دنیا
11 اگست ، 2022

راجیو گاندھی قتل کیس میں سزا یافتہ نلینی شری ہرن کی سپریم کورٹ سے رہائی کی اپیل

نلینی کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپنے ساتھی مجرم اور قیدی اے جی پریری ولن کے کیس کا حوالا دیتے ہوئے عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ اسے بھی ساتھ قیدی کی طرح رہا کیا جائے/ فوٹو: ریڈف ڈاٹ کام
نلینی کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپنے ساتھی مجرم اور قیدی اے جی پریری ولن کے کیس کا حوالا دیتے ہوئے عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ اسے بھی ساتھ قیدی کی طرح رہا کیا جائے/ فوٹو: ریڈف ڈاٹ کام

بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹنے والی  نلینی شری ہرن نے بھارتی سپریم کورٹ میں رہائی کیلئے اپیل داخل کردی ہے۔

نلینی کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپنے ساتھی مجرم اور قیدی اے جی پریری ولن کے کیس کا حوالا دیتے ہوئے عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ اسے بھی ساتھ قیدی کی طرح رہا کیا جائے۔

رہائی کے سلسلے میں نلینی کی جانب سے مدراس کی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تھا تاہم عدالت نے اس کی استدعا کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، انہیں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔

اس سے قبل راجیو گاندھی قتل کیس میں قید 7 مجرمان میں سے 30 سال سے قید کاٹنے والے روی چندرن نے بھی سزا میں رلیف کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اسے عدالت کی جانب سے کیس کے فیصلے تک عبوری ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

18 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اے جی پریری ولن کو رہا کر دیا تھا، جس کی رہائی کے بعد روی چندرن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو ایک خط بھی ارسال کیا گیا تھا جس میں بقایہ 6 افراد کی رہائی اپیل کی گئی تھی۔

اب راجیو گاندھی قتل کیس میں قید بقایہ 6 مجرمان میں سے نلینی شری ہرن نے بھی سپریم کورٹ سے رہائی کیلئے درخواست کردی ہے۔

خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو 21 مئی 1991 میں تامل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران دھنو نامی خاتون نے خودکش حملہ کر کے قتل کر دیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM