19 جنوری ، 2024
ایران کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور بلوچستان میں حملوں کے بعد پاکستان نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایرانی سفیر کو ملک بدر کیا اور ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔
تاہم دونوں ممالک کی اس حالیہ کشیدگی سے پہلے ان کے درمیان خوشگوار اور باہمی تعلقات رہے ہیں جن پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ایران کی جانب سے بلوچستان میں حملے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان نے ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں آپریشن مرگ بر ، سرمچار کے ذریعے ایران کو جواب دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نےصبح ایران کے صوبے سیستان میں دہشتگردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا، پاکستان کی کارروائیوں میں متعدد دہشتگرد مارے گئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشت گرد ایران کے حکومتی عمل داری سے محروم علاقوں میں مقیم تھے، انٹیلی جنس معلومات پر کیے جانے والے اس آپریشن کا نام مرگ بر،سرمچار رکھا گیا۔ مزید پڑھیے۔۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایران کے علاقے سیستان میں کیے جانے والے حملے پر وضاحت دے دی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں اسٹرائکس کیں، ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائیاں کیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سیستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پناہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا اور اس آپریشن کا نام مرگ بر رکھا گیا تھا۔ مزید تفصیلات پڑھیے۔۔