بلاگ
27 جنوری ، 2022

ٹریفک پولیس کے لیے چند تجاویز

ہمارے ہاں ہر آدمی دوسرے آدمی کے چھابے میں ہاتھ مارنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ غالباً اس کا یہ خیال ہوتا ہے کہ دوسرے کے چھابے میں زیادہ بہتر،قیمتی اور کارآمد مال ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے ادارے بھی یہی کر رہے ہیں۔ اس ’’دست درازی‘‘ کا نقصان یہ ہوا ہے کہ معاملات بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنا اپنا کام کرتے رہنے میں عافیت بھی ہے اور بہتری کا امکان بھی لیکن یہ دونوں چیزیں شاید ہمیں درکار ہی نہیں۔ ہمیں مشکل اور بدترین حالات میں جینا زیادہ اچھا لگتا ہے۔

ٹریفک پولیس سڑکوں پر چھوٹی بڑی گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن یہ ریونیو اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ ٹریفک پولیس کا زیادہ زور چالان کرنے پر ہوتا ہے شاید انہیں چالانوں کی مخصوص تعداد کا ٹارگٹ بھی دیا جاتا ہو، یہی وجہ ہے کہ جس وقت ٹریفک وارڈنوں کو سڑکوں پر زیادہ مستعدی کے ساتھ ٹریفک کا بہائو قائم رکھنا چاہئے اس وقت وہ زیادہ سے زیادہ چالان کاٹنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے میں یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ حالیہ چند دنوں میں ٹریفک پولیس نے میرا کوئی چالان نہیں کیا۔میرا چالان ہو بھی کیسے، میری جیب میں میرا قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ ہر وقت موجود ہوتاہے۔سیٹ بیلٹ میں ہمیشہ باندھتا ہوں، اشاروں کی پابندی کرتا ہوں، سڑک پر سفید اور زرد رنگ کی ساری لکیروں کا مفہوم سمجھتا ہوں اور کوئی ٹریفک وارڈن اگر رکنے کا اشارہ کرے تو فوراً رک جاتا ہوں۔ یہ صورتحال آپ کو بہت آئیڈیل لگ رہی ہو گی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ 

جی جناب! ایسا ممکن ہے بہت سے باشعور اور پڑھے لکھے لوگ سڑک پر گاڑی لانے سے پہلے میری طرح خود کو ہر ’’ہتھیار‘‘ سے لیس کر لیتے ہیں لیکن قربان جائیے ٹریفک پولیس کی مردم شناسی کے، وہ عام طور پر انہی باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں کو روکتی ہے،کاغذات چیک کرتی ہے (جو اس کا حق ہے) اپنا اور ان کا قیمتی وقت ضائع کرتی ہے،

 تجویز میری یہ ہے کہ گاڑی چلانے والے ایسے لوگ جو سڑک پر اپنے سارے کارڈز چیک کرا چکے ہوں، ٹریفک پولیس ان کےلیے بہترین شہری (THE BEST CITIZEN)کے سٹکر جاری کرے یہ سٹکر گاڑی کی سامنے والی سکرین پر لگا ہوا ہونا چاہئے تا کہ مختلف سڑکوں پر کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار انہیں بار بار روک کر ان کا اور اپنا وقت برباد نہ کریں۔ یوں ٹریفک پولیس کو ان لوگوں کوپکڑنے اور سدھارنے کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا جو قوانین کی پابندی کرنے کے عادی نہیں۔ بہترین شہری کا سٹکر ہر ضلع کے ٹریفک ہیڈ کوارٹرز سے جاری ہونا چاہئے۔ ہر شہری وہاں جائے ٹریفک سے متعلقہ اپنی ساری دستاویزات دکھائے، سٹکر حاصل کرے اور اپنی گاڑی پر لگالے۔

ان دنوں ہماری ٹریفک پولیس، ریونیو اہلکاروں کی طرح حکومت کو مال کما کر دینے میں مصروف ہے۔ اس لیے میں نے کہا تھا کہ ہمارے ہاں ہر آدمی اور ہر ادارہ دوسرے کے چھابے میں ہاتھ مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ون وے کی خلاف ورزی اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر دو دو ہزار روپے کے چالان کئے جا رہے ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی بظاہر معمولی سا جرم لگتا ہے لیکن اس کے نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

 بہت سی قیمتی جانیں صرف ون وے کی خلاف ورزی کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر سہی، ٹریفک پولیس نے اس سلسلے میں مستعدی دکھائی ہے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے سڑکوں پر گاڑی لانے والے لوگ ہر گز قابل معافی نہیں۔ ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہئے جو ان دنوں ہو رہا ہے چالان کے نام پر ان سے اتنی رقم وصول کرلی جاتی ہے جو ان کی ایک روز کی آمدن سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ٹریفک سے متعلق ایک معاملہ تاحال ایسا ہے جس پر شاید ابھی تک عدالت عظمیٰ کی نظر پڑی ہے نہ ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کی۔ میٹرک اور انٹر میں پڑھنے والے لاکھوں نوجوان موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر صبح سویرے اپنے تعلیمی اداروں میں پہنچتے ہیں۔ دوپہر کو واپس گھر بھی جاتے ہیں۔ یہ تمام بچے ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلاتے ہیں، ان میں سے کچھ کے کبھی کبھار چالان بھی ہوجاتے ہوں گے۔ 

عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں لرننگ ڈرائیونگ لائسنس بھی اٹھارہ سال کی عمر میں بنتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت ہنسی آتی ہے جب ٹریفک پولیس کی ایجوکیشن یونٹ کے باوردی افسر اور اہلکار سکولوں، کالجوں میں جاکر میٹرک اور انٹر کے طلبہ کو اپنے سامنے بٹھا کر ڈرائیونگ لائسنس کی اہمیت پر لیکچر دیتے ہیں۔ ان کے لیکچر سننے کے بعد بھی یہ نوجوان اٹھارہ سال کی عمر تک بغیر ڈرائیونگ لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر مجبور ہیں۔

 ٹریفک قوانین میں ترمیم کرکے سولہ برس کے نوجوانوں کو اگر اسٹوڈنٹ لرننگ ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے تو اس سے صورتحال میں خاصی بہتری آ سکتی ہے، اس لرننگ لائسنس کے بغیر بھی تو وہ دو اور چار پہیوں والی گاڑیاں سڑکوں پر اڑائے ہی پھرتے ہیں تو اس سارے معاملے کو معمولی سی ترمیم کرکے ریگولرائز کیوں نہ کر لیا جائے۔

یہ ایک معمولی سی تجویز ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے بہت کچھ بدل سکتا ہے اس تجویز پر عمل درآمد کرانے کے لیے اسمبلی میں ٹریفک قوانین سے متعلق ایک چھوٹا سا ترمیمی بل پیش کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بل بغیر کسی پس وپیش کے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان فوراً منظور کر لیں گے، ٹریفک پولیس کے ایجوکیشن یونٹ کے افسر اور اہلکار جب اسٹوڈنٹ لرننگ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والے طلبہ کے سامنے ٹریفک قوانین پر پابندی کا لیکچر دیں گے تو اس کا کچھ نتیجہ بھی نکلے گا۔ٹریفک پولیس اگرواقعی ٹریفک کا نظام درست کرنے کی آرزو مند ہے اور اس کا مقصد صرف ریونیو حاصل کرنا نہیں تو اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی قدم اٹھائے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM