Time 07 ستمبر ، 2022
بلاگ

عمران خان اور منٹو کا ایک افسانہ

ادب ہو یا فنونِ عالیہ کی کوئی دوسری شاخ، تخلیقی عمل زندگی کی کلیت کا احاطہ کرتا ہے۔ فن کے پیچاک نام نہاد شرفا کی منافقت زدہ اخلاقیات کے متحمل نہیں ہوتے۔ روایات کہنہ کی کتر بیونت سے تیار کی گئی قبا زندگی کی نہاں گہرائیوں اوربسیط آفاق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

 وکٹورین اخلاقیات کے علمبردار ڈپٹی نذیر احمد کا کردار نصوح شیخ سعدی کی گلستان کو سوختنی قرار دیتا ہے، دوسری طرف امیر مینائی فرماتے ہیں، ’پسند آئی نہایت ہر حکایت بابِ پنجم کی‘۔ آپ تو خیر یہ سب سمجھتے ہیں، نوجوانوں کی سہولت کے لئے یاد کرواتا ہوں کہ گلستانِ سعدی کے بابِ پنجم کا عنوان ’در عشق و جوانی‘ ہے۔ ہمارے ہاں، سعادت حسن منٹو کا ادبی مقام تو اردو پڑھانے والے سفید پوش اساتذہ پر اب سے ادھر کوئی بیس برس پہلے آشکار ہوا۔ اب کسی نے ان کی کردار نگاری پر انگلی دانتوں میں دبا رکھی ہے تو کسی کو منٹو کے بیانیے کی تازہ کاری نے مسحور کر رکھا ہے۔ 

منٹو ملامتی صوفی نہیں تھا، سچا فنکار تھا جو پریس برانچ کے چوہدری محمد حسین کی کوتاہ نگاہی سے خائف ہو کر حساس نشتر زنی سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں تھا۔ دراصل ہمارا اجتماعی ذہنی سفر باقی دنیا سے کوئی ایک صدی پیچھے چل رہا ہے۔ منٹو کے انگریزی تراجم شائع ہوئے اور ایک آدھ افسانے کی ڈرامائی تشکیل ہوئی تو ہماری اشرافیہ بھی منٹو نام کے ایک آشفتہ سر سے متعارف ہوئی۔ 

خلق خدا نے مگر منٹو کو ہمیشہ حرز جاں بنائے رکھا۔ منٹو کے شہرت یافتہ افسانے تو ایک طرف، ان کے کم معروف افسانے بھی ایک ایک جملے بلکہ ترکیب کی ندرت سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ منٹو کے آخری زمانے کا افسانہ ’ننگی آوازیں‘ ہی لیجئے۔ سامنے کا مشاہدہ کس مہارت سے بیان کر دیا ہے۔ کسی ایک جملے پرانگلی رکھنے کی جا نہیں۔ آج اس افسانے کا ایک اقتباس آپ کی نذر کرنے کا ارادہ ہے۔ مقصود یہ کہ بڑا فن اپنے موضوع کا زندانی نہیں ہوتا۔ بدلتی ہوئی صورتِ حال میں نئے نئے معنی اختیار کر لیتا ہے۔ اس سے پہلے مگر کچھ ذکر قائدِ زماں عمران خان کا…

5 ستمبر کی سہ پہرعمران خان نے فیصل آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے دھواں دھار خطاب کیا۔ حسب معمول دائیں بائیں دھول اڑاتے نکل گئے۔ حضرت کے ارشادات پرغالب کا’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ والا شعر مناسب رہتا لیکن مصرع اولیٰ کے ایک لفظ نے روک دیا۔ 

عمران خان صاحب کی تو اپنی زبان سے ’بوئے بدرو می آید‘۔ ان کی ذریات سے شعر فہمی کی توقع عبث ہے۔ سو آپ غالب کی بجائے فیض سے استفادہ کر لیں، ’گرجے ہیں بہت شیخ سر گوشہ منبر‘۔ علاوہ دیگر فرمودات کے عمران صاحب نے پھر سے فوج پر لب کشائی فرمائی۔ پولیس، بیورو کریسی اور عدلیہ پر حضرت کے جوشِ خطابت نے پہلے سے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کو ’نیوٹرل‘ قرار دیا تو حضرت عمران کو گویا پھبتی سوجھ گئی۔ جو نہیں کہنا تھا، وہ بھی ’نیوٹرل‘ کی گلوری میں لپیٹ کر اپنے مداحوں کا جی گرماتے رہے۔

 متعلقہ حلقوں سے فہمائش بھی ہوئی مگر حضرت سیلابی ریلے کی طرح پھیلتے ہی چلے گئے۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ شہباز گل کا زیر سماعت ٹی وی تبصرہ ان کے رہنما کی ہدایت کا نتیجہ تھا۔ اس الزام کا ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا لیکن فیصل آباد میں عمران خان نے گویا پردہ اٹھا دیا۔ حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تک ملک کا ہر شہری حضرت کی خوش بیانی سے آشنا ہو چکا ہے۔ حضر ت نے ایک ہی جملے میں تین مرتبہ ٹھوکر کھائی۔ 

محبِ وطن آرمی چیف کا مطالبہ کیا۔ گویا اعلیٰ عسکری قیادت میں کوئی غیر محبِ وطن بھی ہو سکتا ہے۔ آئندہ آرمی چیف سے کرپشن پر گرفت کی امید باندھی۔ کرپشن کے معاملات دیکھنا آرمی چیف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس کیلئے ایف آئی اے، نیب اور عدلیہ موجود ہیں۔ اور یہ کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اس کیلئےوزیراعظم کو قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی بھی ضرورت نہیں اور عمران خان تو اپوزیشن لیڈر بھی نہیں ہیں۔ 9اپریل کے بعد سے ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی مستعفی ہو چکے ہیں۔

 قومی اسمبلی میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں۔ عمران خان اور ان کے رفقا 2014 کے دھرنے کی طرح استعفے اور مالی مراعات سے بیک وقت مستفید ہو رہے ہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی پر اختیار ایسا کلیدی قضیہ ہے کہ اس کیلئے جنرل ضیا نے 1985اور جنرل مشرف نے 2003 میں بالترتیب آٹھویں اور سترہویں آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑا۔ 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم نے یہ اختیار وزیراعظم کو واپس لوٹا دیا۔ اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس کا قضیہ تو آپ کو یاد ہو گا۔ وہ وزیراعظم کے اسی اختیار کا شاخسانہ تھا۔ سادہ لفظوں میں عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کا تخت صبا برق اندازوں کے کندھے پر رکھ کر ایوان اقتدار میں واپس لایا جائے جہاں وہ مطلق العنان اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ یہ مگر 2018 نہیں ہے۔

 ہائبرڈ بندوبست کا تجربہ اوندھے منہ پڑا ہے۔ عمران خان کی بے مہار گفتار سے ان کے غالی حامی بھی مشکل میں ہیں۔ سابق فوجی افسروں کی تنظیموں سے آئی ایس پی آر کا اعلانِ لاتعلقی معنی سے خالی نہیں۔ صدر عارف علوی بھی بھنور میں گرفتار ہیں۔ فیصل جاوید نے شہباز گل کے بیان پر سینیٹ میں ایک دھواں دھار تقریر ارزاں کی تھی۔ اب اپنے لیڈر کی گل افشانی پر کیا کہیں گے جس کی کیفیت منٹو کے کردار بھولو سے مشابہ ہے۔

’بھولو کے دل میں چھری سی پیوست ہوگئی۔ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ اٹھا اور کوٹھے پرچڑھ کر جتنے ٹاٹ گئے تھے اکھیڑنے شروع کردیے۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر لوگ جمع ہوگئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ کلن نے بانس اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کرگرا اور بے ہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔‘


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔