Time 15 مئی ، 2024
دلچسپ و عجیب

16 سال سے کچھ کھایا پیا نہیں: ایتھوپین خاتون کے دعوے نے ڈاکٹرز کو مشکل میں ڈال دیا

 
خاتون نے علاج کیلئے بھارت، قطر حتیٰ کہ دبئی کے ڈاکٹرز سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی بھی طبیب ان کے بھوک نہ لگنے کی وجہ دریافت نہیں کرسکا/ فوٹو غیر ملکی میڈیا
خاتون نے علاج کیلئے بھارت، قطر حتیٰ کہ دبئی کے ڈاکٹرز سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی بھی طبیب ان کے بھوک نہ لگنے کی وجہ دریافت نہیں کرسکا/ فوٹو غیر ملکی میڈیا

ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ زندہ رہنے کیلئے ایک اچھی اور متوازن غذا ضروری ہے لیکن ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے دعوے نے ماہرین صحت کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ملوورک ایمبو  نامی خاتون نے اپنےایک  انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 16 سال سے کچھ نہیں کھایا نہ پیا۔

ملوورک کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں آخری مرتبہ 10 سال کی عمر میں دال کھائی تھی، اس کے بعد سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا کیوں کہ انہیں بھوک نہیں لگتی۔

رپورٹ کے مطابق  ملوورک ایک بچے کی ماں ہیں، انہیں اپنے اہل خانہ کیلئے کھانا بنانا پسند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاج کیلئے بھارت، قطر حتیٰ کہ دبئی کے ڈاکٹرز سے بھی رابطہ کیا لیکن کوئی بھی طبیب ان کے بھوک نہ لگنے کی وجہ دریافت نہیں کرسکا۔

16 سال  سے کچھ کھایا پیا نہیں: ایتھوپین خاتون کے دعوے نے ڈاکٹرز کو مشکل میں ڈال دیا

ملورک کا دعویٰ ہے کہ انہیں 16سال سے بیت الخلا کی حاجت محسوس نہیں ہوئی اور وہ صرف نہانے کیلئے بیت الخلا کا استعمال کرتی ہیں۔

جب ملو ورک حاملہ ہوئیں تو انہیں اور ان کے بچے کو صحت مند رکھنے کیلئے گلوکوز دیے جاتے رہے، بچے کی پیدائش کے بعد ملوورک دودھ پلانے کے قابل بھی نہیں تھیں جس کی وجہ سے بچے کو مصنوعی دودھ دیا گیا۔

ایتھوپین ڈاکٹرز ملوورک کو بغیر کچھ کھائے پیے  صحت مند قرار دے چکے ہیں ۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹرز کی جانب سے کروائے گئے ٹیسٹ میں بھی ثابت ہوچکا ہے کہ ملوورک  کے  نظام انہضام میں کسی خوراک، پانی یا فضلہ  کی موجودگی نہیں ملی، یہی وجہ ہے کہ انہیں  بیت الخلا کی حاجت محسوس نہیں ہوتی۔

دوسری جانب  ملوورک کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ  وہ اب اپنی زندگی میں کچھ کھائیں گی یا پیئیں گی۔