روبوٹک ہاتھوں کو جسم کا حصہ محسوس کرانے والی وی آر ڈیوائس تیار

جاپانی سائنسدانوں نے یہ روبوٹک بازو تیار کیے / فائل فوٹو
جاپانی سائنسدانوں نے یہ روبوٹک بازو تیار کیے / فائل فوٹو

آج کے مصروف دور میں ملٹی ٹاسکنگ کے بغیر کام کرنا مشکل لگتا ہے اور ہم میں سے بیشتر افراد کئی بار مذاق میں کہتے ہیں کہ کاش ہمارے 4 ہاتھ ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

اگر آپ نے بھی کبھی ایسا کہا ہے تو سائنسدانوں نے اس خیال کو کافی حد تک حقیقت بنا دیا ہے۔

جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی، کیو یونیورسٹی اور ٹویوہاشی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے ایک ایسی ورچوئل رئیلٹی ڈیوائس تیار کی ہے جو صارفین کو اضافی روبوٹک بازو اپنے پیروں سے کنٹرول کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

جن افراد نے تحقیق میں حصہ لیا ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ روبوٹک بازو ہمارے ہی جسم کاحصہ ہیں۔

محققین نے رضاکاروں پر اس کے متعدد تجربات کیے تاکہ دیکھا جاسکے کہ لوگوں کو اضافی 'ہاتھوں' سے کیسا محسوس ہوتا ہے۔

ان افراد کو ورچوئل ہیڈ سیٹس کے ذریعے ایک ورچوئل ماحول میں پہنچایا گیا جہاں ان کے ساتھ 2 اضافی روبوٹک ہاتھ بھی تھے۔

اس کے بعد رضاکاروں کو خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے کنٹرولز کے ذریعے پیروں کی مدد سے روبوٹک ہاتھوں کو استعمال کرنے کی تربیت دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ 'اصل' ہاتھ استعمال نہ کریں۔

تجربات کے دوران رضاکاروں کو یہ روبوٹک ہاتھ جسم کا حصہ محسوس ہوئے / فوٹو بشکریہ ٹویوہاشی یونیورسٹی
تجربات کے دوران رضاکاروں کو یہ روبوٹک ہاتھ جسم کا حصہ محسوس ہوئے / فوٹو بشکریہ ٹویوہاشی یونیورسٹی

بعد ازاں سوالات کے ذریعے رضاکاروں سے پوچھا گیا کہ انہیں اس تجربے سے کیسا محسوس ہوا، جس پر متعدد افراد نے کہا کہ انہیں یہ روبوٹک ہاتھ جسم کا ہی حصہ محسوس ہورہے تھے۔

محققین نے کہا کہ ہم نے دریافت کیا کہ لوگ اپنے جسم سے مختلف نئے اعضا کو بھی اپنا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب دماغی ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیق کو آگے بڑھائیں گے تاکہ جان سکیں کہ اس طرح کے تجربے سے ہمارے دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM