صحت و سائنس
28 نومبر ، 2022

عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کا نام بدل کر ایم پاکس رکھ دیا

عالمی ادارہ صحت نے جون میں اعلان کیا تھا کہ منکی پاکس کا نام بدلا جائے گا / فوٹو بشکریہ ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت نے جون میں اعلان کیا تھا کہ منکی پاکس کا نام بدلا جائے گا / فوٹو بشکریہ ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کا نام بدل کر ایم پاکس رکھ دیا ہے۔

جون میں عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ ماہرین کے ساتھ ملکر منکی پاکس کا نام بدلنے پر کام کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر عالمی ادارے نے بتایا تھا کہ منکی پاکس کا نام تبدیل کرنےکا یہ فیصلہ دنیا بھر کے 30 سائنسدانوں کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد کیا گیا۔

اس خط میں ماہرین کا کہنا تھا کہ منکی پاکس کا نام فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا نام رکھنا چاہیے جو کہ غیر امتیازی ہو اور اس سے کسی کی طرف اشارہ یا نشاندہی نہ ہوتی ہو۔

اب 5 ماہ بعد ڈبلیو ایچ او نے نئے نام کا اعلان کیا ہے۔

عالمی ادارے نے بتایا کہ نئے نام کے بعد منکی پاکس کی اصطلاح کا استعمال آنے والے مہینوں میں ختم ہوجائے گا۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جب جون میں منکی پاکس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی تو نسل پرستی اور تعصب پر مبنی مواد آن لائن پوسٹ ہوا تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ عالمی ماہرین سے مشاورت کے بعد ڈبلیو ایچ او نے ایم پاکس کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی ہے، کچھ عرصے تک دونوں ناموں کا استعمال ہوگا اور ایک سال کے اندر منکی پاکس کی اصطلاح کا استعمال ختم کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 1958 میں ڈنمارک کی ایک تجربہ گاہ میں رکھے گئے دو بندروں کو یہ بیماری ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کا نام بھی منکی پاکس پڑگیا۔

انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM