پاکستان
Time 21 فروری ، 2024

’استعفیٰ دینے کیلئے یہ مناسب وقت ہے‘ پی ٹی آئی کاچیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ

کمشنر پنڈی ’وسل بلوور‘ تھے، انہوں نے بتایا دھاندلی کس طرح ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے استعفیٰ دینے کیلئے یہ مناسب وقت ہے: بیرسٹر گوہر— فوٹو: فائل
کمشنر پنڈی ’وسل بلوور‘ تھے، انہوں نے بتایا دھاندلی کس طرح ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے استعفیٰ دینے کیلئے یہ مناسب وقت ہے: بیرسٹر گوہر— فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کمشنر پنڈی ’وسل بلوور‘ تھے، انہوں نے بتایا دھاندلی کس طرح ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے استعفیٰ دینے کیلئے یہ مناسب وقت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری فارم 45 کی ہے، فارم 45 کے مطابق نتائج کا اعلان کر کے قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیں۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 82 آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیے ہیں۔

ادھر سینیٹ کے اجلاس میں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر مبینہ دھاندلی کی ذمہ داری اور مینڈیٹ چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو سینیٹ میں طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹ اجلاس کے دوران ن لیگ نے الیکشن کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امام کعبہ نے نہیں اسی الیکشن کمیشن نے انتخابات کرائے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے جذبات کے بجائے دانش مندی سے معاملات طے کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انتشار اور دانش مندی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ، تمام جماعتیں قانونی راستہ اپنائیں۔

سینیٹ کے ایوان میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزام پر دھواں دھار بحث کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اعلان سے پولنگ ڈے تک پری پول دھاندلی ہوئی۔

تحریک انصاف ہی کے سینیٹر ولید اقبال کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو بتانا ہوگا کہ دھاندلی کیوں ہونے دی؟

ن لیگی سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ 2013 کے الیکشن کا نعرہ 35 پنکچر تھا اور آج کا نعرہ فارم 45 ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات پر تحفظات ہیں تو ایوان میں آئیں، حلف اٹھائیں، اپوزیشن کا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں :