Time 30 نومبر ، 2022
بلاگ

ویلکم جنرل عاصم منیر مگر۔۔۔

انہونی ہوگئی اور جنرل عاصم منیر پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جانے والے منصب سے سرفراز ہوگئے۔ویسے تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ کاغذی طور پر آرمی چیف کے عہدے سے بڑا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے زمینی حقائق اور عسکری اسٹرکچر کی وجہ سے آرمی چیف ہی کو طاقت کا منبع سمجھا جاتا ہے۔

 جنرل عاصم منیر کی ذات میں شاید قرآن اور ماں باپ کی دعائوں کی برکت ،عزت، طاقت اور اختیار کی صورت میں سمٹ کر آگئی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے سامنے ذمہ داریوں اور چیلنجز کا بلند پہاڑ بھی موجود ہے۔ میرے نزدیک سب سے بڑا اور فوری چیلنج انہیں پولرائزڈ سوسائٹی اور فوج کے امیج کی بحالی کا درپیش ہوگا۔ سول ملٹری تعلقات میں جو دراڑ پچھلے چند سال میں پڑی ہے ، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔

جبکہ مذکورہ بالا اور دیگر سنگین چیلنجز سے نمٹنےکیلئےضروری ہے کہ فوج حقیقی معنوں میں پورے پاکستان کیلئے یکساں قابل احترام بن جائے ۔ فوج کسی ایک پارٹی یا قومیت کی حامی یا مخالف نہ سمجھی جائے ۔ کوئی ایک میڈیا گروپ فوج کا میڈیا گروپ اور دوسرا نشانہ نظر نہ آئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی دوسرے ادارے کو شکایت نہ ہو کہ اس کے کام میں فوج مداخلت کررہی ہے جبکہ فوج کو سمجھ نہیں آرہی کہ اتنی شہادتوں اور قربانیوں کے باوجود قوم اس سے وہ محبت کیوں نہیں کرتی جس کی وہ مستحق ہے اور سویلین حیران ہیں کہ فوج کیوں انہیں اپنی قوم کی بجائے ایک مفتوحہ قوم کے طور پر ڈیل کررہی ہے۔ یہاں میں امریکہ اور افغانستان کی مثالیں دینا چاہوں گا ۔ امریکی کہتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ پچھلے ستر سال میں اگر کسی نے سب سے زیادہ مدد کی ہے تو وہ وہی ہیں۔ 

یہ بات بالکل درست ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نفرت امریکہ سے کی جاتی ہے اور جماعت اسلامی ہو یا بھٹو یا عمران خان وہ جب پاکستانی قوم کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے تو امریکی سازش کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔دوسری طرف چین نے ماضی میں پاکستان کے ساتھ جو بھلائی کی ہے وہ امریکہ کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن پاکستان میں چین کے مخلص دوست ہونے پر اجماع ہے۔

 امریکہ کے بڑے بڑے عالی دماغ اور تھنک ٹینکس اس قضیے پر ہمہ وقت غور کے بعدبھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان میں امریکہ سے نفرت کیوں ہے؟ حالانکہ سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ امریکی یہ سب کچھ کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مداخلت کرکے اور ڈکٹیشن دے کر پاکستانیوں کی عزت نفس کو بھی مجروح کرتے رہے جبکہ چین نے پاکستان کی خاطر بہت کم قربانی دے کر بھی مداخلت نہیں کی اور ڈکٹیشن نہیں دی۔ میرے نزدیک یہی معاملہ فوج اور سویلین کا ہے ۔

 فوج کی قربانیاں اپنی جگہ ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج اس ملک کی سلامتی ہی نہیں بلکہ یکجہتی کا بھی وسیلہ ہے لیکن سویلین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے اور یوں ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ امریکہ کو جو شکوہ پاکستان سے ہے ، وہ پاکستانیوں کو افغانستان سے ہے ۔ ہر پاکستانی کہتا ہے کہ ہم نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دی ،اس کے باوجود افغانی ہم سے محبت نہیں کرتے ۔ انڈیا اور روس تک سے ان کی دوستی ہے لیکن وہ پاکستان کو دوست نہیں مانتے ۔

اب اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہم نے افغانی قوم کو اسی طرح بحیثیت قوم نہیں دیکھا جس طرح چینی، ایرانی یا سعودی اقوام کو دیکھتے ہیں۔ پہلے ہم نے مجاہدین کیلئے قربانیاں دیں اورنتیجتاً کمیونسٹ حکومت میں جو طبقات شامل تھے ، وہ ہمارے دشمن ہوگئے۔ پھر ہم نے مجاہدین میں حکمت یار کو فیورٹ بنا کر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ پھر جب گلبدین حکمت یار اور دیگر کمانڈروں کے خلاف طالبان نکلے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دے کر ان کو بھی ناراض کیاجبکہ نائن الیون کے بعد ہم نے طالبان کو بھی ناراض کیا۔

پاکستان میں کسی زمانے میں فوج نے بھٹو کو آؤٹ کرنےکیلئے مسلم لیگ(ن) کو تخلیق کیا اور مذہبی جماعتوں کو سپورٹ دی ۔ پیپلز پارٹی پہلے سے ناراض تھی لیکن99 میں جنرل مشرف کی نون سے بھی دشمنی ہوگئی۔ نائن الیون کے بعد جنرل مشرف نے مذہبی جماعتوں کو بھی ناراض کیا۔دوسری طرف پختون، بلوچ اور اردو بولنے والے پہلے سے ناراض تھے لیکن ان کی ناراضیاں دور کرنے کے بجائے پہلے فوج نے ان کو نون لیگ اور پھر پی ٹی آئی جیسی جماعتوں سے غیرفطری طریقے سے آئوٹ کرنا چاہا۔ یوں وہ قوم پرست جماعتیں بھی اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہوئیں۔لیکن آخری کیل پی ٹی آئی کے پروجیکٹ نے ٹھونک دی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اب کی بار سارے انڈے پی ٹی آئی کی باسکٹ میں ڈال دئیے اور باقی تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو ان کی خاطر قربانی کا بکرا بنا دیا۔

 عمرانی پروجیکٹ کی خاطر عدلیہ، میڈیا ، سول سروس اور پولیس کو بھی بری طرح استعمال اور کسی حد تک بے اختیار کیا گیا۔ گویا سب کو عمرانی پروجیکٹ کیلئے قربان کیا گیا لیکن دوسری طرف عمران خان بطور حکمراں اسٹیبلشمنٹ کیلئے مصیبت اور وفاقی حکومت سے فارغ ہونےکے بعد وبال جان بن گئے۔

 اپنے لاڈلے پن اور جھوٹ پر مبنی بیانئے سے انہیں جو شہرت ملی، اسے بروئے کار لاکر انہوں نے فوج کو بلیک میل کرنے اور دوبارہ اپنی طرف لانے کیلئے وہ زبان درازی کی اور کروائی جس کا ماضی میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور قوم پرست جماعتوں کو یقین نہیں آرہاتھا کہ عمران خان کی سرپرستی چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ وہ دیکھ رہی تھیں کہ عمران خان کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہورہا ہے جو ان کے ساتھ ہوتا رہا۔

 میرے نزدیک یہ سب سے فوری اور ہنگامی چیلنج ہے کہ جس سے سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف نمٹنا ہوگا۔ اس پل صراط پر سفر یوں ہوگا کہ ایک طرف فوج کو آئینی کردار تک محدود کرکے آئین اور قانون کے دائرے میں لانا ہوگا اور دوسری طرف ماضی کی غلطیوں کی تلافی اور جن لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ، اس کا ازالہ بھی کرنا ہو گا ۔ دیکھتے ہیں جنرل عاصم منیر اور ان کے ساتھی اس پل صراط کو کیسے عبور کرتے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔