03 نومبر ، 2022
گزشتہ روز آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے کے اہم میچ میں سنسنی خیز مقابلے میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد بنگلادیش نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی پر فیک فیلڈنگ کا الزام لگا دیا۔
بھارت کے ہاتھوں 5 رنزسے شکست کے بعد بنگلادیش کے وکٹ کیپر بیٹر نورالحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ میچ کے دوران آن فیلڈ امپائرز نے ویرات کوہلی کی جانب سے فیک فیلڈنگ کرنے کو نہیں دیکھا۔
جس فیک فیلڈنگ کی بات ہورہی ہے اصل میں وہ بنگلادیش کی اننگز کے 7 ویں اوور میں دیکھی گئی۔ہوا کچھ یوں کے اکسر پٹیل کی گیند پر بنگلادیشی بیٹر لٹن داس نے ڈیپ آف سائیڈ فیلڈ کی جانب شاٹ کھیلا اور گیند وہاں موجود فیلڈر ارشدیپ سنگھ کے پاس گئی، ارشدیپ نے جیسے ہی تھرو وکٹ کیپر کی جانب پھینکی تو پوائنٹ پوزیشن پر موجود کوہلی نے ایسا ظاہر کیا کہ گیند ان کے پاس آئی اور انہوں نے خالی ہی ہاتھوں سے بولنگ اینڈ کی جانب فیک تھرو کی۔
اس دوران نہ ہی آن فیلڈ امپائرز نے اس واقعہ پرغور کیا اور نہ ہی بنگلادیشی بیٹرز نے اس حوالے سے اس وقت کچھ شکایت کی۔تاہم میچ کے بعد نورالحسن نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے واقعہ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نےکہا کہ فیک تھرو کی بات کروں گا جس کی وجہ سے ہمیں 5 پینلٹی رنز انعام میں دیے جاسکتے تھے لیکن اس وقت کسی نے غور نہیں کیا، اگر ایسا ہوتا تو ہم بھات کے خلاف میچ جیت جاتے۔
کرکٹ کے قانون 41.5جو کہ غیر منصفانہ کھیل سے متعلق ہے کے مطابق جان بوجھ کر بیٹر کی توجہ ہٹانا،کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنا یا دھوکا دینا منع ہے اور اگر کسی واقعے کو اس قانون کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، تو امپائر اس مخصوص ڈیلیوری کو ڈیڈ بال قرار دے سکتا ہے جبکہ بیٹنگ ٹیم کو پانچ رنز پینلٹی کے طور پر انعام میں دیے جاسکتے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی بھارت اور بنگلادیش کے درمیان ہونے والے میچ میں امپائرنگ پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز اسکور کیے۔
ہدف کے تعاقب میں بنگلادیش نے 7 اوورز میں بغیرکسی نقصان کے 70 رنز بنالیے تھےکہ پھر بارش آڑے آگئی اور ڈک ورتھ لیوئس میتھڈ کے تحت بنگلادیش کو 16 اوورز میں 151 رنز کا ہدف ملا تاہم 151 رنز کے تعاقب میں بنگلادیش کی ٹیم 6 وکٹ پر 145 رنز بناسکی۔
یوں بھارت نے بنگلادیش کو ڈک ورتھ لیوئس میتھڈ کے تحت 5 رنز سے ہرا دیا۔