Time 18 فروری ، 2024
بلاگ

متنازع انتخابات کے بعد حکومتی تشکیل کا معمہ

غیر شفاف انتخابات کے عجب کرشماتی نتائج کے بطن سے خلفشار ہی برآمد ہونا تھا۔ ہارنے والے مشکوک حکومتی دعویدار اور جیتنے والے جیت پر قانع ہونے کی بجائے مزاحمتی گھوڑے پہ سوار۔ ڈبل ہائبرڈ رجیم دوم تشکیل پانے سے پہلے ہی لاڈلے نمائشی اقتدار کی بندربانٹ پہ دست و گریباں۔ حالیہ انتخابات میں اگر مقابلہ تھا تو صرف بے نشان تحریک انصاف اور مقتدرہ میں جس میں معتوب ہیرو عمران خان نے پنجاب کے لاڈلوں کو مات دے دی۔ دھاندلی دھاندلی کے شور میں تحریک انصاف نے ایسی مزاحمتی چیخ و پکار کی ہے کہ اس نے ہرائے گئیوں کیلئے جیت کی خوش فہمی اور بظاہر جیتنے والوں کیلئے شرمندگی کا ماحول بنادیا ہے۔

 دو صوبوں بالخصوص بلوچستان میں ہنگامہ برپا ہے جہاں سبھی قوم پرست پارٹیاں چناؤ بدری کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، سندھ میں شکست خوردہ عناصر باہر نکلے بھی ہیں تو مارشل لا کو دعوت دینے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ن لیگ اور تحریک انصاف اکثریتی بل بوتے پر خاموشی سے حکومت سازی میں مصروف ہوچلی ہیں۔ مبینہ بڑی دھاندلی کے خلاف اسٹیج سجایا بھی ہے تو دارالحکومت کے بیچ کھڑے ہوکر تحریک انصاف نے۔ دعویٰ تو تحریک انصاف نے 180 نشستوں پہ جیتنے کا کیا ہے اور وہ بھی فارم 45 (پولنگ اسٹیشنز کے رزلٹ) اور فارم 47 (مجموعی نتائج) کے مابین مبینہ تفاوت کی بنیاد پر۔ لیکن 25 حلقے ایسے ہیں جہاں رد کیے گئے ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں۔ صرف 65 حلقوں میں کنٹروورسی ہے جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی نے برابر نشستیں جیتی ہیں۔ 

فافن کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے ”آزادوں“ نے29.47 ووٹ لے کر سب سے بڑی عوامی تائید یا مینڈیٹ حاصل کیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں نواز لیگ نے23.1 ووٹ لیے ہیں جو تحریک انصاف سےکم ہیں اورپاکستان پیپلزپارٹی کو 13.68ووٹ پڑے ہیں۔ لیکن تینوں پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹ کل ووٹوں کا صرف 31.5فیصد ہیں۔ گویا تینوں جماعتیں مل کر بھی کل رائے دہندگان کی ایک تہائی تعداد کا اعتماد بھی حاصل نہیں کرپائیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارٹیاں باہم مکالمے کے شور شرابے میں عوام کو انکے اصل مسائل کے حل کے ایجنڈے پہ متحرک نہ کرپائیں۔ گوکہ ووٹر ٹرن آؤٹ قومی اسمبلی کی 256 نشستوں پہ 2018 کے انتخابات کے مقابلے میں 8.7 فیصد کم رہا لیکن اس دوران 22.2 ملین نئے ینگ ووٹرز کی رجسٹریشن کے باعث، اس بار عددی اعتبار سے 5.8 ملین زیادہ ووٹرز ووٹ ڈالنے گئے جو عمران خان کی برتری کی بڑی وجہ بنے۔ تحریک انصاف کو انتخابی مہم سے زور زبردستی باہر رکھنے اور انتخابی نشان چھیننے کے باعث چونکہ انتخابی مہم انتہائی یکطرفہ رہی اور مضافاتی اضلاع میں تو یہ مقامی فیوڈل دھڑہ بندیوں کے گرد گھومتی رہی، جسکے باعث سیاسی ماحول نہ تپا نہ جما۔ 

سیاسی منظر پہ عمران خان کو جیل میں مصلوب کیے جانے کی داستانیں چھائی رہیں۔ تحریک انصاف کے انصافیان دبک تو گئے، لیکن 8 فروری کو ”ووٹ صرف خان کا“ نعرہ لے کر پولنگ اسٹیشنز پہ چھاگئے۔ نواز لیگ تو اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو موقع پرستی کی بھینٹ چڑھا کر ریاستی سرپرستی میں پنجاب میں میدان میں اتری جہاں اسے 16 ماہ کی حکومتی بداعمالی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ لیکن پنجاب میں نواز لیگ (30.6 فیصد) اور تحریک انصاف (30.1 فیصد) ووٹوں کے حساب سے برابر برابر رہیں۔ 

سندھ میں پیپلزپارٹی بڑے مارجن سے جیت گئی (44.5 فیصد ووٹ) لیکن کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی 17 حلقوں میں مشکوک کامیابی قابل تفتیش ہے۔ خیبرپختونخوا میں جہاں ووٹر ٹرن آؤٹ (39.5فیصد) باقی سب صوبوں سے بہت کم رہا، وہاں تحریک انصاف پورے صوبے کو بہالے گئی، جس کی بڑی وجہ مخالف پارٹیوں کے ووٹوں کی باہمی تقسیم ہے۔ پھر بھی جمعیت علمائے اسلام کےووٹوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ووٹ دوگنا سے زیادہ ہیں۔

انتخابی نتائج پہ اب جو مناقشہ پڑا ہوا ہے وہ تبھی حل ہوگا جب الیکشن کمیشن فارم 45 کی بنیاد پر فارم 47 پر اٹھنے والے تمام اعتراضات کو دور کردے گا۔ لیکن سیاسی مکالمے میں ہر ہاری ہوئی پارٹی جیتی ہوئی پارٹی کے مینڈیٹ پہ سوال اُٹھاتی رہے گی جیسا کہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا کے حوالے سے تحریک انصاف کو دوش دیا ہے۔ لیکن محترم مولانا نے عمران حکومت کے خلاف جنرل باجوہ اور پی ڈی ایم کی جماعتوں اور پی پی پی کے مابین گٹھ جوڑ کے حوالے سے ایسا اعترافی بیان دیا ہے کہ ہر طرف ندامت بھری چیخ و پکار دور دور تک سنائی دے رہی ہے۔ احساس گناہ کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ پارٹیوں کے مستند ترجمان اور بعض مشہور اینکرز جنرل باجوہ سے معذرت خواہ دکھائی دیئے۔

تاہم مولانا نے اپنے بیانات سے ،بھان متی کے کنبے کی جو حکومتی ہنڈیا تیار کی جارہی تھی، اس میں بڑا چھید ڈال دیا اور وہ بھی نہلے پہ دہلے کے مصداق تحریک انصاف کے وفد کو گلے لگا کر جس نے ایک سابق آمر کے پوتے کو وزیراعظم کے عہدے کیلئے میدان میں اُتارا ہے۔ تحریک انصاف نے نہایت مشکل حالات میں ایک بڑا سیاسی معرکہ مارا ہے۔ اور اسے پارلیمانی روایت کے مطابق حکومت سازی کا پہلا حق ہے۔ لیکن اکثریت کیلئے نمبر گیم کم ہے جسکا ازالہ صرف مخلوط حکومت کیلئے ماضی کے حریفوں میں سے کسی ایک دو کو ساتھ ملا کر کیا جاسکتا ہے۔ مگر ابھی تک تو تحریک انصاف جارحانہ موڈ میں لگتی ہے، جس کے باعث اسے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا۔ 

لیکن جس طرح وہ مولانا کے پاس کمک لینے گئی ہے، ویسے ہی وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ کیوں بات چیت نہیں کررہی۔ سیاسی انتظام کے اخلاقی جواز کیلئے فاتح تحریک انصاف کو اگر حکومت بنانے دی جاتی ہے تو سیاسی بحران تحلیل ہوسکتا ہے بشرطیکہ عمران خان ایک طرف بلاول بھٹو سے صلح کرلیں اور دوسری طرف مقتدرہ سیاسی خفت اٹھانے کے بعد ڈبل ہائبرڈ رجیم دوم کی تشکیل کی دوسری غلطی سے اجتناب کرے۔ مسلم لیگ ن پنجاب لے کر خوش، پیپلزپارٹی سندھ لے کر اپنے آپ میں مگن اور تحریک انصاف پختونخوا کی بلا شرکت غیرے مالک۔ وفاق میں حکومت بنانے پر سب کے پَر جل رہے ہیں کہ بدحال معیشت کا بھاری بوجھ کون اُٹھائے۔ 

ایسے میں دو آپشن رہ جاتے ہیں۔ یا تو ایک گرینڈ مصالحتی مخلوط حکومت بنے یا پھر کوئی قربانی کا بکرا تلاش کیا جائے۔ قربانی کا بکرا تو شہباز شریف ہی لگتے ہیں جو ہائبرڈ رجیم دوم کی زینت بننے کو بے قرار ہیں۔ لیکن آصف علی زرداری ان کی مشکیں کسنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اصل فیصلہ تو مقتدرہ نے کرنا ہے کہ اس نے سیاست سے پیچھے ہٹنا ہے یا پھر سسٹم کو اسٹریچ کیے جانا ہے۔ پیر پگارا نے یہ کہہ کر کہ فوج سب سیاستدانوں کو آزما چکی، مارشل لا کی دعوت دے دی ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان نے مقتدرہ کو سیاست سے توبہ کرو، کا نسخہ پیش کردیا ہے یعنی فیئرویل ٹو پالیٹکس! لیکن سب سیاستدان کیوں اپنی برچھیاں دفن کر کے پارلیمنٹ کو مقتدر بناتے؟ (تمام حقائق فافن کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں)۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔