پی ٹی آئی کو جلسوں سے کیوں روکا ؟ پشاور ہائیکورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کرلیا

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو جلسوں کی اجازت نہ دینے کے لیے توہین عدالت کیس کی سماعت میں پشاور ہائی کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر  اور چیف سیکرٹری کو طلب کرلیا۔

پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت نہ دینے کے لیے توہین عدالت کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

عدالت نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔

حکم نامے میں پوچھا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر بتائیں کیا پی ٹی آئی ضابطہ اخلاق پرعمل کر رہی ہے، اگر کر رہی ہے تو ایسے میں کیا پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے روکا جا سکتا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر یہ بھی وضاحت دیں کہ کیا پی ٹی آئی کو مہم جلسوں کی اجازت نہ دینے پر نگران حکومت کے خلاف کوئی کارروائی کی۔

اس کے علاوہ عدالت نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو بھی ذاتی حثیت میں طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ چیف سیکرٹری وضاحت کریں کہ کیا ایس او پیز صرف پی ٹی آئی کے لیے ہیں۔

عدالت نے الیکشن کمشنر، چیف سیکرٹری سمیت تمام فریقین کو 7 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

مزید خبریں :