Time 29 مئی ، 2024
دنیا

اسرائیل نے رفح میں زمینی آپریشن کے دوران امریکی ریڈ لائن کراس نہیں کی: وائٹ ہاؤس

اسرائیل نے رفح میں زمینی آپریشن کے دوران امریکی ریڈ لائن کراس نہیں کی: وائٹ ہاؤس
اسرائیلی فورسز رفح کے آبادی والے علاقے میں آپریشن نہیں کر رہی بلکہ سرحدی علاقوں میں آپریشن کیا جا رہا ہے: امریکی صدر۔

امریکا کا کہنا ہے اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جانب سے رفح میں سیف زون قرار دیے گئے مہاجرین کے کیمپ پر  بمباری اور  زمینی آپریشن کے دوران امریکی ریڈ لائن کراس نہیں کی۔

عالمی عدالت کی جانب سے رفح میں آپریشن فوری بند کرنے کے احکامات کے باوجود اسرائیلی فورسز نے اتوار کے روز رفح کے پناہ گزین کیمپ پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد سمیت 45 فلسطینی جل کر شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایسے وقت میں پریس کانفرنس کی جب چند گھنٹے قبل ہی اسرائیلی فورسز نے رفح شہر کے مرکز میں واقع اہم پہاڑی علاقے پر قبضہ جما لیا جہاں سے مصر کی سرحد اور دیگر علاقوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

رفح میں آپریشن سے متعلق سوال پر جان کربی کا کہنا تھا امریکا نہیں سمجھتا کہ اسرائیل رفح میں بھرپور طاقت کے ساتھ آپریشن کر رہا ہے۔

یاد رہے امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ماہ عندیہ دیا تھا کہ اگر صیہونی فورسز رفح میں آبادی والے علاقے (جہاں لاکھوں فلسیطینی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں) میں داخل ہوئیں تو اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی سپلائی روک دیں گے۔

اسرائیلی فورسز کا رفح میں بمباری کے حوالے سے کہنا ہے کہ حملے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دو سینئر رہنما ہلاک ہوئے۔

اس حوالے سے جان کربی کا صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا اسرائیلی حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر انتہائی پریشان کن اور دل دہلا دینے والی ہیں، ان حملوں میں کسی بھی معصوم انسان کی جان نہیں جانی چاہیے۔

اسرائیل کی جانب سے امریکی صدر جو بائیڈن کی طے کردہ حدود کی خلاف ورزی سے متعلق سوال کے جواب میں جان کربی کا کہنا تھا امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم رفح میں زمینی آپریشن کو نا سپورٹ کرتے ہیں اور نا کریں گے، ہم نے ابھی تک ایسا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے اسرائیلی فورسز کو رفح میں تباہی مچاتے نہیں دیکھا۔

جان کربی کا مزید کہنا تھا ہم نے ابھی تک نہیں دیکھا کہ اسرائیل نے رفح میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن کیا ہو، البتہ اسرائیلی فورسز نے کچھ اہداف کو نشانہ ضرور بنایا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ رفح کا کنٹرول حاصل کیے بغیر 7 ماہ سے حماس کے خلاف جاری جنگ نہیں جیت سکتے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے پہلے 6 مئی کو رفح کے مشرق میں آپریشن کے نام پر فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور پھر بڑی تعداد میں ٹینکوں اور فوجیوں کے ساتھ مصر کی سرحد کے ساتھ علاقے پر قبضہ کر لیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر واضح کر دیا ہے اگر اسرائیلی فورسز نے رفح میں آپریشن کیا تو وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی روک دیں گے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا ابھی تک اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی نہیں روکی گئی کیونکہ ابھی تک اسرائیلی فورسز آبادی والے علاقے میں آپریشن نہیں کر رہی بلکہ رفح کے سرحدی علاقوں میں آپریشن کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں :