برطانیہ میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف

لندن میں معمول کی نگرانی کے دوران وائرس کو دریافت کیا گیا / اے ایف پی فوٹو
لندن میں معمول کی نگرانی کے دوران وائرس کو دریافت کیا گیا / اے ایف پی فوٹو

برطانوی دارالحکومت لندن میں لوگوں کے درمیان پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے شواہد دریافت ہونے پر قومی سطح پر ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔

یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایس ایچ اے) نے بتایا کہ فروری میں نکاسی آب کی معمول کی نگرانی کے دوران مشرقی اور شمالی لندن میں ویکسین میں پائے جانے والے کمزور مگر زندہ پولیو وائرس کو دریافت کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے جمع کیے جانے والے نمونوں میں یہ وائرس موجود پایا گیا ہے۔

اب تک برطانیہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور عام افراد میں اس کا خطرہ کم ہے مگر حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کسی نقصان سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کرالیں۔

یو کے ایچ ایس اے کی مشیر ڈاکٹر ونیسا سالیبا نے بتایا کہ یہ کمزور پولیو وائرس پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بالخصوص ایسی برادریوں میں، جن میں ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن نہ کرانے والے افراد میں اس وائرس سے معذوری کا خطرہ بھی ہوتا ہے، تو اگر آپ یا آپ کے بچوں کی پولیو ویکسینیشن اپ ٹو ڈیٹ نہیں تو فوری کروالیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کسی ایسے فرد سے شروع ہوگا جو کسی ایسے ملک سے برطانیہ واپس آیا ہوگا جہاں اسے منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین استعمال کرائی گئی ہوگی۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ وائرس برطانیہ میں کس حد تک پھیل چکا ہے۔

برطانیہ کو 2003 میں پولیو فری قرار دیا گیا تھا جبکہ وہاں آخری کیس 1984 میں رپورٹ ہوا تھا۔

پولیو وائرس ہاتھوں کی ناقص صفائی، پانی اور غذائی آلودگی سے پھیلتا ہے مگر کبھی کبھار کھانسی اور چھینکوں سے بھی ایک سے دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM