دنیا کے مختلف حصوں میں تعمیر ہونے والے مستقبل کے 10 شہر

مالدیپ کے اس شہر کی تعمیر 2027 تک مکمل ہوگی / فوٹو بشکریہ ڈچ ڈوک لینڈز
مالدیپ کے اس شہر کی تعمیر 2027 تک مکمل ہوگی / فوٹو بشکریہ ڈچ ڈوک لینڈز

جیسے جیسے دنیا بدل رہی ہے ویسے ہی شہروں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔

دنیا کی آبادی میں مسلسل اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت کچھ بدل گیا ہے اور بیشتر شہروں کو پھیلنے، بنانے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے ڈیزائنرز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جو مستقبل کے شہروں کے ڈیزائن تیار کرسکیں۔

ایسے ہی مستقبل کے شہروں میں بارے میں جانیں جن کی تعمیر کا اعلان مختلف ممالک کی جانب سے کیا گیا ہے۔

مررر لائن، سعودی عرب

منصوبے کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ وال اسٹریٹ جرنل
منصوبے کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ وال اسٹریٹ جرنل

سعودی عرب نے ایک تعمیراتی منصوبے مررر لائن پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بنیادی طور پر 75 میل کے رقبے پر پھیلی 2 بلند و بالا عمارات پر مشتمل شہر ہوگا۔

یہ عمارات ایک دوسرے کے متوازی ہوں گی جن کو پہاڑیوں اور صحرا میں تعمیر کیا جائے گا اور ان کا اختتام سمندر کے کنارے پر ہوگا۔

دونوں عمارات کے نیچے سے تیز رفتار ٹرین لائن تعمیر کی جائے گی جبکہ ان میں کاشتکاری کی جاسکے گی، ایک اسپورٹس اسٹیڈیم بھی تعمیر کیا جائے گا۔

مررر لائن بنیادی طور پر سعودی عرب کے نیوم منصوبے کا حصہ ہے۔

بائیو ڈائیورسٹی، ملائیشیا

ملائیشیا کے شہر کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ بگ
ملائیشیا کے شہر کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ بگ

ملائیشیا کے Penang آئی لینڈ کے ساحلوں پر ایک ایسے شہر کی تیاری کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جو 3 مصنوعی جزائر پر مشتمل ہوگا۔

ہر جزیرے میں 15 سے 18 ہزار افراد قیام کرسکیں گے اور وہاں کی عمارات قدرتی میٹریل جیسے بانس یا ری سائیکل میٹریل سے تیار کنکریٹ سے تعمیر کی جائیں گی۔

چنگڈو فیوچر سٹی، چین

یہ شہر کچھ اس طرح کا ہوگا / فوٹو بشکریہ او ایم اے
یہ شہر کچھ اس طرح کا ہوگا / فوٹو بشکریہ او ایم اے

چین کے اس مستقبل کے شہر میں روایتی سڑکیں نہیں ہوں گی یعنی گاڑیاں چلانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

6 زونز پر مشتمل شہر کو خودکار ڈرائیونگ والی ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی جبکہ وہاں کے رہائشی کسی بھی جگہ پیدل چل کر 10 منٹ میں پہنچ سکیں گے۔

یہ شہر 4.6 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوگا جس میں انٹرنیشنل ایجوکیشنل پارک بھی ہوگا۔

آکون سٹی، سینیگال

شہر کا ایک ڈیزائن / فوٹو بشکریہ آکون سٹی
شہر کا ایک ڈیزائن / فوٹو بشکریہ آکون سٹی

یہ 2 ہزار ایکڑ پر پھیلا شہر ہوگا جو سینیگال کے علاقے ڈاکار کے جنوب میں سمندر کے کنارے پر واقع ہوگا۔

اس منصوبے کے پیچھے گلوکار آکون ہیں اور یہ شہر ماحول دوست ہوگا جبکہ توانائی کی ضروریات ماحول دوست ذرائع سے پوری کی جائیں گی۔

آکون نے تو اسے فلم بلیک پینتھر میں دکھائے جانے والے شہر کا حقیقی ماڈل قرار دیا ہے۔

Telosa، امریکا

شہر کا ڈیزائن ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ Telosa
شہر کا ڈیزائن ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ Telosa

اس منصوبے کا اعلان ستمبر 2021 میں ہوا تھا اور اس کا منصوبہ ایک ارب پتی مارک لوری نے پیش کیا تھا، جو امریکا کے مغربی صحرا میں کہیں تعمیر ہوگا۔

اس شہر میں 50 لاکھ افراد رہائش اختیار کرسکیں گے جبکہ شہر میں کسی بھی جگہ 15 منٹ پیدل چل کر پہنچنا ممکن ہوگا۔

مارک لوری کو توقع ہے کہ یہ دنیا کا ایسا شہر ہوگا جہاں خام ایندھن سے چلنے والی کسی گاڑی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

Woven سٹی، جاپان

جاپانی شہر کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ Woven سٹی
جاپانی شہر کا ایک خاکہ / فوٹو بشکریہ Woven سٹی

ٹویوٹا کی جانب سے جاپان میں ماؤنٹ فیوجی کے قریب 175 ایکڑ پر پھیلے اسمارٹ سٹی کی تعمیر شروع کی جاچکی ہے۔

یہ دنیا کے ان اولین شہروں میں سے ایک ہوگا جو خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیوں کے مخصوص ہوگا اور نئی ٹیکنالوجیز کی آزمائش کی جائے گی۔

شہر میں توانائی کی ضروریات ہائیڈروجن فیول سیل سے پوری کی جائیں گی جبکہ تعمیرات کے لیے لکڑی کو ترجیح دی جائے گی۔

اگلے 5 برسوں میں یہاں 360 افراد رہائش پذیر ہوں گے جن کی تعداد میں آنے والے برسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

نیا انتظامی دارالحکومت، مصر

مصر کا نیا دارالحکومت ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ Dar Al-Handasah
مصر کا نیا دارالحکومت ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ Dar Al-Handasah

مصر کا نیا دارالحکومت اس ملک کے ویژن 2030 کا حصہ ہے، اس شہر کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا مگر یہ قاہرہ کے مشرق میں 45 کلومیٹر دور تعمیر ہوگا اور وہاں 70 لاکھ افراد قیام کرسکیں گے۔

نجی سرمائے سے تعمیر ہونے والا شہر 700 اسکوائر کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہوگا، جس میں 21 رہائشی اضلاع، 1250 مساجد اور گرجا گھر ہوں گے۔

سولر انرجی فارمز سے توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

لائبر لینڈ، میٹا ورس

یہ ایک ورچوئل شہر ہوگا / فوٹو بشکریہ میٹاورس
یہ ایک ورچوئل شہر ہوگا / فوٹو بشکریہ میٹاورس

فیس بک کی ڈیجیٹل دنیا میں بھی ایک شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے Zaha Hadid نے اس کا ڈیزائن تیار کیا ہے جس کے لیے انہوں نے مائیکرو نیشن آف لائبر لینڈ اور ArchAgenda سے اشتراک کیا ہے۔

ایسا کہا جارہا ہے کہ یہ شہر کرپٹو پراجیکٹس کا ورچوئل ہب ہوگا جبکہ لوگ وہاں کرپٹو کرنسی سے پلاٹ خرید سکیں گے۔

فلوٹنگ سٹی، مالدیپ

مالدیپ کو سمندر کی سطح میں اضافے سے بقا کا خطرہ لاحق ہے / فوٹو بشکریہ ڈچ ڈوک لینڈز
مالدیپ کو سمندر کی سطح میں اضافے سے بقا کا خطرہ لاحق ہے / فوٹو بشکریہ ڈچ ڈوک لینڈز

مالدیپ کے دارالحکومت مالے سے کشتی سے 10 منٹ کے سفر کی مسافت پر بحر ہند کے پانیوں میں ایک تیرنے والا شہر ابھر رہا ہے۔

یہ کوئی تجربہ نہیں بلکہ مالدیپ کو سمندر کی سطح میں اضافے سے لاحق خطرات سے بچانے کا ایک حل ہے۔

یہ پورا شہر 2027 تک مکمل تعمیر کیا جائے گا جس میں 20 ہزار افراد رہائش پذیر ہوسکیں گے۔

اس شہر میں رہنے والے کہیں جانے کے لیے کشتیوں، سائیکل یا الیکٹرک اسکوٹرز کا سہارا لیں گے یا پیدل بھی گھوم سکتے ہیں۔

شہر میں بجلی کے حصول کے لیے سولر انرجی سے مدد لی جائے گی جبکہ ائیر کنڈیشنرز کے متبادل کے طور پر گہرے پانی کی ٹھنڈک کو استعمال کیا جائے گا۔

Nusantara، انڈونیشیا

انڈونیشیا کا نیا دارالحکومت ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ اربن پلس
انڈونیشیا کا نیا دارالحکومت ایسا ہوگا / فوٹو بشکریہ اربن پلس

انڈونیشیا کی جانب سے دارالحکومت کو جکارتہ سے East Kalimantan میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

یہ نیا دارالحکومت بلند و بالا عمارات پر مشتمل ہوگا جن کی تعمیر کے لیے 100 فیصد ماحول دوست میٹریل کو استعمال کیا جائے گا جبکہ توانائی کے متبادل ذرائع کو اپنایا جائے گا۔

اس شہر کی تعمیر کا تخمینہ 35 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM