Election 2024 Election 2024

مہنگائی کا نیا طوفان

وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہاکہ گزشتہ 15دنوں کے دوران روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے لیکن دوسرے آئٹم میں اضافہ ہوا ہے جس آئٹم میں اضافہ ہوا ہے ہم نے اس کی پاکستانی روپے میں بہتری کی وجہ سے کچھ تلافی کرنے کی کوشش کی ہے۔

 یکم جولائی کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی جو آئی ایم ایف سے طے تھا اس میں مزید کوئی تبدیلی نہیں کر رہے،16سے31جولائی تک کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل واجب تھا آئندہ15روز کیلئے پٹرول کی قیمت میں 9روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 7روپے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے۔پیٹرول کی فی لیٹرقیمت 262روپے سےکم کر کے 253روپے جبکہ ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 260روپے 50پیسے سے کم کر کے 253روپے 50پیسے فی لٹر کر دی گئی ہے ۔

ملک میں گزشتہ ایک برس سے جاری مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ،اس وقت پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جا رہاہے،جہاں افراطِ زر کی شرح ریکارڈ سطح پر ہے ،خود حکومتی اعداد شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح 42فیصد سے بھی زائد ہے ،ایسے میں حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کیلئے راستے تلاش کرنے چاہئیں تھے مگر ایسا نہیں کیا گیابلکہ اس مرتبہ بھی بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 4روپے 96پیسے اضافے کی صورت میں نیا بوجھ ڈالنے کا نیپرا نے اعلان کیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ مالی سال کے تعین کردہ فی یونٹ 24روپے 82پیسے میں متذ کرہ اضافے کے بعد بنیادی ٹیرف 29روپے 78پیسے پر پہنچ گیا ہے ۔

جبکہ بجلی کے بلوں میں مختلف مدوں میں وصول کئے جانے والے محصولات اس کے علاوہ ہیں۔اس طرح بجلی کے گھریلو نرخ50روپے فی یونٹ سے متجاوز ہو گئے ہیں۔یہ صورتحال بتاتی ہے کہ 2018سے مسلسل بڑھنے والی مہنگائی ابھی رکی نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔نیپرا نے ٹیرف بڑھنے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی ،افراط زر اورسود میں اضافہ بتائی ہے جس کے مطابق ڈسکوز کے کل ریونیو کا تخمینہ تقریباً 3281ارب روپے متوقع ہے۔سا تھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری اور شرح سود میں کمی کی صورت میں ٹیرف کا فائدہ براہ راست صارفین کو منتقل کیا جائے گا ۔

نیپرا کے یہ معاملات اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک بھر میں جتنی بجلی استعمال ہو رہی ہے اس کا غیر معمولی حصہ لائن لاسز کی شکل میں حکومت کیلئے مالی نقصان کا باعث بن رہاہے جبکہ اسی قدر مراعات یافتہ طبقے کو مفت فراہم کر کے ادائیگیوں اور وصولیوں کو با ر بار نرخ بڑھا کر توازن میں لانا پڑ رہا ہے ۔حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 35فیصد بڑھائی ہیں جن کی تعداد نجی شعبے کے2تہائی سے بھی کم ہے ،اس طرح تنخواہیں اور اجرتیں جوں کی توں رہنے سے 65فیصد افراد کو بجلی اور اس کی وجہ سے بڑھنے والی مہنگائی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا جسکے وہ متحمل نہیں ہو سکتے ۔بہتر یہی ہو گا کہ لائن لاسز (بجلی کی چوری )کامکمل خاتمہ اور مراعات یافتہ طبقے سے مکمل ٹیرف وصول کرنے کی سعی کی جائے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ریئل اسٹیٹ اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کا پلان مانگ لیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے سے محصولات بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔آئی ایم ایف نے یہ شرئط بھی عائد کی ہے کہ ٹیکس آمد نی بڑھانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق رکھی جائے۔ مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے صوبوں کو سر پلس بجٹ دینا ہوگا ۔سرکاری اداروں میں گورننس بہتر بنائی جائے ۔اس طرح کے کچھ اور اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں جن کے نتیجے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.25فیصد، بیروزگاری کی 8فیصد اور معاشی ترقی کی شرح 5.2فیصد ہوسکتی ہے۔

گزشتہ تین چا ر برس سے ملک غذائی قلت کا شکار ہے خوش قسمتی سے چینی کا عنصر باقی بچا تھا جس کی پیداوار سر پلس ہے لیکن اسمگلر ،ذخیرہ اندوز اور منافع خور مافیا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔کین کمشنر پنجاب کی طرف سے صوبے کے ڈپٹی کمشنرز کو جاری مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چینی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے اور اس کی افغانستان اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کریں ۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف روٹوں سےتقریباََ 700ٹن چینی افغانستان پہنچائی جاتی ہے۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ سیزن میں مل مالکان کے اصرار پر مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ ٹن چینی بر آمد کرنے کی اجازت دی تھی ۔ اس صورتحال میں اندرون ملک مقامی کھپت کے مطابق چینی کے ذخائر باقی رہ جاتے ہیں۔

عموماََ منافع خور،ذخیرہ اندوز اور اسمگلنگ مافیا اس کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اسٹاک کم ہوجانے یا مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں ۔ واضح ہو کہ 5ماہ قبل بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور چینی کے نرخ یک لخت 85روپے سے بڑھ کر 160روپے فی کلو تک جا پہنچے تھے ،حکومت نے چھاپے مار کر ذخیرہ شدہ چینی بر آمد کی تھی ۔یہ صورتحال اب دوبارہ درپیش ہے اور کوئٹہ، پشاور،لاہور اور کراچی سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں اس کے نرخ 150روپے فی کلو تک جا پہنچے ہیں اگر اسمگلروں ،ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں سے آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا تو ممکنہ حالات پہلے سے بھی زیادہ گمبھیر ہو سکتے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔