بلاگ
20 جنوری ، 2023

نوازشریف کی واپسی میں اصل چیلنج؟

عمران خان کو یقین ہے کہ میاں نوازشریف وطن نہیں لوٹیں گے جبکہ مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ پارٹی کے قائد جلد وطن واپس آئیں گےجو سیاسی شعور رکھتےہیں انکے نزدیک انتخابات سے پہلے میاں نوازشریف کی وطن واپسی سو فیصد یقینی سہی، اصل سوال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم کی وطن واپسی میں اصل چیلنج کیا ہے؟

مسلم لیگ ن کی قیادت کا لندن میں جمعرات کو جو اجلاس ہوا، اس میں میاں نوازشریف کی وطن واپسی کے بارے میں پارٹی قیادت کی رائے لی گئی، سینئر ترین رہنماؤں نے میاں نوازشریف سے درخواست کی کہ وہ وطن آکر انتخابی مہم کی قیادت کریں۔یہ رہنما جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف خود بھی وطن واپسی کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں،  وہ سمجھتےہیں کہ اناڑی عمران خان نے 4 سال میں معیشت کا جوجنازہ نکالا ہے، اگر غلطی سے بھی پی ٹی آئی دوبارہ برسراقتدار آئی تو ملک کو پیروں پہ پھر سے کھڑا کرنا ناممکن ہوجائے گا۔

مریم نواز کو پارٹی آرگنائزر بنا کر میاں نوازشریف وطن بھیج تو رہے ہیں مگر وہ جانتے ہیں کہ سیاسی بحران میں گھرے ملک اور اقتصادی مسائل میں جکڑے عوام کو اگر ساتھ لے کر چلنا ہے تو یہ کام محض مریم نواز یا حمزہ شہباز پر چھوڑنا نہیں چاہیے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے مؤقف پر یوٹرن اور پھر اعتماد کاووٹ لینے سے گجرات کے چوہدری کو روکنے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ن لیگ کی قیادت زمینی حقائق کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے اور یہ بھی کہ لندن میں بیٹھ کر پارٹی کو فعال نہیں کیا جاسکے گا۔

جہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے، وہ اتحادی حکومت سے معاملات سلجھانے کی حد تک تو درست سہی، پارٹی معاملات انکے بس سے باہر ہیں۔ پارٹی قیادت شہبازشریف کے بس کی بات اس لیے بھی نہیں کیونکہ ن لیگ کو ووٹ شہباز شریف نہیں نوازشریف کےنام پر ملتا ہے۔

میاں شہباز شریف کی جانب سے حمزہ شہباز کو وزیراعلٰی بنانے کی ناکام کوشش اس بات کی بھی علامت ہے کہ اگرپارٹی معاملات شہبازشریف کے ہاتھ میں رہے تو طاقت کا اصل مرکز مٹھی سے ریت کی طرح نکلتا رہے گا۔

اس میں شک نہیں کہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں مریم نواز کی شعلہ بیانی بھی کام نہیں آئی تھی مگر انتخابی مہم کی قیادت کرکے مریم نواز نے خود کوسیاسی طور مانجھ ضرور لیا ہے۔حمزہ شہباز کے مقابلے میں نہ صرف اپنی شناخت پیدا کی بلکہ ملک کے مختلف شہروں میں پی ڈی ایم کے سرکردہ رہنماؤں کے شانہ بشانہ ہو کر وہ ملکی سیاست میں اپنی جگہ بناچکی ہیں۔

مریم نواز کی سب سے زیادہ دانش مندی یہ رہی کہ انہوں نے موجودہ حکومت میں وزارت نہیں لی،ساتھ ہی انہوں نے اکثر موقعوں پر شہباز حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ وجہ واضح ہے کیونکہ موجودہ اتحادی حکومت میں شامل رہنما جس منہگائی کیخلاف آواز بلند کرکے عمران خان کیخلاف نکلے تھے،اس منہگائی کا جن بوتل سے انہی کے دورمیں پوری طرح باہر آیا ہے۔

بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتیں اب متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی دور ہوچکی ہیں۔ عمران دور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا تھا اور اب لوگوں کو نہ بجلی میسر ہے ، نہ گیس۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر مجبورحکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات اور اسکے سبب بجلی کی قیمتیں کئی گنا بڑھا چکی ہے جبکہ ڈالر کا ریٹ اس سطح پر لایا جا چکا ہے کہ کاروباری طبقہ پس کر رہ گیا ہے۔

عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یوکرین جنگ کی قیمت پاکستان ہی نہیں،امریکا اوریورپ سمیت پوری دنیا اٹھارہی ہے اور ایسے میں حکومت کتنا بھی چاہے، مہنگائی کم نہیں کرسکتی یہ لاکھ الیکشن کا سال ہو مگر دکھاوے کو بھی عوام کو لالی پاپ نہیں دیا جاسکتا۔

یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کے رہنما خود کو پارٹی میں کتنا ہی طرم خان سمجھیں سب اس بات پر قائل ہیں کہ انکی باتیں لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کرتیں۔ وہ متفق ہیں کہ ووٹرز کو پولنگ بوتھ تک لانے کا کرشمہ نوازشریف کے علاوہ کوئی نہیں دکھا سکتا۔

حقیقت یہ ہےکہ ن لیگ کا دوسرانام ہی نوازشریف ہے  جس طرح بے توقیر کرکے انہیں سیاست سے مائنس کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، قوم انہی کی زبانی سادہ مگر پراثر لفظوں میں دوٹوک سننا چاہتی ہے کہ کھیل بگاڑا کس نے اورکیوں؟ یہ بھی کہ اس ملک کومسلسل کس طرف دھکیلا جارہا ہے؟ آخر وہ کون ہیں جو صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں؟

سوال یہ بھی ہے کہ کیا نوازشریف کے وطن لوٹنے میں محض انکے خلاف موجود کیسز حائل ہیں؟ شاید ایسا نہیں کیونکہ نوازشریف جیل اور جلاوطنی دونوں ہی برداشت کر چکے ہیں۔

کیا نوازشریف منتظر ہیں کہ پہلے دیکھ لیں کہ مُہار، پی ٹی آئی کا اونٹ کس سیاسی کروٹ بیٹھاتا ہے؟ بقول خالد مقبول صدیقی کے جو باتیں عمران خان نے کہی ہیں اگر ایم کیوایم والے کرتے تو انکی مائیں انہیں ڈھونڈتی پھرتیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد نگراں حکومت کیا نوازشریف کو وہ سیکیورٹی دے پائے گی جوان جیسے لیڈر کو ملنی چاہیے؟ پاکستان بے نظیر بھٹو جیسی بے نظیر شخصیت کو پہلے ہی کھو چکا ، عمران خان کو ریلی میں سرعام دن دیہاڑے گولیاں ماری جاچکیں۔

لوگوں کو یہ بھی یاد ہے کہ 2007 میں جس روزبے نظیر بھٹو پر خودکش حملہ کیا گیا تھا،اس سے پہلے میاں صاحب کی ریلی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ یہی نہیں1999 میں بھی نوازشریف پر قاتلانہ حملے کی سازش کی جاچکی ہے۔ ایسے میں نوازشریف وطن لوٹتے ہیں تو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ وہ انتخابی مہم کی بھرپور قیادت کرسکیں؟

مسلم لیگ ن کے پاس صرف نوازشریف ہیں۔ نوازشریف کی واپسی ن لیگ میں پھر جان تو ڈال سکتی ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے وطن لوٹنے پر تیار نوازشریف کو تحفظ کون دے گا؟


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM