دنیا
22 ستمبر ، 2022

ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے دوران جنازہ بردار افسران کون تھے؟

فوٹو: ڈیلی میل
فوٹو: ڈیلی میل

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے آخری رسومات اور تدفین کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھوں افسران کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے دوران ان کے جنازے کو کندھا دینے والے فرسٹ بٹالین گرنیڈیئر گارڈز کے ایک نوجوان افسر کی عمر صرف 19 برس ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرسٹ بٹالین گرنیڈیئر گارڈز کے جوانوں میں سے کچھ عراق میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے جہاں سے انہیں ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے بلایا گیا تھا۔

ملکہ کا جنازہ اٹھانے والے بینڈ برادرز کی رہنمائی کرنے والے سارجنٹ میجر ڈین جونز رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں بطور انسٹرکٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ان افسران میں سب سے کم عمر فلیچر کاکز کا تعلق جرسی سے ہے اور ان کی عمر صرف 19 برس ہے، فلیچرنے بطور کیڈٹ محض 15 برس کی عمر میں بطور ٹاپر اپنی ٹریننگ مکمل کرلی تھی ساتھ ہی لیفٹیننٹ گورنر میڈل حاصل کرنے والے سب سے کم عمر افسر ہیں۔

فوٹو: ڈیلی میل
فوٹو: ڈیلی میل

فلیچر کے والد کا کہنا ہے کہ ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے  وہ تاریخی لمحات جنہیں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے تھے وہاں اپنے بیٹے کو ایک اہم ذمہ داری سنبھالتے ہوئے دیکھنا بطور والد میرے لیے فخر کا مقام تھا۔

جنازہ برداری کے فرائض سرانجام دینے والے افسران میں لیوک سمپسن بھی شامل تھے، ناٹنگھم شائر کے علاقے سیلسٹن سے تعلق رکھنے والے لیوک کے حوالے سے انکے اساتذہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سابق شاگرد نے اس تاریخی موقعے پر اپنا کردار بڑے ہی احسن طریقے سے ادا کیا  اور لیوک نے  نہ صرف اپنے ملک، اپنے علاقے  بلکہ  اپنے والدین اور ساتھیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کاندھا دینے والے 8 افسران میں سے ایک جیک اورلاسکی کا تعلق لندن گارڈز سے ہے جنہیں اب اسٹار آف لندن گارڈز پکارا جا رہا ہے۔ لانس سارجنٹ جیک اورلاسکی گرنیڈیئر گارڈز میں تبادلے سے پہلے لندن گارڈز کا حصہ تھے۔

ریان گریفتھس جب اپنے ملک کیلئے خدمات سرانجام نہیں دے رہے ہوتے تو وہ سرفنگ کر رہے ہوتے ہیں، انہوں نے ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے نکالی ہوئی اپنی تصویر بڑے ٖفخر کے ساتھ شیئر کی جسے فوج میں انکے ساتھ خدمات سرانجام دینے والے ساتھیوں کی جانب سے سراہا گیا۔

لانس کارپورل ٹونی فلن، ہیمپشائر کی فوجی چھاؤنی میں رہائش پذیر ہیں اور حال ہی شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔

ملکہ کی آخری رسومات کے دوران جنازے کو کندھا دینے والی ٹیم کو لیڈ کرنے والے سارجنٹ میجر ڈین جانز ونڈسر محل کے سینٹ جارجز چیپل میں ملکہ برطانیہ کی میت کے آگے آگے چلتے ہوئے جنازہ بردار ٹولے کی رہنمائی کر رہے تھے۔

فوٹو: ڈیلی میل
فوٹو: ڈیلی میل

لانس سارجنٹ ایلکس ٹرنر میت کو کندھا دیتے وقت سب سے آگے موجود تھے اور سارجنٹ میجر ڈین جانز کے پیچھے پیچھے بڑی ہی مہارت سے قدم سے قدم ملاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھوں افسران کو اس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دینے پر اسناد دی جائیں گے جبکہ عسکری حکام، سیاستدانوں اور سیلیبرٹیز کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان جوانوں کو میمبرز آف دی آرڈر آف برٹش ایمپائر (ایم بی اِیز) کی رکنیت دی جائے۔

سابق فوجی سربراہ لارڈ ڈینیٹ سمیت دیگرنے بھی اتفاق کیا ہے کہ ان جوانوں کو ایم بی اِیز کی رکنیت دی جائے، ان کا کہنا ہے کہ 1965 میں سر ونسٹن چرچل کی میت کو کاندھا دینے والے افسران کوبی ایم ایز کی رکنیت دینے کی مثال پہلے سے ہی موجود ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM