31 مئی ، 2022
کیا آپ نے کبھی چارلی ہارس کا نام سنا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ نہ سنا ہو مگر ایسا ممکن ہے کہ آپ کو اس کا تجربہ ہوا یعنی پنڈلی میں اچانک شدید تکلیف جس میں مسلز تکلیف دہ حد تک اکڑ جاتے ہیں ۔
اسی تکلیف دہ درد کو طبی زبان میں چارلی ہارس کہا جاتا ہے جس کا دورانیہ چند سیکنڈ سے چند منٹ ہوسکتا ہے مگر متاثرہ حصے کے مسلز کئی گھنٹوں تک تکلیف کا شکار رہتے ہیں۔
اس تکلیف یا چارلی ہارس کا سامنا کسی بھی وقت ہوسکتا ہے مگر 60 فیصد بالغ افراد کو اس کا تجربہ رات کو ہوتا ہے جبکہ بھاگنے دوڑنے یا تیراکی جیسی سرگرمیوں کے دوران بھی ایسا ہوسکتا ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس تکلیف میں کمی یا اس کی روک تھام آسانی سے کرسکتے ہیں۔
عموماً چارلی ہارس کی وجہ مسل کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے تو ایسی صورت میں متاثرہ مسل کی اسکریچنگ تکلیف کو دور کرنے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے۔
پرسکون رہتے ہوئے گہری سانس لیں اور پھر نرمی سے ٹانگ کو دوسری پوزیشن میں حرکت دیں، اگر پنڈلی میں درد ہورہا ہو تو فرش پر بیٹھ کر ٹانگوں کو پھیلائیں اور پیروں کو آہستہ آہستہ نیچے کی جھکائیں ، ایسا کرنے سے بھی تکلیف چند سیکنڈ میں ختم ہوسکتی ہے۔
اسکریچنگ تکلیف کو فوری ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے مگر مساج یا مالش سے تکلیف کے بعد ہونے والی سوجن کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے، اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی مالش مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر چارلی ہارس کی وجہ جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو کچھ مقدار میں پانی پینا بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر بہت زیادہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کے بعد اس تکلیف کاسامنا ہے تو ہوسکتا ہے کہ جسم میں چند منرلز کی کمی ہوگئی ہو تو ناریل پانی کا استعمال اس تکلیف میں کمی لاسکتا ہے۔
گرم پیڈ یا برف سے فوری طور پر تو تکلیف سے نجات نہیں ملے گی مگر درد ختم ہونے کے بعد مسلز کو ضرور بہتر محسوس ہوگا۔
حرارت کا اثر زیادہ ہوتا ہے تو ہیٹنگ پیڈ کے استعمال سے اچھا محسوس ہوگا جبکہ برف سے سن کردینے والا اثر ہوتا ہے تو اس کا استعمال بہت زیادہ تکلیف اور دباؤ محسوس ہونے پر ہی کریں۔
نہانے سے بھی تکلیف فوری ختم نہیں ہوتی مگر گرم پانی سے نہانے سے مسلز کی سوجن کم ہوتی ہے۔ اگر آپسم نمک دستیاب ہو تو اسے نہانے کے پانی میں ملا دیں کیونکہ وہ مسلز کو سکون پہنچاتا ہے۔
مسلز میں لچک نہ ہونا بھی چارلی ہارس کی ایک بڑی وجہ ہے ، تو اسکریچنگ کو معمول بنانا مستقبل میں اس تکلیف کی روک تھام میں مدد فراہم کرسکتا ہے، اسی طرح نیند کی پوزیشن کو بھی بدلنے سے فائدہ ہوسکتا ہے۔
اگر چت لیٹ کر سوتے ہیں تو پیروں کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیں ۔