03 اپریل ، 2023
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے مسلم ن کے قائد نواز شریف کی تعریف کر دی۔
ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے ساتھ ہی قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر دینے کی تردید کر دی۔
ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چلاتھا کہ شہبازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کر دی ہے تو میں نے کہا اگر وہ توسیع دے رہے ہیں تو ہم بھی آپ کو دے دیتے ہیں، جنرل باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا، ہر انسان غلطیاں کرتا ہے مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں۔
عمران خان نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی ، اقتدار کے بعد میری ان سے دو میٹنگ ہوئیں جس کا مقصد الیکشن کرانا تھا، میں نے ان کو کہا کہ ملک نیچے جا رہا ہے سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، جب انہوں نے ہمارے اتحادیوں کو لوٹے بنا کر دوسری طرف بھیجا تو میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سوموٹو ایکشن لیا گیا، 12 بجے عدالتیں کھلیں، ہمارے الیکشن کے اعلان کو رد کر دیا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ شہباز شریف کو سمجھتے تھے کہ بہت بڑا جینیئس ہے لیکن ایسا نہیں تھا، دیکھ لو ان کا کیا لیول ہوگا، جنرل باجوہ کے خیالات ان لوگوں سے زیادہ ملتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جنرل باجوہ اور ہم خارجہ پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر ایک صفحے پر تھے، آخری 6 ماہ میں چینج آیا، خارجہ پالیسی میں بھی ایک دم تبدیل ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ یوکرین جنگ میں ہم نیوٹرل رہیں، ایک دم ان کو یہ ہوا کہ ہمیں روس کی مذمت کرنی چاہیے ۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ یہ ساری گیم اپنی توسیع کیلئے ہوئی تھی، شہباز شریف سے انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کو توسیع مل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے این آرو کی بات کی، پہلے کبھی نہیں کی۔
عمران خان نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں عوام نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی، واضح ہوگیا کہ 2018 کے الیکشن میں ہمیں عوام نے جتوایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ورکرز پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان چوروں کو قبول کر لیں۔
عمران خان نے کہا کہ مارشل نہیں لگ سکتا، پبلک ہی آپ کے ساتھ نہیں تو مارشل لا کیسے لگائیں گے، ہماری حکومت آئی تو شوکت ترین ہی ہمارے وزیرخزانہ ہوں گے البتہ میں نے ابھی چیف منسٹر کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔