Time 18 دسمبر ، 2021
پاکستان

پشاورمیئر کے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے جانے کا الزام، خاتون پریذائیڈنگ افسر شوہر سمیت گرفتار

اپوزیشن جماعتوں نے پشاور نیبرہُڈ کونسل 33 اور34 میں میئر کے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔

پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اطلاع ملنے پر تحصیل گورگھٹڑی کے پولنگ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور اسکول میں داخل ہوگئے۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ اسکول میں پہلے سے ہی بیلٹ پیپرزپر مہریں لگائی جارہی ہیں جبکہ اس دوران اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما بھی پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے۔

رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے جیونیوز سےگفتگو میں دعویٰ کیا کہ پولنگ اسٹیشن این سی 32 میں 25 مہر لگے بیلٹ پیپرز ملے ہیں، پی ٹی آئی کےامیدوارکو5 ہزارجعلی ووٹ ڈالےجارہےتھے اور اسٹمپ لگانےکا عمل صبح سےجاری تھا۔

پریذائیڈنگ افسر اور ان کاشوہر گرفتار 

صوبائی الیکشن کمشنر شریف اللہ نے تحصیل گورگھٹڑی پہنچ کر پریذائیڈنگ افسر اور ان کے شوہر کو گرفتار کرا دیا۔

میڈیا سے گفتگو صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا تھاکہ پریذائیڈنگ آفیسر اور ان کےشوہرکو تھانے منتقل کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھاکہ تمام موادکو نئے عملے کے حوالے کیا جائے گا، ابھی پولنگ شروع نہیں ہوئی تو دھاندلی کیسے ہوسکتی ہے؟ کوئی بیلٹ پیپرخراب نہیں ہوا، وقت سے پہلے بیلیٹ پیپر نہیں کھل سکتا، پولنگ کے دن کھلےگا۔

پولنگ عملہ تبدیل

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے گورگھٹڑی زنانہ پولنگ اسٹیشن واقعےکا نوٹس لے لیا اور پولنگ عملےکو فوری طور ہٹا دیا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام پولنگ مواد اور بیلٹ پیپرز محفوظ ہیں، ذمے داروں کی خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل

قومی وطن پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھاکہ پشاور میں بیلٹ پیپرز پر ٹھپوں کا معاملہ باعث تشویش ہے، اس واقعے سے پورا انتخابی عمل مشکوک ہو چکا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن پس پردہ عناصر کو بے نقاب کر کے سامنے لائے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی امیدوار کے ساتھیوں کو میئر کے بیلٹ پیپرز کی کاپیاں دی گئیں۔

اے این پی نے الزام عائد کیا کہ پولنگ اسٹیشن کی انچارج حلیم شیرازی کی اہلیہ ہے، یہ ڈیوٹی کامران بنگش کے ایما پر لگائی گئی ہے، میئر کے بیلٹ پیپرز لیک ہوچکے ہیں،کل استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔

مبینہ واقعے سے متعلق مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی، خیبرپختونخوا حکومت

اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھاکہ اپوزیشن اپنی خفت مٹانے کیلئے ڈارمےبازیاں کررہی ہے، تمام پولنگ عملہ الیکشن کمیشن کی مرضی سےتعینات ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے، شفاف الیکشن اس کی ذمہ داری ہے، حکومت پرامن انتخابات کرانے کیلئے ذمےداریاں پوری کررہی ہے۔

بیرسٹر سیف نے اعلان کیا کہ مبینہ واقعے سے متعلق مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔

مزید خبریں :