بلاگ
02 دسمبر ، 2021

نمو کے ساتھ استحکام

پالیسی ریٹ میں اضافے کی مقدار کا فیصلہ کرتے وقت ایم پی سی نے کئی عوامل کا جائزہ لیا۔ —فوٹو فائل
پالیسی ریٹ میں اضافے کی مقدار کا فیصلہ کرتے وقت ایم پی سی نے کئی عوامل کا جائزہ لیا۔ —فوٹو فائل

پاکستان کی معاشی نمو کی تاریخ اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ اس میں استحکام کا فقدان ہے۔ بار بار کے ’بوم بسٹ‘ کے ادوار ،تیز معاشی نمو کے بعد کریش ہمارے شہریوں کے روزگار میں غیریقینی کیفیت پیدا کرتے ہیں اور کاروباری اداروں سے طویل مدت کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔

 ان بار بار کے ’بوم بسٹ‘ ادوار کی ایک کلیدی وجہ اوورہیٹنگ کو روکنے کے لیے تاخیر سے کیا جانے والا پالیسی اقدام ہے۔ 

19نومبر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 150 بیسس پوائنٹس بڑھانے اور نمو کی رفتار کو معتدل کرنے کا فیصلہ نموکے ساتھ استحکام کو قائم رکھنے کے مقصد کی جانب ایک قدم ہے۔ 

اس تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ایم پی سی کا اجلاس ایک ہفتہ پہلے کیوں بلایا، 150 بیسس پوائنٹس اضافہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں اور مرکزی بینک مختصر مدت میں نمو کے ساتھ استحکام کو قائم رکھنے کے لیے زری پالیسی کو کس طرح ارتقا پذیر ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے؟  ان تین اہم سوالات کاجواب دینے سے پہلے یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پالیسی ریٹ پر 19 نومبرکے اقدام کے ساتھ زری پالیسی بدستور نمو کی معاونت کررہی ہے ،جیسا کہ مسلسل منفی حقیقی شرح سود سے ظاہر ہے۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ اس مالی سال میں نمو 5 فیصد کے لگ بھگ رہے گی جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔

ستمبر کے زری پالیسی بیان میں ایم پی سی نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ زری پالیسی کو بہت زیادہ معاون رکھنے کا سلسلہ جو مارچ 2020 میں کووڈ کے آغاز کے بعد برقرار رکھا گیا تھا ،اب درکار نہیں ہے۔ اس پالیسی ردعمل سے پاکستان کو کووڈ دھچکے سے جلدی اور دنیا کے تقریباً کسی بھی ملک کے مقابلے میں کہیں کم معاشی نقصان کے ساتھ باہر نکلنے میں مدد ملی۔ 

تاہم پچھلے موسم گرما سے نمو میں مسلسل اضافے اور وائرس کی ڈیلٹا شکل سے متعلق خوف کم ہونے کی بنا پر ایم پی سی نے یہ نوٹ کیا کہ اوورہیٹنگ کو روکنے کے لیے زری تحریک کو بتدریج کم کرنا مناسب ہوگا۔ چنانچہ ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھایا گیا اور نادیدہ حالات کی عدم موجودگی میں مستقبل کے اقدامات بتدریج ہونے کی توقع تھی۔

تاہم اس کے بعد سے معاملات پورے طور پر اس طرح سامنے نہیں آئے جیسا ایم پی سی نے توقع کی تھی۔ خاص طور پر ملکی اور عالمی عوامل دونوں کی بنا پر مہنگائی اور جاری کھاتے کا خسارہ توقع سے کسی قدر زیادہ رفتار سے بڑھے ہیں۔ ساتھ ہی معاشی نمو کے امکانات بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ تخمینوں اور اصل صورت ِحال کے درمیان اس طرح کا فرق کووڈ جیسے عدیم النظیر دھچکے سے متعلق غیریقینی کیفیات کی بنا پر اور نمایاں ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند ماہ کے دوران اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں اور عالمی مہنگائی کی صورت ِحال دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔

جب اصل صورت ِحال تخمینوں سے مختلف ہو تو مستقبل کو دیکھنا اور نئی معلومات کی روشنی میں بہترین راستے کا ازسرنو انتخاب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی تناظر تھا جس میں ایم پی سی اجلاس کی تاریخ آگے کی گئی۔ 

اس کے علاوہ بہترین بین الاقوامی طور طریقوں سے سیکھتے ہوئے ایم پی سی اجلاسوں کی تعداد بھی ہر سال 6 سے بڑھا کر 8 کردی گئی جس سے یہ ممکن ہوگیا کہ مستقبل میں اصل صورت ِحال کے تخمینوں سے انحراف کی صورت میں تیزی سے اپنا راستہ درست کیا جاسکے۔

پالیسی ریٹ میں اضافے کی مقدار کا فیصلہ کرتے وقت ایم پی سی نے کئی عوامل کا جائزہ لیا۔ چونکہ مہنگائی اور جاری کھاتے کی صورت ِحال دونوں اُس سے کسی قدر زیادہ رہی ہیں جتنا ستمبر کے ایم پی سی اجلاس کے وقت توقع کی جارہی تھی اس لیے زری تحریک کو بتدریج کم کرنے کی رفتار بھی کسی قدر اس تدریجی رفتار سے زیادہ رکھنے کی ضرورت تھی جتنا اُس وقت توقع کی گئی تھی۔ایم پی سی اجلاس مقررہ وقت سے قبل بلانے کے اعلان سے پہلے بھی تجزیہ کاروں نے نومبر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کم از کم 100 بیسس پوائنٹس اضافے کا اندازہ لگالیا تھا۔ بغور جائزے کے بعد ایم پی سی اس نقطہ نظر پر پہنچی کہ پالیسی ریٹ کو 150 بیسس پوائنٹس بڑھانے سے مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے کے منظرنامے کو تحفظ دینے کے درمیان مناسب توازن قائم ہوسکے گا اور ساتھ ہی ساتھ مستحکم نمو کو تقویت ملے گی۔

تو پھر زری پالیسی کے مستقبل کے راستے کے حوالے سے 19 نومبر کے اقدام سے کیا نتائج نکلتے ہیں؟ جنوری سے جب ایم پی سی نے مستقبل کی رہنمائی فراہم کرنا شروع کی اس کا محور دو اجزا ہیں: (الف) معمولی سی مثبت حقیقی شرح سود کا حتمی ہدف اور (ب) وہ رفتار جس سے یہ ہدف حاصل کیا جائے گا۔ حتمی ہدف تبدیل نہیں ہوا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے میں توقع سے زیادہ اضافے کے پیش نظر یہ مناسب ہے کہ اس کے حصول کی رفتار کسی حد تک تیز کی جائے۔ 19 نومبر کا اقدام اس سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ نتیجے کے طور پر اس وقت دستیاب معلومات کے پیش نظر ایم پی سی کو توقع ہے کہ آئندہ کے اقدامات مقدار میں کم ہوں گے، اس طرح کہ اب معمولی سی مثبت شرح سود تک کا راستہ بہت تیزی سے چڑھائی کا نہیں ہوگا۔

جب نمو مضبوط ہوتی ہے تو کم از کم مزاحمت کا راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے نمو کو نقصان پہنچتا ہوا معلوم ہو۔ تو پھر کیوں نہ رجحان کے ساتھ چلیں اور کسی بھی ایسے قدم سے گریز کریں جس میں غیرمقبولیت کا خطرہ ہو۔ اگر بسٹ ہوتا ہے تو الزام ہمیشہ بیرونی عوامل پر لگایا جاسکتا ہے جو پالیسی سازوں کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ تاہم اس طرح کے راستے سے اجتناب کرنا ہوگا کیونکہ اس سے ہمارے ماضی کی طرح کے بوم بسٹ ادوار کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ ماضی سے ناتہ توڑ کر پالیسی کو یوں استوار کیا جائے کہ استحکام اور نمو کو مساوی وزن دیا جائے۔ ہم اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ تاریخ کو اپنا مستقبل چھین لینے کی اجازت دیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM