Time 04 دسمبر ، 2023
بلاگ

رائے عامہ کے نام پر رائے مخصوصہ

ایک ہم عصر نے پاکستان میں موجودہ رائے عامہ کے بارے میں کچھ گل افشانی کی ہے۔ اس پر کچھ عرض و معروض کرنا ہے لیکن ساغر کہنہ کا ذکر کیے بغیر تناظر واضح نہیں ہو سکے گا۔ فردوسیِ اسلام، شاعر پاکستان اور قومی ترانے کے خالق محمد حفیظ المتخلص بہ حفیظ جالندھری بیسویں صدی کے آغاز پر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم معمولی تھی لیکن مولانا غلام قادر گرامی سے رشتہ تلمذ نے فن شعر میں صیقل کر دیا۔ ریاستی درباروں سے معاش کی یافت کرتے تھے۔ حیدر آباد یا بہاول پور گئے تو شاہنامہ اسلام کے ایمان افروز اقتباسات سنا کر خلعت و اکرام سے سرفراز ہوئے۔ مہاراجہ کشمیر کے دربار میں جلوہ افروز ہوئے تو رام لیلا کے کچھ ٹکڑے کہہ رکھے تھے۔ گیت کے لئے موزوں طبع پائی تھی۔

’ابھی تو میں جوان ہوں‘ اور ’بس درشن درشن میرا‘ کے ترنم سے سماں باندھ دیتے تھے۔ ذاتی نقطہ نظر کا روگ نہیں پالا تھا۔ ایک وقت میں لکھا،’وطن نام ہے جس کا ہندوستاں / وطن جس کی تعریف جنت نشاں‘۔ دوسری عالمی جنگ میں انگریز بہادر کے سررشتہ ’’سانگ پبلسٹی‘‘ سے وابستہ ہوئے تو ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ کی مخالفت میں طویل نظمیں خامہ ہزار رنگ سے برآمد ہوئیں۔ ایک نمونہ دیکھیے، ’پہلے مجھ سے بات کرے جو آزادی کا طالب ہے‘۔ غیر ملکی حکمران رخصت ہو گئے تو مقامی قبضہ گیروں کی چوکھٹ پر سیس نوائی۔ اس کایا کلپ کا کچھ قصہ حفیظ صاحب کے ہم نام حفیظ ہوشیار پوری نے اپنے ایک شعر میں سمیٹ رکھا ہے۔ ’جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں / وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں‘۔ اس کی تفصیل 50 ء کی دہائی میں راولپنڈی کے کسی عینی شاہد سے معلوم کر لیجیے گا۔ ان دنوں سردی کا موسم ہے اور مجھے شمالی علاقہ جات کی زمہریر ہوائوں سے خوف آتا ہے۔ حفیظ جالندھری تو فصل پارینہ کا نمونہ تھے۔ ان کا ذکر خیر محض حصول برکت کی غرض سے کیا ہے۔ مدعا محض یہ کہ عوام کے جذباتی زیر و بم سے کھلواڑ کی آڑ میں پیوستہ مفادات کی پرداخت ہمارے بزرگوں کی روایت ہے۔

رائے عامہ ایک جدید سیاسی تصور ہے۔ مطلق العنان حکمرانی کے ادوار میں بادشاہ سلامت کا فرمان ہی حرف قانون اور انصاف کا حتمی معیار تھا۔ عہد جدید میں جمہوریت نامی بلائے بے اماں کی نمود ہوئی تو رائے عامہ کی بدعت نے بھی سر اٹھایا۔ علم سیاست میں رائے عامہ کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے کہ وقت کے کسی متعین نقطے پر کسی خاص معاملے میں شہریوں کی انفرادی آرا کے مجموعے کی جمع تفریق سے برآمد ہونے والا عمومی احساس رائے عامہ کہلاتا ہے۔

رائے عامہ کو کوئی خاص سمت دینے کے لئے ذہن سازی کی سائنس وجود میں آئی، چنیدہ حقائق، غیر حقیقی اطلاعات اور افواہ جیسے آلات ایجاد کیے گئے ہیں جنہیں سیاسی مکالمے، نصاب تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ غیرجمہوری عزائم کی حامل ریاستیں، گروہ اور طبقات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام حقیقی اطلاعات سے بے خبر رہیں، انہیں حقائق سے لاعلم رکھا جائے نیز ان کے قدیمی رجحانات اور تعصبات کو لمحہ موجود کے چوکھٹے میں سجا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اپنے اصل مسائل اور ان کے پس پشت کارفرما اسباب کا علم ہی نہ ہو سکے۔ اس ضمن میں ہماری حالیہ تاریخ پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ تحریک خلافت ایک ہوائی شوشہ تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے معاشی و سیاسی مفادات کو سخت نقصان پہنچایا۔ لطف یہ ہے کہ’جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘ گانے والوں ہی نے اپنے اخبارات میں خلافت ختم کرنے والے مصطفیٰ کمال اتاترک کے سہرے لکھے۔ ’مصطفیٰ کمال وے تیریاں دور بلاواں‘۔ دوسروں کو دارالحرب سے ہجرت کرنے پر اکسانے والوں نے خود اپنے گھر کی دہلیز پار نہیں کی۔ آخر کوئی وجہ تھی کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم تحریک خلافت سے لاتعلق رہے۔

قیام پاکستان کے بعد مسئلہ کشمیر پر عوام کو زمینی حقائق سے بے خبر رکھا گیا؟ کیا 1951 میں ہمارے صحافی لیاقت علی خان کے قاتلوں کو نہیں پہچانتے تھے؟ حمید نظامی نے کس بنیاد پر خواجہ ناظم الدین سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ اکتوبر 1958 کے بعد کن صحافیوں نے ایوب خان کو مسیحا کے طور پر پیش کیا تھا۔ کیا بنیادی جمہوریت واقعی جمہوریت تھی؟ کیا جنگ ستمبر پر قوم کو حقائق سے باخبر رکھا گیا؟ کیا 1971 میں مغربی پاکستان کے عوام مشرقی پاکستان کی حقیقی صورت حال سے آگاہ تھے؟ کیا 1977 ء میں پاکستان واقعی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا تھا؟ وہ کون صحافی تھے جنہوں نے ضیا الحق سے کہا تھا کہ ’سیاسی سرگرمیوں پر آپ پابندی لگا دیں، رائے عامہ ہموار کرنا ہمارا کام ہے‘؟ کیا رائے عامہ بنانے والوں نے 1979 ء میں افغان جہاد کے مضمرات سے قوم کو آگاہ کیا تھا۔ وہ کون صحافی تھے جنہوں نے قوم کے خلاف بدترین کرپشن سے چشم پوشی کرتے ہوئے سیاست دانوں کو کرپشن کی ٹکٹکی پر باندھ لیا؟ 18 جنوری 2016 کو وزیراعظم نواز شریف پر قوم سے بد عہدی کا الزام لگانے والا صحافی یکم دسمبر 2023 کو لکھتا ہے کہ’شاید نواز شریف کو بھی جلد احساس ہو جائے کہ ملک میں گزشتہ چھ سے سات سال کے دوران زمینی حقائق ہائبرڈ جمہوریت کے حق میں تبدیل ہو چکے ہیں‘۔ یہ رائے قطعی گمراہ کن اور خلاف واقعہ ہے۔ ہائبرڈ جمہوریت دستور سے انحراف کی بدترین صورت ہے۔ یہ مفروضہ ’زمینی حقائق‘ قوم کے خلاف بدترین جرائم ہیں۔ آج پاکستان کی معیشت اور سیاست 2008 کے بعد سے ’ہائبرڈ جمہوریت‘ کے تجربے ہی کا تاوان ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کے عوام نے جنوری 1965 سے لے کر آج تک جب بھی موقع ملا، ہائبرڈ بندوبست کو مسترد کیا ہے اور جمہوریت کے حق میں رائے دی ہے۔ کل تک طالبان کی حمایت کرنے والے رائے عامہ کی نہیں، رائے مخصوصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وفاق پاکستان ہمارے دستور کے دھاگے سے بندھا ایک پیچیدہ اور نازک بندھن ہے جسے ذرائع ابلاغ کی نام نہاد پانچویں نسل کی دوغلی ابلاغی جنگ کی مدد سے نہیں جیتا جا سکتا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔