Time 27 جنوری ، 2024
پاکستان

سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے: سرکاری وکیل

افسران کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ سائفر کیس کی وجہ سے پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدام ہوا اور اس سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچا: وکیل—فوٹو: فائل
افسران کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ سائفر کیس کی وجہ سے پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدام ہوا اور اس سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچا: وکیل—فوٹو: فائل

اسلام آباد: سائفر کیس میں استغاثہ ٹرائل کورٹ میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیادہ سے ز یادہ سزا یعنی 14 سال قید یا پھر سزائے موت کا مطالبہ کرے گا۔

سائفر کیس میں اسپیشل پراسیکوٹر رضوان عباسی نے دی نیوز کو جمعہ کے روز بتایا کہ استغاثہ کے پاس وزارت خارجہ کے تین سینئر افسران سہیل محمود، فیصل ترمذی اور اسد مجید کی گواہی کی بنیاد پر کافی شواہد موجود ہیں جن کے تحت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان افسران کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ سائفر کیس کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات متاثر ہوئے اور پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدام ہوا اور اس سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچا۔

تاہم، سائفر کیس میں عمران خان کے وکیل صفائی سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے کے بعد کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی وجہ سے سائفر کیس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد استغاثہ کیلئے ٹرائل کورٹ میں کیس ثابت کرنا مشکل ہوگا، سائفر کیس کے ذریعے رائی کا پہاڑ بنایا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریکارڈ پر دستیاب مواد کی جانچ کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ اس مرحلے پر کوئی ٹھوس مواد دستیاب نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ عمران خان نے عوامی جلسے میں امریکا سے موصول ہونے والے سائفر میں موجود معلومات کو اس انداز سے افشاء کیا کہ یہ ثابت ہو کہ اسے سوچے سمجھے انداز سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر یا پھر کسی غیر ملک کے فائدے کیلئے افشاء کیا گیا، اور نہ ہی ظاہر کردہ معلومات کا تعلق کسی بھی دفاعی تنصیبات یا امور سے ہے، اور نہ ہی انہوں نے عوامی جلسے میں کوئی خفیہ سرکاری کوڈ افشاء کیا۔

سپریم کورٹ نے مزید لکھا تھا کہ لہٰذا، ہماری عبوری رائے یہ ہے کہ اس مرحلے پر اس بات پر یقین کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ درخواست گزاروں نے ایکٹ کی دفعہ 5(3) کی شق (b) کے تحت قابل سزا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن اس کی بجائے اس جرم کے حوالے سے مزید انکوائری کی گنجائش موجود ہے، اور اس بات کا تعین ٹرائل کورٹ فریقین کی گواہی ریکارڈ کرنے کے بعد کریگی۔

استغاثہ کا سب سے زیادہ انحصار وزارت خارجہ کے تین سینئر افسران کی گواہی پر ہے جنہیں وہ اہم قرار دیتا ہے۔ ان افسران میں اُس وقت کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، اُس وقت کے پاکستانی سفیر برائے امریکا اسد مجید اور اُس وقت کے ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ فیصل ترمذی (جو اِس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر ہیں) شامل ہیں۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) کی شق (b) کے تحت سزا 14 سال قید یا سزائے موت ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 5(1) کی ذیلی شق نمبر اے تا ڈی کے تحت غلط انداز سے خفیہ سرکاری معلومات کے پھیلاؤ (کمیونی کیشن) کے جرائم پر سیکشن 5(3) کی ذیلی شق (b) کے تحت سزا سنائی جاتی ہے جس پر دو سال تک قید کی سزا یا پھر جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، اور یہ اس ایکٹ کے سیکشن 12(1) کی شق (b) کے تحت قابل ضمانت جرائم ہیں۔

نوٹ: یہ خبر 27 جنوری ، 2024 کو جنگ اخبار میں شائع کی گئی ہے۔

مزید خبریں :