بلاگ

کرپٹ نظام کیخلاف شعور پیدا کرنا ہوگا

پاکستان کے75برسوں کا اگر معاشی جائزہ لیا جائے توپاکستان کے ابتدائی جمہوری 14سال گزرنے کے بعدفوجی دور کے صدر ایوب خان نےاپنے 10سالہ دور میں پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور پاکستان کو صنعتی میدان میں لا کھڑا کیا ۔

نئی نئی فیکٹریاں، ٹیکسٹائل ملز، شوگر ملز، سیمنٹ کے کارخانے، ہیوی مشینریز اور فیکٹریاں ہر بنیادی ضرورت کی پیداوارمیں مصروف تھیںٔ۔ اس کے بعد یحییٰ خان کا دور شروع ہوا مگر ان کے دور میں مشرقی، مغربی پاکستان کے سیاست دانوں کی کشمکش سے ملک دولخت ہوگیا جس کے بع دجمہوری دور ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے پی پی پی کے بنیادی نعرے روٹی ،کپڑا اورمکان نے اسےاقتدار تو دلا دیا مگر گزشتہ 14سال کی مضبوط معیشت کی نیشنلائزیشن کی پالیسی قومی معیشت پر کاری ضرب لگا کر اس کو نیچے کی طرف لے گئی ۔ تمام بڑی صنعتیں ، بینک ، انشورنس کمپنیاں قومیا لی گئیں،جس نے نہ صرف پاکستانی صنعتکاروں کو راتوں رات کنگال کر دیا بلکہ قومیائے گئے ادارے بھی تنزلی کا شکار ہو گئے ۔

کون سی سبزی ہے جو ہمارے ملک میں پیدا نہیں ہوتی ۔ کون سا اناج ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی سر زمین پر پیدا نہیں کیا۔ یعنی فار ایسٹ ، خلیج اور یورپ میں کوئی ایک ملک تمام اناج پیدا نہیں کر سکتا ۔ یعنی اگر چاول پیدا کر رہا ہے تو گیہوں پیدا نہیں کر سکتا جو گیہوں پیدا کر رہا ہے وہ مکئی ، جوار نہیں پیدا کر سکتا ۔ جو مکئی پیدا کر رہا ہے وہ دالیں پیدا نہیں کر سکتا۔

یہی حال سبزیوں اور پھلوں کا ہے کیونکہ تمام اناج الگ الگ موسم میں بوئے اور کاٹے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر ایک فصل خراب ہو تو اس کی جگہ دوسری فصل لے لیتی ہے ۔ ہر چیز ہماری ضرورت سے زیادہ پیدا ہو رہی ہے ۔افسوس کہ ان اشیا کو صحیح طریقے سے محفوظ رکھنے کے طریقۂ کار اور ذرائع دستیاب نہ ہونے کے باعث فاضل پھل ، سبزیاں اور اناج سڑ جاتا ہے۔

بلوچستان میں زمین کے اندر اور باہر قدرت نے انمول پتھر ، کوئلہ ، پیٹرول اور گیس کے ذخائر کےعلاوہ سیب ، بادام ، خوبانی ، انجیر ، شہتوت ، اخروٹ ، اسٹرابری ، کھجوریں وافر مقدار میں پیدا کی ہیں۔ بلوچستان کی بندرگاہ خلیجی ملکوں کے ساتھ رابطے کے علاوہ سمندری پیدا وار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بہترین جھینگے اور مچھلیاں تو اپنا جواب نہیں رکھتیں ۔ اس صوبے میں پیٹرول کے بھاری ذخائر ہیں مگر ہم نے ابھی تک صحیح منصوبہ بندی ہی نہیں کی ۔ آپ کے پاس تیل تو نہیں مگر گنے کی پیداوار میں پوری دنیا میں آپ کا پانچواں نمبر ہے۔کیا آپ سستی چینی حاصل کر پا رہے ہیں؟نہیں ۔

گندم کی کاشت میں آپ کا آٹھواں نمبر ہے،کیا آپ کو سستی روٹی دستیاب ہے؟نہیں۔چاول کی پیداوار میں آپ دسویں نمبر پر ہیں۔تو کیا عام شہری با آسانی اچھا چاول خرید سکتا ہے؟نہیں۔کپاس کی پیداوار میں آپ چوتھے بڑے ملک ہیںتو کیا ہر شہری با آسانی تن ڈھاپنے کا کپڑا خرید سکتا ہے؟نہیں۔اگر تیل دریافت ہوا بھی تو وہ اشرافیہ پہ مشتمل 60,70 خاندانوں کی چمکتی ہوئی قسمت کو مزید چمکائے گا۔

کراچی کی بندرگاہ ، یورپ اور فارایسٹ کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے لیے تجارتی گزرگاہ ہے اور پاکستان کی معیشت میں 65سے 70فیصد اخراجات کا بوجھ برداشت کرتی ہے، الغرض اس ملک کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ البتہ اتنی خوبیوں کو ہمارے سیاستدان گُھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

آنے والی حکومت صرف جانے والی حکومت کا احتساب کرنے اور بیان بازی میں وقت گزار دیتی ہے ۔ منصوبہ بندی کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ شہروں اور دیہات میں سڑکوں اور بجلی کا نظام بہت خراب ہے مگر ہائی ویز اور موٹر ویز بن رہے ہیں۔ عام شہری بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے ۔ہسپتالوں میں مریض دوائوں اور دیگر سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں۔

ہر شخص اس ملک کو برا بھلا کہتا ہے ، حالاں کہ ہمارے عوام بڑے جفاکش ہیں۔ بغیر حکومت کی مدد بلکہ حوصلہ شکنی کے تمام نجی سرمایہ کاری ہے اور ترقی میں صرف اور صرف عوام کی انتھک محنت کا دخل ہے ۔ ایکسپورٹرز کو حکومت کی طرف سے کوئی مراعات میسر نہیں ہیں مگر وہ پھر بھی اپنے بل بوتے پر غیر ملکی کرنسی لا رہا ہے ۔

ہماری بیوروکریسی اس میں مدد کرنے کے بجائے طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔ اسی وجہ سے کرپشن کا بازار گرم ہے ، بھاری درآمدی ڈیوٹیاں لگا کر برآمد کے راستے بند کئےجاتے ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو خوش کرنے کے لئے ان کے پروگراموں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔

اسٹیٹ بینک اور سی بی آر میں ان کو مستقل دفاتر مہیا کئے جا چکے ہیںجو ہماری تمام معیشت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے پوچھ کر ہم اپنے روپے کی قیمت مقرر کرتے ہیں ۔ غیر ملکی زرِ مبادلہ نہ ہونے کے باوجود ان کے کہنے پر اشیائےتعیش اور ملک میں بننے والی ہر چیز درآمد کررہے ہیں ۔

دنیا کے ممالک تیل سے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ترقی کرتے ہیں ،عوام دریافتوں سے نہیں عدل و انصاف سے خوش حال ہوتے ہیں،اس لئے سب اداروں کو اس کرپٹ نظام کے خلاف شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔