Time 29 اکتوبر ، 2022
پاکستان

بیانیے اور لانگ مارچ کی حقیقت؟

لاڈلے کھلاڑی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے جس کے متعلق خود تیس مار خاں صاحب کا دعویٰ ہے کہ75سال سے ہماری تقدیر کے فیصلے بیرونی طاقتیں بالخصوص امریکی کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہاں ان کی کٹھ پتلیاں مسلط ہو کر ہمارے فیصلے کرتی رہی ہیں۔ ہم اب اس وقت تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک بیرونی سازش سے اقتدار میں آنے والوں کے رستے بند نہیں ہو جاتے ۔

وفاقی وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ میں اسے سیاست دان نہیں مجرم سمجھتا ہوں۔ یہ ڈرٹی ہیری ہے جس نے خوف پھیلایا ہوا ہے کہ بولو گے تو پکڑے جائو گے آج کل اس ڈرٹی ہیری کی ہمارے فیصل واوڈا سے بہت زیادہ دوستی ہے۔ ڈرٹی ہیری سن لو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا پہلے مجھ سے غلطی ہوئی جو تمہیں چھوڑ دیا اور یہی میری سب سے بڑی ناکامی تھی جس کی پاداش میں آج پیشیاں بھگت رہا ہوں ،میں تمہیں انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ 

25مئی کو تشدد کرنے والوں کی شکلیں مجھے اب بھی نظر آ رہی ہیں، اب ہم ان کا ہومیو پیتھک نہیں ایلو پیتھک علاج کریں گے۔ رانا ثنا تیاری رکھو اب عوام کا سمندر آ رہا ہے جسے تمہارے ہینڈ لرز بھی دیکھیں گے جنہوں نے چوروں کو ہم پر مسلط کیا ، وہ بھی دیکھیں گے۔

درویش معذرت خواہ ہے جو ایک خود پسند شخص کے پراگندہ خیالات پیش کر رہا ہے محض یہ دکھانے کیلئے کہ اس کا اپنا بنایا ہوا صدر درست ہی کہہ رہا تھا کہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ہمارا لیڈر ذہنی پریشانی کا شکار ہو کر کئی غلط فیصلے کر بیٹھا ۔ ان کے جو خیالات درج کئے گئے ہیں کیا یہ چیخ چیخ کر اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے کہ ہوس اقتدار نے موصوف کی یہ حالت بنا دی ہے؟ 

اس شخص نے چونکہ اپنی پونے چار سالہ حکمرانی کے مزے طاقتور مہربانوں کی برکت و عنایت سے چکھے ہیں اس لئے جھوم جھوم کر انہی کی طرف کبھی غصیلی اور کبھی للچائی نظروں سے دیکھتا ہے ... مرزا غالبؔ نے اس کربناک نفسیاتی و ذہنی کیفیت کو کتنے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔

محبت میں نہیں ہےفرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

شاید ایسے عاشقوں کو جواب دینے کیلئے ہی رخصت ہوتے محبوب نے ایک پیار بھری پریس کانفرنس کا اہتمام فرمایا جو بلاشبہ اتنی شعوری و مدلل تھی کہ ساری زندگی ان کا ناقدرہنے والا یہ درویش متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ،اگر قریب ہوتا تو کہتا ’’تمہاری آواز مکے اور مدینے‘‘ تمہارے منہ میں گھی شکر کتنی بڑی بات ہے کہ ’’ہم نے محکمانہ طور پر بحث ومباحثے کے بعد یہ اٹل فیصلہ کیا تھا کہ ہم آئندہ سے ہمیشہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا رول آئینی حدود کے اندر رہ کر ادا کریں گے کبھی آئین شکنی نہ کریں گے جس کا ہم لوگوں نے حلف بھی اٹھا رکھا ہے۔

’’جب آئین یہ کہتا ہے کہ حکومتیں بنانے اورگرانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے تو پھر نہیں ہونا چاہئے، جب اس شخص کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہوئی، یہ مارچ کی بات ہے، اس نے میرے سامنے جنرل صاحب کو غیر معینہ مدت تک توسیع دینے کی پیشکش کی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا ‘‘ اف میرے خدایا یعنی یہ شخص اقتدار کا اس قدر حریص ہے کہ آپ مجھے اس کرسی پر بٹھائے رکھو اور میں آپ کو غیر معینہ مدت تک توسیع دیتا رہوں ، دونوں مل کر اقتدار کے مزے لوٹیں ۔

جب ڈی جی آئی ایس آئی نے سچائی سے کام لیتے ہوئے پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ ڈوبتی معیشت کو قرار دیا تو یہ مایوس شخص بولا نہیں میرے مخالف سیاست دان سب سے بڑا مسئلہ ہیں اگر انہیں ٹھکانے لگا دیا جائے تو ملک میں امن و سکون ہو جائے گا۔

خودنمائی و خود ستائی میں ڈوبے ہوئے شخص کے خوفناک بیانیے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے نہ صرف سائفر کے جھوٹ کی قلعی کھولی گئی بلکہ اس دوغلے پن کو بھی واضح کیا گیا، جو رات کے اندھیروں میں بند دروازوں کے پیچھے اقتدار کی بھیک مانگتا ہے، بڑے سے بڑا لالچ دیتا ہے خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا کر دیتا ہے جبکہ دن کے اجالے میں اپنے یوتھیوں کے سامنے اپنی بڑائی و مقبولیت کی بڑھکیں مارتا اور اپنے مہربانوں پر مختلف النوع الزامات عائد کرتے ہوئے ان پر رکیک حملے کرتا ہے ۔

ایک مظلوم صحافی کو خود ہی خوف زدہ کرتے ہوئے ملک سے باہر بھاگ جانے پر مجبور کرتا ہے اور خود ہی اس کی موت پر ٹسوے بہاتا اور لاشوں پر سیاست چمکاتا ہے ۔آج اس کی پارٹی کے ملازم لوگ اس کے دفاع میں عجیب وغریب دلیل لا رہے ہیں کہ اگر ہمارے نجات دہندہ نے طاقتور شخصیت کو یہ کہہ دیا ہے کہ جلد انتخابات کروائیں تو یہ بات کس طرح غیر آئینی ہے ؟کیا ان لوگوں کو اتنا علم بھی نہیں کہ آئین میں انتخابات کروانا محکمۂ دفاع کا کام نہیں ہے ؟

کیا ان لوگوں کو سمجھ نہیں اور کیا وہ قوم کے ستر سالہ دکھ کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آئین کے مطابق جس کا جو رول ہے وہ اس کی پابندی کرے اصل ایشو ہی یہ ہے، آپ لوگ احتجاج کریں مگر جہاں آئین و قانون کو توڑیں گے وہاں اس کے نتائج بھگتنے کیلئے بھی تیار رہیں سچائی تو یہ ہے کہ وقت نے آپ کے بے مقصد بیانیے کوٹھس اور لاحاصل لانگ مارچ کو پنکچر کر دیا ہے۔

مزید خبریں :