Time 07 فروری ، 2023
دنیا

ترک صدر نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کردی

ترکیہ کی میں زلزلے سے 3549 اور شام میں 1602 افراد جاں بحق ہوچکے اورہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5151 پر پہنچ گئی— فوٹو: ٹی آر ٹی
ترکیہ کی میں زلزلے سے 3549 اور شام میں 1602 افراد جاں بحق ہوچکے اورہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5151 پر پہنچ گئی— فوٹو: ٹی آر ٹی

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کردی۔

انقرہ میں خطاب سے ترک صدر کا کہنا تھاکہ ہولناک زلزلے کے باعث نقصانات سے امدادی کاموں میں دشواری ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ  جنوبی ترکیہ میں زلزلے کا شکار 10 شہروں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ امدادی کاموں کیلئے 5 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھاکہ بے گھر ہونے والے افراد کیلئے 45 ہزار پناہ گاہیں جنگی بنیادوں پر تعمیرہوں گی جبکہ زلزلہ زدگان کو اناطولیہ کے ہوٹلوں میں عارضی طور رکھنے پرغور کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ترکیہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے، 70 سے زائد ممالک نے امداد اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافہ

ترکیہ اور شام میں زلزلے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 5151 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے زلزلے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے میں 3549  افراد جاں بحق اور 22 ہزار 168 زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں 8 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی (افاد) کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 6217 عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

اُدھر شام میں بھی زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 1602 تک پہنچ گئی ہے اور دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 5151 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مزید خبریں :