بلاگ

پی ٹی آئی کیسے واپس آئے گی؟

قوم کو 4سال بعد ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی جانب سے پی ٹی آئی کی کارکردگی کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم کرپشن میں صرف 16درجےتنزلی کا شکار ہوئے۔ یعنی ماضی کی کرپٹ ترین حکومتوں کو بھی ہم نے پیچھے چھوڑ دیا اور 180ممالک کی فہرست میں 124سے 16درجے تنزلی کے ساتھ 140ویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں اور ابھی اس حکومت کاڈیڑھ سال باقی ہے۔ محترم عمران خان اس کو کہاں تک پہنچا کر دم لیں گے؟

فی الحال تو یہ دعویٰ کردیا ہے کہ اگلی حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہوگی۔ بالکل ایسے جیسے پی پی پی حکومت میں جیالوں نے لاہور کی سڑکوں پر آخری دنوں میں ایک بہت طویل جلوس نکالا تھا اور یہ مقبول ترین نعرہ ایجاد کیا تھا کہ ’’اگلی باری فیرزرداری فیرزرداری ‘‘مگر جب قوم نے ووٹ ڈالے تو مسلم لیگ (ن)کو ووٹ ڈالے اور پی پی پی سندھ کے علاوہ تمام صوبوں سے فارغ ہو گئی۔ تو اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو لانچ کیا گیا مگر اگلے ہی الیکشن میں مسلم لیگ (ن)بھی بری طرح فارغ ہو گئی۔

 اور 30سالہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، آسمانی اور سلطانی طاقتوں نے پی ٹی آئی کے لئے تمام بڑے بڑے بت گراڈالے جس میں فضل الرحمٰن جن کی شخصیت ہر آنے والی حکومت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی رہی ہے، وہ پہلی مرتبہ اپنا بوریابستر سرکاری مہمان خانے سے سمیٹ کر ذاتی گھر کو روانہ ہوئے، یہیں پر بس نہیں ہو ادیگر تمام پارٹیوں کے سربراہان بھی اپنے اپنے ذاتی گھروں کو واپس لوٹ گئے اور قومی اسمبلی کی پہلی حاضری میں بلاول بھٹو زرداری جو نومولود تھے انہوں نے قومی اسمبلی میں سلیکٹیڈ وزیر اعظم کا نعرہ لگا یا جو عمران خان کی حکومت میں امر ہو گیا اور آج تک ان کو اسی نام سے پہچانا اورپکارا جاتا ہے اور پھر قوم نے دیکھا کہ تبدیلی کے نام پر پی ٹی آئی حکومت نے یو ٹرن لینے کے وہ ریکارڈ توڑے کہ پوری قوم ہی دنگ نہیں رہی بلکہ تمام کرپٹ سیاستدان قوم کو فرشتہ لگنے لگے ہیں۔

 اب ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ پر کچھ تبصرہ ہو جائے، 4سال میں پی ٹی آئی نے 2ایسے بہادر انسان بھی پیدا کئے جو ماضی کے عمران خان سے مشابہہ دکھائی دیتے ہیں جن میں سے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کو شوکاز کر کے پی ٹی آئی سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ دوسرے رکنِ قومی اسمبلی نور عالم خان کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی غیر متو قع رپورٹ نے جان بچالی، اب وہ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی پوری رپورٹیں کھلے ذہن سے پڑھو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

خود نیب کو دیکھیں 4سال میں تمام ثبوت ہونے کے باوجود پارٹی فنڈنگ کا فیصلہ نہیں آسکا اور رنگ روڈ کے دست راست شہریار آفریدی خاموشی سے بچا لئے گئے، الٹا وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سربراہ عادل گیلانی پر بھی حزب اختلاف کے ساتھ ساز باز کا الزام لگا کر حیرت میں ڈال دیا کہ موصوف کو سربیا میں مسلم لیگ (ن)کے نواز شریف نے سفیر لگا دیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ پی ٹی آئی کے درجنوں افراد نیب اور الیکشن کمیشن کے مقدمات میں سرخرو ہو جائیں گےاورپی ٹی آئی آخری معرکے میں الیکشن سے کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کے سرکردہ رہنمائوں پر نااہلی کی تلوار لٹکائے گی جس کی اس کو مکمل سرپرستی حاصل ہو گی اس میں کانٹ چھانٹ کر کے وہی سابقہ پالیسی یعنی الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شامل کر لے گی اور رہی سہی کسرای وی ایمزپوری کر دیں گی۔ 

پھر 90لاکھ غیر ممالک میں رہنے والوں کے ووٹ کام دکھا جائیں گے، یوں عمران خان کی اگلا الیکشن جیتنے کی پیش گوئی حقیقت بن کر قوم پر مسلط کر دی جائے گی۔حزب اختلا ف اور پی ٹی آئی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)کے دوستوں کو خاموش کرادیا جائے گا اور ان کو پھر شامل رہنے کا مشورہ دیا جائے گا، ان کی کرپشن کے حوالے دے کر چپ کرایا جائے گا، تو لا محالہ یہ سارے فیکٹرز کام آئیں گے۔ عوام پر دوبارہ بیروزگاری، مہنگائی، گیس،بجلی، پیٹرول بم گرانے کا سلسلہ شروع ہو گا اور 10سال تک یہی عذاب مسلط رہے گا۔

 عوام کو ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کی طرف نہیں لوٹنے دیا جائے گا۔ خواہ 23مارچ2022کے عوام مارچ کا پروگرام بنا لیں۔ پی ڈی ایم میں مزیدٹوٹ پھوٹ کرانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔نہ ہی پی پی پی کو پی ڈی ایم میں شامل ہونے دیا جائے گا ورنہ سندھ کی حکومت ڈول جائے گی نہ ہی اتحادیوں کو ملک سے باہر جانے دیا جائے گاتاوقتیکہ پی ٹی آئی حکومت کی 100فیصد واپسی کی ضمانت نہیں مل جاتی۔ آج تک فیصل واوڈا کی دہری شہریت کا بھی فیصلہ نہیںہو سکا اور نہ ہونے دیا جا رہا ہے ورنہ وہ ڈس کوالیفائی ہو چکا ہوتا۔ایسے ہی جیسے ماضی میں پی پی پی حکومت میں ہوتا تھا۔ یہ ہیں ریاستِ مدینہ کے کمالات جو قوم نے گزشتہ قریباً 4سال میں دیکھے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔