Time 03 مئی ، 2023
دنیا

اقوام متحدہ کا آئندہ چند ماہ کے دوران درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کا انتباہ

عالمی ادارے نے یہ انتباہ کیا / فائل فوٹو
عالمی ادارے نے یہ انتباہ کیا / فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے آئندہ چند ماہ کے دوران عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا کہ آئندہ چند ماہ میں ایل نینو موسمیاتی رجحان تشکیل پانے کا امکان ہے جس سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا بلکہ نئے ریکارڈز بن سکتے ہیں۔

ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

گزشتہ 3 سال کے دوران لا نینا لہر دیکھنے میں آئی تھی جو کسی حد تک موسم کو سرد رکھتی ہے۔

اس کے باوجود گزشتہ 8 سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سال قرار پائے ہیں، تاہم ایل نینو کے باعث حالات زیادہ بدتر ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق اس بات کا 60 فیصد امکان ہے کہ جولائی کے اختتام تک ایل نینو لہر بن جائے گی جبکہ ستمبر کے آخر تک اس کے بننے کا امکان 80 فیصد ہے۔

ڈبلیو ایم او کے سربراہ Petteri Taalas نے بتایا کہ لانینا نے عارضی طور پر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روک دیا تھا، مگر ایل نینو کے باعث عالمی درجہ حرارت نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ سکتا ہے۔

اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ ایل نینو لہر کی شدت کتنی ہو گی یا اس کا دورانیہ کتنا طویل ہو سکتا ہے۔

ایل نینو کی آخری لہر کی شدت ماضی کے مقابلے میں کمزور تھی مگر اس سے پہلے 2014 سے 2016 کے دوران اس موسمیاتی رجحان کے باعث درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

2016 کو ابھی دنیا کا گرم ترین سال قرار دیا جاتا ہے جس دوران ایل نینو لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں نے اثرات مرتب کیے تھے۔

Petteri Taalas نے کہا کہ دنیا کو ایل نینو کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے باعث موسمیاتی اثرات کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں مؤثر ارلی وارننگ سسٹمز کو استعمال کریں تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

واضح رہے کہ عام طور پر ایک موسمیاتی رجحان کم از کم 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔

مزید خبریں :