وہ امریکی شہر جہاں پولیس کا محکمہ ہی ختم کردیا گیا

2 عہدیداران کے درمیان نسل پرستانہ میسجز کے تبادلے کے بعد ایسا کیا گیا / فائل فوٹو
2 عہدیداران کے درمیان نسل پرستانہ میسجز کے تبادلے کے بعد ایسا کیا گیا / فائل فوٹو 

امریکا کے ایک شہر سے پولیس کے محکمے کو ہی ختم کردیا گیا ہے۔

ریاست الاباما کے ایک چھوٹے شہر ونسینٹ میں 2 افسران کے درمیان نسل پرستانہ ٹیکسٹ میسجز کے تبادلے کے انکشاف کے بعد پولیس کے محکمے کو تحلیل کردیا گیا۔

ان پیغامات کو سب سے پہلے ایک ویب سائٹ نے 2 اگست کو رپورٹ کیا تھا اور اسی روز ونسینٹ سٹی کونسل کا اجلاس ہوا تاکہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔

سٹی کونسل کے اجلاس سے قبل مقامی پولیس کے سربراہ جیمز سرگلے نے کہا تھا کہ ان کے محکمے کی جانب سے اندرونی تحقیقات کی جارہی ہے اور اس حوالے سے ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

مگر 4 اگست کو انکشاف ہوا کہ درحقیقت جن 2 افسران کے درمیان نسل پرستانہ پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا ان میں سے ایک جیمز سرگلے خود تھے جن کو برطرف کردیا گیا۔

اس کے بعد جیمز سرگلے کے نائب جان ایل گوس کو بھی برطرف کردیا گیا۔

بعدازاں سٹی کونسل نے پورے محکمے کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے کیا۔

5 اگست کو Shelby کے شیرف آفس کی جانب سے ایک بیان میں سٹی کونسل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے افسران شہریوں کی خدمت کررہے تھے۔

اس شہر کی آبادی 2 ہزار ہے جن میں سے 500 سیاہ فام ہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM