07 اپریل ، 2022
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری اصلاحات کے بعد صاف شفاف انتخابات کرائیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ الیکٹورل ریفارمزکی طرف فوری توجہ دیں گے، وقت ضائع نہیں کریں گے، پی ٹی آئی اراکین کے استعفے کی خبریں پہلے بھی چل رہی تھیں، پی ٹی آئی اراکین کے استعفے سے تحریک عدم اعتماد متاثر نہیں ہوگی، ہمارے پاس ایوان میں 178 اراکین موجود ہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ خط کا ڈرامہ تو وفاق میں تھا ، پنجاب میں تو کوئی خط نہیں وہاں کیوں نے ووٹنگ کرائی جارہی؟
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ضروری اصلاحات کے بعد صاف شفاف انتخابات کرائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2018 میں ڈالر 125 پر تھا، آج 190 پر آگیا ہے، ہمارا کیا قصور ہے؟
سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور قومی اسمبلی کی تحلیل غیر آئینی قرار دینے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ 8صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین اور قانون سے متصادم قرار دی جاتی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے، موجودہ کیس ان معاملات پر نمٹایا جاتا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ابھی زیر التوا ہے، وزیراعظم تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد آرٹیکل 58 کے تحت پابند تھے اور ہیں، وزیراعظم کسی بھی وقت صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کر سکتے، وزیراعظم کی صدر مملکت کو 3 اپریل کی سفارش کی قانونی حثیت نہیں، صدر مملکت کا قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم آئین کے منافی ہے، صدر مملکت کے اسمبلی تحلیل کرنے کے حکم کی قانونی حیثیت نہیں، صدر مملکت کا آرڈر کالعدم قرار دیا جاتا ہے، قومی اسمبلی بحال کی جاتی ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت، نگران وزیراعظم کے نام کی سفارش کے صدارتی احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں، وزیراعظم، تمام کابینہ ممبران، مشیران اور وزراء کو ان کے عہدوں پر بحال کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اسی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، اسپیکر سمیت تمام حکام پابند ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کریں۔