Time 08 دسمبر ، 2023
دنیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کے حق میں پانچ قراردادیں منظور

جنرل اسمبلی نے پناہ گزینوں کی مدد، امدادی کاموں اور پناہ گزینوں کے اثاثوں کے تحفظ سمیت یہودی آبادکار بستیوں کے خلاف قراردیں منظور کیں— فوٹو: فائل
جنرل اسمبلی نے پناہ گزینوں کی مدد، امدادی کاموں اور پناہ گزینوں کے اثاثوں کے تحفظ سمیت یہودی آبادکار بستیوں کے خلاف قراردیں منظور کیں— فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پناہ گزینوں کی مدد، امدادی کاموں اور پناہ گزینوں کے اثاثوں کے تحفظ سمیت یہودی آبادکار بستیوں کے خلاف فلسطینیوں کے حق میں 5 قراردادیں منظور کرلیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے حق میں منظور ہونے والی قرارداد کے حق میں 168 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکا سمیت 10 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے فلسطین میں امدادی کاموں سے متعلق قرارداد کو 165 ووٹوں سے منظور کیا گیا جبکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے اثاثوں کے تحفظ سے متعلق قرارداد کو 163 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔

فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکار بستیوں کے خلاف قرارداد 149 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ فلسطینیوں کے حقوق کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات سے متعلق قرارداد کو 86 ووٹ حاصل ہوئے۔

فلسطینیوں کے حقوق کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات سے متعلق قرارداد کیلئے ووٹنگ کے عمل میں 75 ممالک غیرحاضر رہے جبکہ 12 ممالک نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ (یو این) کے چارٹر کے  آرٹیکل 99 کا سہارا لیتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سکیورٹی کونسل کو خط لکھ کر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

انتونیو گوتریس کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی پر زور دے، غزہ کی صورتحال اس طرف بڑھ رہی ہے جہاں سے کوئی واپسی نہیں ہے، موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو خطے اور عالمی امن پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ غزہ میں وبائی امراض پھوٹنے اور امدادی کام ناممکن ہو جانے کے خدشات ہیں، سلامتی کونسل فوری طور پر اس سنگین مسئلے کے حل پر توجہ دے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 99 یو این سیکرٹری جنرل کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کی جانب سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کروائیں جس سے بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔

اس سے قبل یکم ستمبر 1959 سے لیکر 31 اگست 1966 تک یو این سیکرٹری جنرل کی جانب سے آرٹیکل 99 کا صرف دو مرتبہ استعمال کیا گیا، ایک مرتبہ 1960 میں کانگو کی صورتحال پر اور دوسری مرتبہ 1961 میں تیونس کی صورتحال پر آرٹیکل 99 کا استعمال کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کی جانب سےغزہ کی انتہائی کشیدہ صورتحال پر آرٹیکل 99 کے استعمال پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو حماس کا حمایتی قرار دے دیا جبکہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ایلی کوہن نے کہا کہ یو این سیکرٹری جنرل کی مدت ملازمت عالمی امن کیلئےخطرہ ہے۔

مزید خبریں :