ہر عمر کے بچوں کو کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوسکتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی / فائل فوٹو

ہر عمر کے بچوں میں کووڈ 19 کی طویل المعیاد علامات کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کووڈ کی طویل المعیاد علامات کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ بچوں میں اس کا امکان بالغ افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔

جریدے دی لانسیٹ چائلڈ اینڈ Adolescent Health میں شائع تحقیق میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے 44 ہزار بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔

ان بچوں میں نومولود بھی شامل تھے جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر 14 سال تھی۔

44 ہزار میں سے 11 ہزار بچوں میں جنوری 2020 سے جولائی 2021 کے دوران کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ کووڈ سے متاثر ایک تہائی بچوں کو بیماری کی کم از کم ایک طویل المعیاد علامت کا سامنا ہوا۔

3 سال تک کی عمر کے بچوں میں چڑچڑا پن، جلد پر خارش اور پیٹ درد سب سے عام علامات تھیں۔

4 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو یادداشت اور توجہ مرکوز کرنے کے مسائل کا بھی سامنا ہوا جبکہ 12 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کے مسائل کے ساتھ ساتھ چڑچڑے پن اور تھکاوٹ جیسی علامات کو زیادہ دیکھا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 3 سال یا اس سے کم عمر بچوں میں طویل المعیاد علامات کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے کہا کہ ہماری تحقیق سابقہ رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بچوں میں لانگ کووڈ کا امکان کم ہوتا ہے مگر انہیں اس کا سامنا ہوسکتا ہے اور اس مسئلے کو سنجیدہ سمجھنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی تک واضح نہیں کہ کووڈ سے کتنے بچوں کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ کتنا ہوسکتا ہے، کیونکہ اس عمر کے گروپ پر اب تک زیادہ تحقیقی کام نہیں ہوا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM