بلاگ
11 اگست ، 2022

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے !

کن زمانوں میں جی رہے، کیسے کیسے لوگوں کو جھیلنا پڑ رہا، نواز شریف کی اس لئے نااہلی ختم ہونی چاہیے کہ وہ تین دفعہ کے وزیراعظم، مقبول ترین سیاستدان، عمران خان کو اس لئے نااہل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ مقبول ترین سیاستدان، وہ مقبول ترین پارٹی کے سر براہ، ،سبحان اللہ جی، آئین، قانون، اصول، منطق، اخلاقیات جائے بھاڑ میں، کیا3دفعہ کا وزیراعظم ہونا، مقبول ہونا، ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے کا مطلب جو چاہو کرلو، کوئی پوچھ گچھ نہیں ہونی چاہیے، کیا مقبول ہونے کا مطلب آئین، قانون، ملک سے بڑاہونا، کیا جزا، سزا کے فیصلے عوامی مقبولیت پر ہونے چاہئیں، کیا آئین میں ہے کہ مقبول سیاستدان کو نااہل نہیں کیا جاسکتا۔

 مقبول پارٹی کے سربراہ کو سزا نہیں دی جا سکتی، کیا عدالت کو فیصلہ سناتے وقت آئین، قانون کی بجائے مقبولیت کو مدِنظر رکھنا چاہیے، کیا مقبول سیاستدان، مقبول پارٹی کے سربراہ کو کسی جرم پر زیادہ سخت سزا نہیں ملنی چاہیے، اسلئے کہ اس پر زیادہ ذمہ داری، اس لئے کہ وہ لاکھوں ،کروڑوں کا رول ماڈل، اسے تو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے، اس پر تو اخلاقی ذمہ داری زیادہ۔

نجانے کب سے رونا رویا جا رہا، ہائے ہائے نواز شریف کو اقامے پر سزا دی گئی، ہائے ہائے انہیں بیٹے کی بند کمپنی کے عہدیدار ہونے پر سزا دی گئی، ہائے ہائے انہیں وہ تنخواہ ڈکلیئر نہ کرنے پر سزا دی گئی جو انہوں نے لی ہی نہیں، ویسے تو نواز شریف، شہباز شریف کو اسی دن تاحیات نااہل کر دینا چاہیے تھا، جس دن شہبازشریف، جسٹس قیوم کی ٹیلی فون کال پکڑی گئی، ویسے تو نوازشریف ،شہباز شریف کو تو اسی دن تاحیات نااہل کر دینا چاہیے تھا جب انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا، پھر نواز شریف خوش نصیب کہ وہ فلیگ شپ ریفرنس میں ٹیکنیکل بنیادوں پر چھوٹ گئے، نواز شریف خوش نصیب کہ حدیبیہ جیسا ’اوپن اینڈ شٹ‘ کیس ختم کر دیا گیا ، نواز شریف خوش نصیب کہ وہ مجرم ہو کر جیل میں ہونے کی بجائے کبھی 8ہفتوں کے لئے گھر اور کبھی 3برس سے لندن، نوازشریف خوش نصیب کہ انہیں اب بھی رہنما، قائد، رہبر، امام خمینیؒ کہا جائے، باقی اقامہ، اقامہ کی رٹ لگانے والوں کو کیا علم نہیں کہ نواز شریف نے 3 جھوٹی تقریریں کیں، نواز شریف نے قومی اسمبلی میں جھوٹ بولا۔

 نواز شریف نے سپریم کورٹ میں جعلسازی کی، وہ جھوٹا قطری خط، جھوٹی ٹرسٹ ڈیڈ، جعلی کیلبری فونٹ، احتساب عدالتوں میں جھوٹ، احتساب عدالتوں کے 400سوالوں کا جواب نہ دے سکنا، کیا نواز شریف صرف ایون فیلڈ فلیٹس کی منی ٹریل دے پائے ، کیا نواز شریف کسی عدالت، کسی فورم پر بتاسکے کہ پیسے کمائے کیسے، لندن بھجوائے کیسے، لندن فلیٹس خریدے کیسے، کیا نواز شریف ثبوت دے پائے کہ لندن فلیٹس ہمارے، لندن فلیٹس قطریوں کے یا یہی کہ ہم لندن فلیٹس کے کرایہ دار ،کیا نواز شریف نے دن دہاڑے سب کے سامنے قومی اسمبلی میں نہیں کہا تھا ’’جناب اسپیکر یہ ہیں وہ ذرائع جن سے فلیٹس خریدے‘‘، پھر وہ اپنے اس بیان کو سیاسی کہہ کر کیوں مکرے؟ کیا نواز شریف نے خود نہیں کہا تھا کہ ’’میں کیا میرے بچوں پر بھی الزام آیا تومیں گھر چلا جاؤنگا‘‘، کیا سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا تھا کہ’’ کچھ اور نہیں تو صرف یہی رسیدیں دے دیں کہ یہ فلیٹس قطریوں کے‘‘، کیوں نہ رسیدیں دے پائے، کیا سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا تھا کہ’’پیسہ لندن کیسے گیا، کیا اونٹوں پر بھجوایا؟‘‘

 کیوں نہ جواب دے پائے، کیا سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا تھا کہ’’آپ نے بدیانتی کی، مکمل سچ نہیں بتایا، آپ کے بچے کروڑوں کے تحائف آپ کو دے رہے مگر آپ کو بچوں کے کاروبار کا ہی نہیں پتا‘‘، کیا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نہیں لکھا تھا کہ’’آپ کچھ لوگوں کو زیادہ وقت کیلئے، زیادہ لوگوں کو کچھ وقت کیلئے تو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔‘‘ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں یہ شعر سب کو بھو ل گیا کہ :۔

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے

نواز شریف کے نام پر اگرکچھ نہیں، سب کچھ بچوں کے نا م پر تو کیا 5مئی 2016کو نواز شریف نے خود قوم کو نہیں بتایا تھا کہ ’’کرپشن کرنے والے اپنے نام پر کمپنیاں رکھتے ہیں نہ اپنے نام پر اثاثے۔‘‘ اب وزیراعظم قومی اسمبلی میں جھوٹ بولے، سپریم کورٹ میں جعلسازی کرے، منی ٹریل، رسیدیں نہ دے سکے، اسے پھر بھی نااہل نہیں ہونا چاہیے اور اگر نااہل ہوگیا تو اسے پھر اہل ہونا چاہیے۔

 سبحان اللہ، آپ کی ہمت، حوصلے اور جمہوریت کو سلام، اب آجائیے عمران خان پر،منطق یہ، وہ مقبول ترین سیاستدان، 155سیٹوں والی مقبول ترین پارٹی کے سربراہ، انہیں سیاست سے آؤٹ نہیں ہونا چاہیے، ماشاء اللہ جی، اب پی ٹی وی حملہ کیس، پارلیمنٹ حملہ کیس، پولیس حملہ کیس، ممنوعہ فنڈنگ ریفرنس، صادق وامین ریفرنس، یہ سب ایک طرف رکھیں، صرف توشہ خانہ ریفرنس لے لیں، یہ اگرثابت ہوجاتاہے کہ عمران خان بحیثیت وزیراعظم 58تحفے 50فیصد ادائیگی کی بجائے 20فیصد ادائیگی کرکے گھر لے گئے، عمران خان 8لاکھ کے تحفے مفت گھر لے گئے۔

عمران خان نے 2018سے 2021 مطلب 4سال تحفے بیچ کر حاصل ہوئے اثاثے گوشواروں میں ڈکلیئر نہیں کئے، تو ایسے شخص کو پارٹی، ملک کی قیادت کرنی چاہیے؟ عمران خان جو کہا کرتے تھے’’تحفے کسی شخص کو نہیں ملک کو ملتے ہیں، لہٰذا کسی حکمران کو تحفے گھر نہیں لے جانے چاہئیں‘‘، عمران خان جو ریاستِ مدینہ کے داعی، عمران خان جو بلند اخلاقی معیار پر تھے، انہیں تو اونے پونے داموں تحفے لینے ، تحفے بیچ دینے پر ہی نااہل ہو جانا چاہیے، لیکن صرف آئینی، قانونی بات کرلیتے ہیں، تحفے خریدتے وقت قانون توڑنا، تحفے ڈکلیئر نہ کرکے آئینی خلاف ورزی کرنا، اگر یہ ثابت ہوجائے تو کیا اس کے بعد بھی انہیں مقبول سیاستدان سمجھ کر چھوڑ دینا چاہیے؟

ایک جھوٹ بولنے پر صدر نکسن کو گھر بھجوادیا جائے، جھوٹ بولنے پر صدر کلنٹن کا مواخذہ ہو جائے، تحفے میں ملی دو عینکیں ڈکلیئر نہ کرنے پر کینیڈین وزیراعظم کی تفتیش ہو، وہ جرمانہ بھرے، سلووینیا کا سیاستدان ایک سینڈ وچ چوری کرنے پر پارلیمنٹ کی رُکنیت کھو بیٹھے ، سرکاری خرچ پر ناشتہ کرنے پر فن لینڈ کی وزیراعظم انکوائریاں بھگتے، صوابدید سے زیادہ فنڈز اپنے حلقے میں خرچ کرنے پر برطانوی پارلیمنٹرین کی رکنیت چلی جائے، انتخابات میں زیادہ پیسے خرچ کرنے پر فرانسیسی صدر سرکوزی کو سزا ہو جائے، کورونا رولز کی خلاف ورزی کرکے پارٹی کرنا برطانوی وزیراعظم کو لے ڈوبے اور یہاں لکڑ ہضم، پتھر ہضم، اپنے جھوٹوں، بددیانتوں، فراڈیوں کو معاف کر دو، کیوں، اسلئے کہ وہ مقبول سیاستدان ،کروڑوں ووٹ لیں ، کیا انہیں کروڑوں ووٹ انہی کاموں کے لئے ملے ہیں؟


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM