Election 2024 Election 2024

بلاگ
Time 16 ستمبر ، 2023

G20 سمٹ کا عالمی سیاست میں رول

(گزشتہ سے پیوستہ)

ترک صدر اردوان نے بائیڈن، مودی، میکرون ،جسٹن ٹروڈو، شیخ حسینہ اور دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ مہاتما گاندھی کی سمادھی پر حاضری بھی دی اور اہنسا( نان وائیلنس) کے اس عالمی پرچارک کو احترام پیش کیا۔ بی جے پی اندرون ملک گاندھی جی پر جتنے بھی تنقیدی تیر چلاتی رہے لیکن مودی کو بیرونی دنیا بالخصوص ویسٹ میں مہاتما گاندھی کی پاپولیریٹی کا ادراک ہے، اسلئے اس موقع پر وہ عالمی لیڈروں کے گلوں میں گاندھی کے چرخے سے منسوب کھڈی کےمفلر ڈالتے ہوئے اپنے باپو کے گن گا رہے تھے ۔

وزیراعظم مودی کی دیگر ویسٹرن مڈل ایسٹ اورعرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے علاوہ خلیج تعاون کونسل سے تعلق بڑھانے کی کاوشیں بھی ملاحظہ کی جاسکتی تھیں۔ دیگر عالمی قیادتیں تو دو روز کیلئے دہلی کانفرنس میں شریک ہوئیں جبکہ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے اپنے بڑے وفد کے ساتھ یہاں تین روز قیام کیا، تیسرا روز ان کا خصوصی سرکاری دورہ طے پایااسی طرح چین کا افریقی ممالک میں جو اثرورسوخ قائم تھا مودی نے بڑی حد تک اسے بھی رام کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ 

جن دنوں بھارت میں چندریان کی کامیابی کا جشن منایا جارہا تھا مودی ساؤتھ افریقہ میںتھے اسی طرح انہوںنے نائجیریا کو قریب لانے میں بھرپور گرم جوشی دکھائی اور وہاں کوئی 19ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے G20 سمٹ کی سربراہی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے AUیعنی افریقن یونین کو G20کا باضابطہ ممبر بنوالیا ہے۔واضح رہے کہ افریقن یونین پچپن افریقی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے اور مودی نے سمٹ اجلاس کے دوران جس عزت افزائی کے ساتھ ممبر ممالک سے اس کی منظوری حاصل کرتے ہوئے افریقن یونین چیف کو دعوتِ خطاب دیتے ہوئے بلایا جے شنکر بھارتی وزیرخارجہ ان کی ٹیبل پر پہنچے اور ساتھ لے کر آئے ان کے خطاب میں شکریے کی جو گرمجوشی تھی یوں محسوس ہورہا تھا کہ انڈیا نے دنیا کی سترہ فیصد آبادی کو رام کر لیا ہے۔ سمٹ میں مودی کا کہنا تھا کہ ہم پوری دنیا میں تعاون، اعتماد اور جڑاؤ کو اس طرح بڑھائیں گے کہ ہماری آنے والی نسلوں میں دوستیاں اور تعلق واسطے قائم ہوجائیں۔ یہ اس اپروچ کا نتیجہ تھا کہ سعودی کراؤن پرنس یہ کہتے سنائی دیے کہ ہماری ہند کے ساتھ صدیوں پر محیط اچھے تعلقات کی تاریخ ہے اور ہمارا انڈیا کے ساتھ کبھی کوئی تنازعہ یا اختلاف نہیں رہا۔ 

انہوں نے بھارت کے ساتھ سوشل، کلچرل اور اکانومی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے تعاون کو ویلڈن انڈیا کہا ۔ G20 اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ بھارتی وزیراعظم نے یونائیٹڈ اسٹیٹس اور کنگڈم آف سعودیہ کے بیچ غلط فہمیوں یا یہ کہ ہر دو شخصیات بائیڈن اور ایم بی ایس میں فاصلے کو قربت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا جس پر دونوں شخصیات نے مودی کی ستائش کی۔ مودی کی یہ خواہش محسوس کی جاسکتی تھی کہ مڈل ایسٹ ممالک چائنہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے انہیں اپنا دوست سمجھیں اور اپنے اصل اتحادی امریکا کی قربتوں میں خوشی محسوس کریں، اسی طرح افریقی ممالک چائنہ سے فاصلہ بڑھاتے ہوئے امریکا اور انڈیا کے مزید قریب ہو جائیں۔نیو دہلی G20سمٹ ڈیکلریشن یا جوائنٹ اسٹیٹمنٹ کے حوالے سے ان خدشات کا اظہار کیاجارہا تھا کہ شاید یوکرین جنگ کے باعث یہ ممکن نہ ہوپائے کیونکہ مغربی جمہوری ممالک اُس میں جس نوع کی روسی مذمت چاہتے تھے جیسی بالی میں کی گئی تھی اسے قبول کرکے مودی اپنے تاریخی طور پر پرانے اتحادی رشیا کو ناراض کرنا نہیں چاہتے تھے اس سلسلے میں خوبصورتی سے بیچ کی راہ یوں نکالی گئی کہ روس کا نام لیے بغیر کسی بھی جنگجوئی یا جارحیت کی مذمت کی گئی یہ کہا گیا کہ عصرِ حاضر جنگ کا نہیں اکانومی کا دور ہے۔

 آٹھ پیراگراف میں دہشت گردی کی بھی خوب مذمت کی گئی یہ خارجہ تعلقات کا توازن تھا کہ روسی قیادت نے انڈیا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ کچھ اسی نوع کا طرز عمل امریکی صدر جوبائیڈن کا بھی تھا جنہوں نے ویتنام پہنچتے ہی نہ صرف نریندرمودی کی شان میں قصیدہ پڑھا بلکہ چائنہ کو بھی یقین دلایا کہ وہ اس کے خلاف کچھ کرنے نہیں جارہے ۔ اس ساری تگ و دو کا ہر دو ممالک کے علاوہ ذاتی حیثیت میں بائیڈن کو کوئی فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے البتہ اگلے برس مودی کو ضرور پہنچے گا۔ سعودی کراؤن پرنس کے ریفرنس سے سہ روزہ کارروائی میں پاکستان کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہوا ، البتہ ٹیررازم کے خلاف عالمی لیڈروں سے آواز اٹھوانا مودی کہیں نہیں بھولے حتیٰ کہ پرنس محمد بن سلمان نے بھی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرنا ضروری سمجھا۔ برطانوی وزیراعظم رشی سونک کی سرگرمیاں بھی پوری کتاب کا عنوان تھیں جوبائیڈن کی طرح رشی سونک نے بھی شیخ حسینہ کی خوب عزت افزائی کی ۔

شیخ حسینہ کرسی پر براجماں تھیں اور برطانوی پرائم منسٹر ٹانگیں ٹیڑھی کیے زمیں پر جھکے ان سے باتیں کرتے پائے گئے البتہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اپنی بھرپور عوامی پاپولیریٹی کے باوجود خالصتانی مسئلے پر کھچے کھچے دکھائی دیے اور مودی سے خوب بھاشن سنے اپنے جہاز کی مرمت کے بعد امید کی جا سکتی تھی کہ وہ اس وچار کی مرمت و درستی پر بھی دھیان دیں گے بلاشبہ کینیڈین پرائم منسٹر نے اس حوالے سے وضاحتیں پیش کیں کہ ہمارے سماج اور قوانین و ضوبط میں آزادئ اظہار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن بھارت نے خالصتانی ایشو پر کوئی نرمی نہیں دکھائی، المختصروزیر اعظم مودی نے جی ٹونٹی سمٹ کو اپنی قومی ترجیحات اور انڈین مفادات میں خوب استعمال کیا اور امریکا نے بھی اس سلسلے میں ان کی پوری معاونت کی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔