دنیا
22 جنوری ، 2023

برازیل میں پرتشدد مظاہرے، صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے 8 جنوری کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرہ کیا تھا اور سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کیے تھے۔ فوٹو فائل
برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے 8 جنوری کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرہ کیا تھا اور سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کیے تھے۔ فوٹو فائل

برازیلیا: برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر لولا ڈی سلوا نے دارالحکومت برازیلیا میں دو ہفتوں کے احتجاج کے بعد ملک کے آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا نے 30 دسمبر کو اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔

جنرل اروڈا کی جگہ صدر لولا ڈی سلوا کے قریبی کمانڈر جنرل ٹومس ربیریو پیویا کو نیا آرمی چیف لگایا جا رہا ہے جنہوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے عوام کو صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

صدر لولا ڈی سلوا کا کہنا ہے انہیں شک ہے کہ آرمڈ فورسز کے اہلکار بھی مظاہرین کے ساتھ ملے ہوئے تھے، برازیل کے صدر نے حالیہ دنوں فوج کے کئی افسران کو برطرف کیا ہے۔

یاد رہے کہ برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے 8 جنوری کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرہ کیا تھا اور سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کیے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہروں میں درجنوں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے اور مظاہرین نے صدارتی محل، کانگریس اور سپریم کورٹ کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

برازیل کے پولیس حکام کے مطابق 8 جنوری کو ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں 2000 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جس میں سے 1200 تاحال زیر حراست ہیں۔

مزید خبریں :