب یہ پسند کریں گے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری نہ آئے لیکن بدانتظامی، بےتدبیری اور نالائقی کا ملبہ اداروں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ادارے مزید اب یہ بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ملک کو اس صورتحال سے دوچار کرنے میں اپوزیشن بھی برابر کی شریک ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سود مند کردار ادا نہیں کیا۔ ان کی ساری توجہ اپنے ذاتی مقدمات تک محدود ہے۔

ان کی تقاریر میں الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے پاس موجودہ مسائل سے نمٹنے کا کوئی فارمولا موجود نہیں۔ حکومت کے اچھے کام کی بھی مخالفت کی جاتی ہے اور برے کام کی بھی۔

اس بھاری بھرکم اپوزیشن میں میاں شہباز شریف جیسے تجربہ کار، آصف علی زرداری جیسے جہاں دیدہ، بلاول بھٹو زرداری جیسے سرگرم، سید یوسف رضا گیلانی جیسے متحمل مزاج اور خواجہ سعد رفیق جیسے پُرجوش سیاستدانوں کی موجودگی کے باوجود وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام رہے بلکہ حالات میں بہتری کے لیے وہ مثبت تجاویز بھی پیش نہ کر سکے۔

عمران خان جو دلیرانہ فیصلے کرنے میں شہرت رکھتے ہیں، ان کے لئے سنہرا موقع ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات کرا کے نیا مینڈیٹ حاصل کریں۔

نیا مینڈیٹ احتساب کے نعرے کے ساتھ ساتھ نئے ڈیم بنانے، گیس اور بجلی کے بحران کے حل، معاشی سرگرمیوں کے فروغ، بےروزگاری کے خاتمے جیسے نکات پر مشتمل ہو۔ ملک کی موجودہ صورتحال کو سنبھالنا اب اکیلے تحریک انصاف کے بس کی بات نہیں۔

تمام سیاسی اشرافیہ کو مل کر کوئی ایک لائحہ عمل طے کرنا ہوگا تب جاکر اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا ہو سکے گی۔

جناب عمران خان نے اگر یہ فیصلہ کرنے میں مزید کچھ ماہ ضائع کردیے تو ان کے اقدامات بے فائدہ ہونگے۔ اسلئے عمران خان آگے بڑھیں، ملک و قوم کے مفاد میں نئے انتخابات کا اعلان کریں۔ عوام کی عدالت بہترین فیصلہ کرے گی۔

یاد رکھیں، تاریخ کے صفحات پر بہادری سے فیصلہ کرنے والے موجود رہتے ہیں جبکہ اگر مگر کا شکار رہنے والے لیڈروں کے نام تاریخ کی گرد میں گمنامی کی نذر ہو جاتے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM