Time 10 مئی ، 2024
بلاگ

ایک کروڑ خواتین کی "کہانی" اور ہمارا رویہ

گزشتہ دنوں جب جیو نیوز پر "دل کا رشتہ"ایپ کی جانب سے یہ حقیقت پاکستانی عوام کے سامنے لائی گئی کہ ان کے معاشرے میں 35 سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ ایسی خواتین موجود ہیں جو بیوہ،طلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ ہیں تو ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔پاکستانی اور سوشل میڈیا پر اس مسلئے پر بہت زیادہ بات کی گئی ۔اکثر لوگوں نے اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا اور ساتھ میں بہت سے سوال بھی اٹھے۔

پاکستان میں شادی کو جس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے اس کے بعد اگر یہ اعداد وشمار سامنے نہیں بھی آتے پھر بھی با شعور لوگ اس بات کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہر دوسرے گھر میں ایک یا ایک سے زائد غیر شادی شدہ لڑکیاں اور خواتین موجود ہیں۔

یہ وہ لڑکیاں اور خواتین ہیں جنہیں مالی طور پر بہتر نہ ہونے ،قبول شکل ہونے، جسم بڑھ جانے،بال لمبے نہ ہونے،قد سرو نہ ہونے،عمر 30 سے اوپر ہو جانے،اپنی ذات برادری کی نہ ہونے، پوش ایریا کی رہائشی نہ ہونے،باپ کا اچھا کاروبار نہ ہونے،بھائیوں کے ملک سے باہر پیسے نہ چھاپنے،طلاق یافتہ ہونے،بچے کی ماں ہونے،بیوہ ہونے حتیٰ کہ بعض خصوصیات جیسے زیادہ پڑھا لکھا ہونا ،زیادہ لمبا ہونا یا زیادہ خود مختار ہونے ،اس کے علاوہ اور ہزار وجوہات کا بہانہ بنا کے ہر دوسرا رشتہ مسترد کر کے چلا جاتا ہے۔

یہ معاشرے کی مسترد افراد بن کر زندگی گزار رہی ہیں اور اگر کسی طرح شادی ہو بھی جائے تو شادی کے بعد "سروائیول"بھی ایک کام ہے۔ہمارا معاشرہ مرد کا معاشرہ ہے۔اس میں عورت سے صرف "قربانی"کی امید کی جاتی ہے۔بہن ہے تو "وراثت کا حق معاف کر دے"۔بیوی ہے تو "حق مہر معاف کر دے"۔بیٹی ہےتو باپ کی عزت کے لیے ہر غلط بات کو برداشت کر لے۔

اگر ہمارے معاشرتی رویے بدل جائیں تو ہمیں ایسی خبریں سننے کو نہ ملیں۔شادی کو آسان بنایا جائے۔ہر عورت کو چاند چہرہ بہو چاہیے اور سگھڑاپے،پڑھے لکھے ہونے کے علاوہ ماڈل بہو بھی چاہیے تو یہ مسئلہ بہت گھمبیر ہو جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر لڑکے کو انتخاب کا حق دیا جائے تو وہ جلدی اور بہتر فیصلہ کر لیتا ہے۔دوسرا ہم اپنے دین کی تعلیمات کی بات کریں تو صرف "چار شادیاں" والی اجازت ہمیں کیوں یاد رہ جاتی ہے۔ہم یہ بات کیوں نہیں کرتے کہ ہمارے بنی کریمﷺ اپنی پہلی زوجہ سے 15 سال چھوٹے تھے اور یہ کہ وہ بیوہ تھیں۔ہم یہ کیوں نہیں بات کرتے کہ سوائے حضرت عائشہﷺ کہ باقی سب بیوہ یا طلاق یافتہ تھیں۔ہمیں یہ کیوں نہیں یاد رہتا کہ ہمارے بنیﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی کتنی سادگی سے کی تھی۔

جب ہندوانہ رسومات کے پیچھے جائیں گے تو حالات بھی ان کے جیسے ہی ہوں گے جہاں بیوہ خواتین کو "ستی" کر دیا جاتا تھا تو ہم دیکھانے کو تو "ستی" نہیں کرتے لیکن حقیقت میں یہ خواتین زندگی سے کٹ جاتی ہیں اور کوئی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ جیتے جی "زندہ درگور" ہو جاتی ہیں۔تو اگر کچھ لوگوں کی آنکھیں کھلی ہیں تو انہیں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔شادی کو آسان بنائیں اور شادی کرنے کے فرسودہ طریقوں کو رد کرتے ہوئے ہر کسی کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔