بلاگ
25 جون ، 2022

ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور افغان طالبان

کہاں ہیں وہ ریٹائرڈ جرنیل صاحبان جنہوں نے’’قوم کے وسیع تر مفاد میں‘‘ یہ بیانیہ قوم کے سامنے رکھا تھاکہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ؟ ۔ کیوں خاموش ہیں اب مولانا فضل الرحمان اور عمران خان جیسے سیاسی اور مذہبی قائدین جو یہ کہا کرتے تھے کہ افغان اور پاکستانی طالبان کو آپس میں جوڑنا درست نہیں؟۔

 کہاں ہیں اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ،وہ میڈیا پرسنز جو روزانہ قوم کو یہ درس دیا کرتے تھے کہ افغان طالبان تو جہاد کررہے ہیں لیکن پاکستانی طالبان را اور این ڈی ایس کی پیداوار ہیں۔ کم از کم اب تو ان سب لوگوں کو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرکے اس بے بنیاد بیانیے کو بار بار بیان کرنے اور ہر پاکستانی کے ذہنوں میں راسخ کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

اگر افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا یہ مفروضہ نہ ہوتا تو نہ قبائلی اضلاع کا یہ حشر ہوتا ، نہ اے پی ایس جیسے واقعات پیش آتے ۔ میرے نزدیک پاکستان نے گزشتہ بیس سال میں جو قیمت ادا کی اس کی بنیادی وجہ مفروضے پر مبنی یہ پالیسی ہے ۔

پاکستان کی طرح پاکستان کے پالیسی ساز بھی عجیب ہیں۔ نیک محمد ، بیت اللہ محسود ، مولوی نذیر اور عبداللہ محسود نائن الیون سے قبل بھی افغان طالبان کا حصہ رہ چکے تھے ۔

وہ افغان طالبان کے امیرالمومنین ملامحمد عمر کے ہاتھ پر بیعت کرچکے تھے اور انہیں اپنا امیرالمومنین مانتے تھے۔ انہوں نے پاکستانی ریاست سے جنگ کا آغاز اس بنیاد پر شروع کیا کہ اس نے افغان طالبان کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ کیوں دیا جبکہ پاکستانی فوج نے ان کے خلاف کارروائی اس بنیاد پر شروع کی کہ انہوں نے افغان طالبان اور القاعدہ کو پناہ کیوں دے رکھی ہے لیکن پھر بھی کچھ بے وقوف ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے رہے کہ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

زیادہ سے زیادہ ہم ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی ذیلی تنظیم کہہ سکتے تھے یا پھر یہ کہہ سکتے تھے کہ جنگ کے حوالے سے ایک کی ترجیح ریاست پاکستان سے جنگ اور دوسری کی امریکہ اور افغان حکومت سے جنگ ہے لیکن دونوں کو الگ قرار دینے کاتو کوئی جواز نہیں تھا۔ اگر افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کی جنگ میں براہ راست حصہ نہیں لیا یا نہیں لے سکتے تھے تو اس حد تک تو شاید بات درست تھی لیکن ٹی ٹی پی کے لوگ تو براہ راست افغانستان کی جنگ میں شریک تھے ۔

بلکہ افغانستان میں طالبان کے لئے پہلے تین خودکش حملے افغانوں نے نہیں بلکہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے جوانوں نے کئے تھے ۔ اسی طرح امریکیوں کے خلاف سب سے بڑی کارروائی جس کے دوران خوست میں سی آئی اے کے کئی اہم اہلکار ہلاک ہوئے تھے کا منصوبہ ٹی ٹی پی کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بنایا تھا اور واقعے کے بعد اس فدائی (ابودجانہ) کی ویڈیو حکیم اللہ محسود کے ساتھ جاری ہوئی

۔ اسی طرح کبھی افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی جبکہ پاکستانی طالبان بیت اللہ محسود کا دور ہو یا حکیم اللہ محسود کا، مولانا فضل اللہ کا دور ہو یا مفتی نورولی کا ، ہر ایک ملا محمد عمر، ان کے بعد ملا اختر منصور اور اب ملا ھبت اللہ کو اپنا امیرالمومنین مانتے تھے اور ہیں۔

سب افغان طالبان کے امیرالمومنین سے بیعت کرچکے تھے اور ہر ایک کے لیٹرپیڈ کے ایک طرف جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا کہ امیرالمومنین ملا محمد عمر، یا ملا اختر منصور یا ملا ہیبت اللہ ۔ یعنی وہاں دونوں فریق قول اور عمل دونوں سے اعلان کررہے تھے کہ ہم ایک ہیں ۔ ہمارا عقیدہ اور نظریہ ایک ہے ۔

ہمارے اکابر ایک ہیں۔ دونوں کا لٹریچر، آڈیو ویڈیو مواد اور ترانے بھی ایک ہیں لیکن عجیب تماشہ تھا کہ پاکستانی ریاست اپنے آپ کو بھی بے وقوف بنارہی تھی اور پاکستانیوں کو بھی کہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

ہماری ریاست ٹی ٹی پی کو حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومت سے جوڑ رہی تھی لیکن جب افغان طالبان نے جیلیں توڑیں تو مولوی فقیر محمد سمیت ٹی ٹی پی کے تین ہزار سے زائد کارکن رہا ہوگئے ۔اب صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوچکی ہے جسے پاکستانی طالبان بھی اپنی حکومت سمجھتے ہیں ۔

ٹی ٹی پی کو سب سے زیادہ نقصان ڈرون نے پہنچایا (بیت اللہ محسود ، حکیم اللہ محسود اور قاری حسین وغیرہ سب امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے) لیکن اب ڈرون کا خوف ہے اور نہ گرفتاری کا ۔ پورا افغانستان اب اسی طرح ان کا بھی ہے جس طرح افغان طالبان کا ہے ۔

ٹی ٹی پی کی قیادت اور کئی ہزار کارکن پہلے سے افغانستان میں تھے ۔ کئی ہزار جیلوں سے رہا ہوگئے اور کئی ہزار، جو پاکستان میں سلیپنگ سیلز کی صورت میں موجود تھے، افغانستان اُن سے جا ملے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کیا کرے؟۔ کیا بیک وقت افغان طالبان اور پاکستانی طالبان سے جنگ کرے؟ ظاہر ہے کوئی بے وقوف یہ مشورہ نہیں دے سکتا ۔

اب واحد راستہ یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مذاکرات اور سیاسی حل کیسے ہو؟۔ میرے نزدیک ٹی ٹی پی کے ساتھ عمران خان کی حکومت سے انگیج منٹ کا جو طریقہ اپنایا گیا ، وہ مناسب نہیں تھا۔

پہلے ٹی ٹی پی سے براہ راست مذاکرات کرکے ایک ماہ کی جنگ بندی کے عوض یہ وعدہ کیا گیا کہ ان کے سو سے زائد افراد رہا کئے جائیں گے لیکن مہینہ گزر گیا اور ان لوگوں میںسے دو درجن بھی رہا نہ ہوئے ۔ جب پاکستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے ساتھ وعدہ پورا نہ ہوا تو پاکستان کی افغان طالبان کے سامنے پوزیشن بھی کمپرومائز ہوگئی

۔ دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ پاکستان کے اندر سیاسی قیادت اور بالخصوص سب سے زیادہ متاثر ہونے والے عناصر یعنی اے این پی اور پیپلز پارٹی وغیرہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

اسی طرح یہ معاملہ ریاست پاکستان سے متعلق ہے نہ کہ صرف پختونوں یا قبائلی اضلاع سے متعلق۔ اس جنگ میں سندھ کی بے نظیر بھٹو بھی دنیا سے چلی گئیں، پنجاب ، سندھ اور پنجاب کے کئی پولیس افسران بھی لقمہ اجل بنے۔

فوج کے جرنیل اور ہزاروں سپاہی بھی زندگی قربان کرگئے لیکن جو جرگہ بھیجا گیا وہ صرف قبائلی زعما کا بھیجا گیا اور وہ بھی پوری طرح قبائل کی نمائندگی کرنے والے لوگ نہیں تھے۔ میری طالب علمانہ رائے ہے کہ مذاکرات ہی مسئلے کا واحد راستہ ہیں لیکن یہ مذاکرات حکومت پاکستان ، طالبان کی امارات اسلامی سے کرے ۔

اس معاملے کو امارات اسلامی پر چھوڑ دیا جائے اور انہی کے ساتھ مشاورت سے بننے والے لائحہ عمل کو اپنا کر انہی کے ذریعےحل نکالا جائے ۔ پاکستانی طالبان نہ صرف ان سے نظریاتی اور تنظیمی تعلق رکھتے ہیں بلکہ ان کی حکومت میں رہتے ہیں ۔ اس لئے جو بھی بات ہو وہ طالبان کی حکومت کے ذریعے ہونی چاہئے نہ کہ قبائلی جرگوں یا پاکستانی علما یا سیاستدانوں کے وفود کے ذریعے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM