20 ستمبر ، 2023
آذربائیجان نے متنازع علاقے نگورنو کاراباخ میں مسلسل دوسرے روز آپریشن جاری رکھتے ہوئے آرمینیا کے علیحدگی پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔
آذربائیجان کا کہنا ہےکہ نگورنوکاراباخ میں اس کا فوجی آپریشن مسلسل دوسرے روز جاری ہے جسے انسداد دہشتگردی آپریشن قرار دیا گیا ہے۔
آذربائیجان حکام نے کہا کہ نگورنو کاراباخ میں یہ آپریشن آرمینینز کے ہتھیار ڈالنے تک جاری رہے گا۔
آذربائیجان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ آرمینیا کی مسلح فورسز کی فوجی تنصیبات جس میں فوجی گاڑیاں، آرٹلری اور ائیرکرافٹ تنصیبات کو بھی بے اثر کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب نگورنوکاراباخ حکام کا کہنا ہےکہ حملے میں دو عام شہریوں سمیت 27 افراد مارے جاچکے ہیں جب کہ حملے کے آغاز سے اب تک متعدد افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق باکو کہنا ہےکہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن غیر قانونی آرمینین فوج کی فارمیشنز لازمی طور پر ہتھیار ڈال کر امن کا سفید جھنڈا لہرائیں اور غیر قانونی حکومت کا خاتمہ کرے۔
واضح رہےکہ آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان جنگ تین سال قبل شروع ہوئی تھی اور نگورنوکاراباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
امریکا کا آپریشن بند کرنے کا مطالبہ
علاوہ ازیں آذربائیجان کے آرمینیا کے ساتھ متنازع علاقے نگورنو کاراباخ میں نئے فوجی آپریشن کے بعد صدرآذربائیجان الہام علیوف اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
آذربائیجان کے صدر نے انٹونی بلنکن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیائی علیحدگی پسند ہتھیار ڈال دیں تو نگورنو کاراباخ میں آپریشن ختم ہو جائے گا، کاراباخ میں رہنے والے آرمینیائی باشندوں کے نمائندوں کو کئی بار مذاکرات کیلئے بلایا لیکن انہوں نے مذاکرات سے انکار کردیا۔
صدر آذربائیجان سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے آذربائیجان کے فوج آپریشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔