Geo News
Geo News

دنیا
01 نومبر ، 2012

امریکا :سینڈی سے ہلاکتوں کی تعداد 60ہو گئی

 امریکا :سینڈی سے ہلاکتوں کی تعداد 60ہو گئی

نیویارک… خوفناک سمندری طوفان سینڈی امریکا میں تباہی مچانے کے بعد کینیڈا پہنچ چکا ہے۔سینڈی سے ہلاکتوں کی تعداد 60ہو گئی۔ امریکا کی مشرقی ریاستوں میں امداد اور صفائی کا کام جاری ہے۔ بعض علاقوں میں کاروبارِ زندگی بتدریج بحال ہورہا ہے۔سینڈی طوفان امریکا سے گذرچکا ہے مگر اس کے نقش باقی ہیں جنہیں مٹانے کے لیے طویل مدت اور کثیر سرمایہ درکار ہوگا۔طوفان نے مغربی ورجینیا ، ورجینیا ، واشنگٹن ڈی سی، میری لینڈ ، اوہائیو ، نیویارک اور نیوجرسی سمیت کئی علاقوں کو روند ڈالا۔مشرقی ساحلی ریاستوں میں عوام اور امدادی کارکن گرنے والی عمارتوں کا ملبہ ، ٹوٹے ہوئے درخت اور کھمبے ہٹانے میں مصروف ہیں ، کوڑا کرکٹ اور کیچڑ اٹھایا جارہا ہے تاکہ زندگی جلد ازجلد معمول پر آسکے۔نیویارک میں بھی صفائی اور تعمیر و مرمت کا کام شروع ہوچکا ہے۔دو دن کے تعطل کے بعد نیویارک اسٹاک ایکس چینج میں صبح روایتی گھنٹی کی آواز کے ساتھ کام شروع ہوا ، جو اس بات کی علامت تھی کہ شہر کیاہم ترین کاروباری مرکز مین ہیٹن میں زندگی معمول پر لوٹنا شروع ہوگئی ہے۔تاہم اسٹاک ایکس چینج کے ارد گرد واقع ہزاروں رہائشی عمارتیں اور کاروباری مراکز بدستور بجلی سے محروم ہیں۔ جان ایف کینیڈی ائر پورٹ اور نیو یارک لبرٹی ائرپورٹ سے اگرچہ پروازوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے لیکن ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔ سڑکوں پر بسیں بھی چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ نیویارک کا زیر زمین ریلوے نظام ابھی تک معطل پڑا ہے حکام نے لاگارڈیا ائر پورٹ اور سب وے سروس بھی آج جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست نیوجرسی میں تباہی کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صدر بارک اوباما نے نیوجرسی کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا۔ برائنٹن کے ایک ایمرجنسی شیلٹر میں متاثرین سے ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کے مکمل بحالی تک امدادی کام جاری رہیں گے۔ ماہرین کا کہناہے کہ سینڈی سے پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 50 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ 60سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں شہری بجلی، پانی، ٹیلی فون اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ طوفان کی وجہ سے منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ امریکا کے تین ایٹمی پاور ری ایکٹرز بھی بدستور بند ہیں۔

مزید خبریں :