Time 25 مئی ، 2023
پاکستان

مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ کا پی ٹی آئی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان

کاش بس میں ہوتا 9 مئی کا دن زندگی سے مٹاسکتی، عمران خان سے لینڈ لائن پر بات ہوئی تھی اور 11 مرتبہ بات ہوئی تھی، گرفتاری کے بعد عمران اپنی فیملی کیلئے پریشان تھے: مسرت چیمہ— فوٹو: سوشل میڈیا
کاش بس میں ہوتا 9 مئی کا دن زندگی سے مٹاسکتی، عمران خان سے لینڈ لائن پر بات ہوئی تھی اور 11 مرتبہ بات ہوئی تھی، گرفتاری کے بعد عمران اپنی فیملی کیلئے پریشان تھے: مسرت چیمہ— فوٹو: سوشل میڈیا

مسرت جمشید چیمہ اور ان کے شوہر جمشید چیمہ کی جانب سے بھی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو خیر باد کہہ دیا گیا۔

پریس کانفرنس میں جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا۔

مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ کاش بس میں ہوتا تو 9 مئی کا دن اپنی زندگی سے مٹاسکتی ، بڑا بیٹا کینسر کا مریض رہا ہے اس سے زیادہ دیر الگ نہیں رہ سکتی۔

مسرت جمشید چیمہ کے شوہر جمشید چیمہ نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کی اطلاع آئی تو میں جناح ہاؤس کے سامنے پہنچا، جناح ہاؤس پر حملے کا نہیں وہاں احتجاج کا پلان تھا، جناح ہاؤس میں جو لوگ داخل ہوئے توڑ پھوڑ کی قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔

جمشید چیمہ نے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ میں جو بیانیہ بنا اس میں سینیئر قیادت اور عمران خان شامل ہیں، اس بیانیے کی وجہ سے جو فضا بنی اس کی انتہا 9 مئی کے واقعات بنے، ہم بھی ہجوم کو کنٹرول نہ کرسکے اور پرامن احتجاج نہیں ہوا،  سیاسی جماعت کا کارکن اگر  پرامن نہیں تو تربیت میں نقص ہے، ہم اپنی اس ناکامی کو قبول کرتے ہیں۔

جمشید چیمہ نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ غلط تھا یہ ناکامی تھی، احتجاج میں تشدد کا عنصر شامل ہوا اب ہم سیاست جاری نہیں رکھ سکتے۔

مسرت چیمہ نے کہا کہ کاش اگر بس میں ہوتا تو 9 مئی کا دن اپنی زندگی سے مٹاسکتی ، فوج ہم سب کی آزادی اور سکون کی محافظ ہے، عمران خان سے لینڈ لائن پر بات ہوئی تھی اور  11 مرتبہ بات ہوئی تھی، میری اعظم سواتی سے کوئی بات نہیں ہوئی، گرفتاری کے بعد عمران خان اپنی فیملی کیلئے پریشان تھے، عمران خان نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے، ہم سب کو قوم میں جو بربادی آئی ہے اس پر بولنے کی ضرورت  ہے۔


آج جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا ہے۔  ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے جمشید چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے نظر بندی کے آرڈر  منسوخ کیے جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔

یاد رہے کہ 9 مئی کے روز القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں متعدد مقامات پر پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اس دوران شرپسند کارکنوں نے ریاستی اور فوجی تنصیبات پر دھاوا بول دیا۔

3 روز کے پرتشدد احتجاج کے دوران 8 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، اس دوران ریاست و فوجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا، ملکی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے کئی روز تک انٹرنیٹ معطل رکھا۔

بعد ازاں حکومت نے 9 مئی کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس میں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

9 مئی کے بعد سے عمران خان کے کئی قریبی ساتھیوں سمیت کئی ارکان پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرچکے ہیں، یہی نہیں متعدد کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے عمران خان کی کئی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

ذیل میں اب تک چاروں صوبوں سے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والے اہم پارٹی رہنماؤں اور سابق ارکان اسمبلی کی فہرست موجود ہے۔

پنجاب

سینیئر نائب صدر فواد چوہدری

سینیئر نائب صدر شیریں مزاری

سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان

سابق ایم پی اے عبد الرزاق خان نیازی

سابق ایم پی اے مخدوم افتخار الحسن گیلانی

سابق ایم پی اے میاں جلیل احمد شرقپوری

سابق ایم این اے خواجہ قطب فرید کوریجہ

بانی رکن عامر محمود کیانی

چوہدری وجاہت حسین

سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم

پی ٹی آئی مغربی پنجاب کے صدر فیض اللہ کموکا

پی ٹی آئی کے سابق مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسلام آباد ڈاکٹر محمد امجد

سابق ایم پی اے سید سعید الحسن

سابق ایم پی اے سلیم اختر لابر

ایم این اے چوہدری حسین الٰہی

سابق ایم این اے حیدر علی

ٹکٹ ہولڈر (PP-247) چوہدری احسان الحق

ٹکٹ ہولڈر (PP-248) ڈاکٹر محمد افضل

سابق ایم پی اے ظہیرالدین خان علی زئی

سابق ایم پی اے عون ڈوگر

سابق ایم پی اے عبدالحئی دستی

سابق ایم پی اے ملک مجتبیٰ نیاز گشکوری

سابق ایم پی اے علمدار حسین قریشی

سابق ایم پی اے سجاد حسین چینہ

سابق ایم پی اے سردار قیصر عباس خان مگسی

سابق ایم پی اے اشرف رند

سابق ایم پی اے جاوید انصاری

خیبر پختونخوا

سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ ملک

کے پی حکومت کے سابق ترجمان اجمل وزیر

ایم این اے عثمان ترکئی

ایم این اے ملک جواد حسین

کے پی کے سابق وزیر محمد اقبال وزیر

سابق ایم پی اے نادیہ شیر

ضلعی رہنما ملک قیوم حسام

سندھ

ایم پی اے بلال غفار

ایم این اے جے پرکاش

ایم پی اے عمر عمری

پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر محمود مولوی

پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی

ایم پی اے سید ذوالفقار علی شاہ

ایم پی اے سنجے گنگوانی

ایم پی اے ڈاکٹر عمران شاہ

ضلعی صدر خیرپور سید غلام شاہ

بلوچستان

سابق صوبائی وزیر مبین خلجی 

مزید خبریں :