Time 03 جون ، 2024
بلاگ

مزید غداریاں

جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں ان کا جغرافیہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ 1971ء میں بدل گیا تھا کیونکہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہ تھی۔

 1971ء میں پاکستان کا وہ حصہ بنگلہ دیش بن گیا جہاں سے تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تھا اور جہاں آل انڈیا مسلم لیگ نے جنم لیا تھا۔ قائد اعظمؒ کے پاکستان کا دو لخت ہونا ایک قومی سانحہ تھا۔ 16دسمبر 1971ء کو پاکستان ٹوٹ گیا۔ 20 دسمبر 1971ء کو اس وقت کے فوجی صدر جنرل یحییٰ خان کو استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ موصوف کے خلاف نوجوان فوجی افسروں نے بغاوت کردی تھی۔ 

اسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے صدر پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا اور 26 دسمبر کوسقوط ڈھاکہ کی انکوائر ی کیلئےایک عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا جو بعد میں حمود الرحمان کمیشن کے نام سے مشہور ہوا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان کا جغرافیہ تبدیل ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت گیا اور ہم آج بھی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ عام پاکستانیوں کو پڑھنی چاہیے یا نہیں۔

 گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ بیان پوسٹ کیا گیا کہ ’’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ اصل غدار کون تھا؟ جنرل یحییٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان؟‘‘ اس بیان کو شہباز شریف حکومت نے غداری قرار دے دیا جس پر تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تو جیل میں ہیں وہ اس بیان کے ذمہ دار نہیں لیکن عمران خان نے جیل سے پیغام بھیجا کہ وہ اس بیان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ 

سابق صدر عارف علوی بھی عمران خان کے دفاع میں سامنے آگئے اور بیان دیا کہ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنا یا پڑھانا کوئی غداری نہیں۔ ایف آئی اے نے عمرا ن خان کے اس بیان کی انکوائری شروع کردی ہے اور شیخ مجیب الرحمان کی حمایت کے الزام میں ان پر غداری کا مقدمہ بنانے کی تیاریاں نظر آتی ہیں۔ حکومت کا الزام ہے کہ عمران خان نے شیخ مجیب اور جنرل یحییٰ خان کا تقابل کرکے دراصل پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھول گئی کہ ماضی میں وہ بھی شیخ مجیب الرحمان اور جنرل یحییٰ کا بہت ذکر کرتی رہی ہے۔ افسوس کہ ہمارے سیاستدان سقوط ڈھاکہ کے اہم کرداروں کا ذکر غلطیوں سے سبق سیکھنے کیلئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے کرتے ہیں۔

مجھےیقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے جو رہنما حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر لڑ رہے ہیں ان میں سے اکثر نے یہ رپورٹ بالکل نہیں پڑھی۔ کچھ صاحبان سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کے چند مخصوص حصوں کا ذکر کررہے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف جنرل یحییٰ خان کی رنگین مزاجی کو اجاگر کرنا ہے حالانکہ ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل حمود الرحمان کمیشن رپورٹ دراصل 1947ء سے 1971ء تک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔

 اس رپورٹ میں صرف 1971ء کی فوجی شکست کے اسباب کا جائزہ نہیں لیاگیا بلکہ ان سیاسی وجوہات کا بھی جائزہ لیاگیا ہے جن کے باعث مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان کے خلاف بغاوت کردی۔ جو صاحبان حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کی ترغیب کو غداری قرار دے رہے ہیں انہیں شاید معلوم نہیں کہ یہ رپورٹ تین حاضر سروس جج صاحبان نے لکھی تھی۔

حمود الرحمان کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس حمود الرحمان تھے۔ کمیشن میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انوارالحق اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طفیل علی عبدالرحمان بھی شامل تھے۔ اس کمیشن نے 57 اجلاس منعقد کئے۔ آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے 213 افسران پر جرح کی، درجنوں سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور صحافیوں کے بیانات قلم بند کرنے کے علاوہ اہم سرکاری و فوجی دستاویزات کا مطالعہ کیا۔ 

حکومت پاکستان کے تمام اداروں بشمول جی ایچ کیو نے اس کمیشن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا لیکن جب کمیشن کی رپورٹ حکومت کو بھجوائی گئی تو فوجی قیادت نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے گزارش کی کہ فی الحال اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا جائے کیونکہ یہ رپورٹ فوج کے مورال پر منفی اثر ڈالے گی۔ بھٹو صاحب مان گئے۔ دوسری طرف کمیشن نے جن فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی بلکہ کچھ کو پرموشن مل گئی۔

 جس فوج کو بدنامی سے بچانے کیلئے بھٹو صاحب نے کمیشن کی رپورٹ کو قوم سے چھپایا اس فوج کے افسران نے 1977ء میں ان کا تختہ الٹ دیا اور وہی غلطیاں دوبارہ دہرائی گئیں جن کے باعث پاکستان دو لخت ہوا۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ 2000ء میں جنرل پرویز مشرف نے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے اہم حصے پبلک کردیئے جو کتابی شکل میں شائع ہوگئے لیکن میڈیا پر یہ دباؤرہا کہ اس رپورٹ پر بحث نہ کی جائے۔

 اب اگر عمران خان پر غداری کا مقدمہ قائم ہوگا تو یقیناً عدالت میں یہ بحث ہوگی کہ اس کمیشن میں ایسی کون سی بات ہے جس کا ذکر کرناغداری ہے کیونکہ یہ رپورٹ تو تین ججوں کی تیار کردہ ہے۔ ان ججوں نے قوم کو بتایا کہ ڈھاکہ میں ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ جنرل امیر عبداللہ نیازی کو سرنڈرکرنے کا نہیں بلکہ سیز فائر کا حکم دیا گیا تھا لیکن اس نے ناصرف سرنڈر کردیا بلکہ اپنی فوج کو دشمن کی فوج کے افسران کوسلامی دینے کا حکم بھی دیا حالانکہ وہ مزید دو ہفتے تک ڈھاکہ کا دفاع کرسکتا تھا ۔ کمیشن نے جنرل یحییٰ، جنرل عبدالحمید، جنرل پیرزادہ، جنرل گل حسن، جنرل غلام عمر اور جنرل مٹھا کے خلاف جنرل ایوب خان کی حکومت کےخلاف سازش اور پھر 1970ء کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار نہ سونپنے کے الزام میں کارروائی کی سفارش کی لیکن گل حسن کو فوج کا سربراہ بنا دیاگیا۔

 یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کمیشن نے کچھ اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف کارروائی پر تو زور دیا لیکن مشرقی پاکستان میں اپنی فوج کے جوانوں اور نوجوان افسران کی بہادری کابھی ذکر کیا جس کی گواہی بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ جنرل جے ایف آر جیکب نے اپنی کتاب ’’سرنڈر ایٹ ڈھاکہ‘‘ میں بھی دی۔ انہوں نے لکھا کہ 13دسمبر 1971ء تک ڈھاکہ پر قبضہ ہمارے پلان میں نہیں تھا کیونکہ پاکستانی فوج بڑی بہادری اور ثابت قدمی سے لڑ رہی تھی لیکن پھر میں نے اپنی چالاکی سے جنرل نیازی کو ڈرا دھمکا کر سرنڈر پر راضی کرلیا۔ انہوں نے لکھا کہ اگر نیازی کچھ دن مزید مزاحمت کرتا تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مداخلت کے باعث ہمیں مشرقی پاکستان سے واپس آنا پڑتا۔

 اگر عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلا تو ہو سکتا ہے کہ عدالت میں آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کو گواہی کے لئے بلایا جائے جو مشرقی پاکستان میں بطور کرنل خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے جی او سی کے حکم پر ایک تحریری رپورٹ تیار کرکے جنرل نیازی کو پیش کی تھی جس میں کہا کہ ملٹری آپریشن کی بجائے سیاسی عمل شروع کیا جائے تو انہیں واپس راولپنڈی بھیج دیا گیا۔ غداری کا مقدمہ پاکستانیوں کو یہ بھی بتائے گا کہ 1971ء میں جنرل نیازی نے ڈھاکہ میں سرنڈر کیا اور جنرل ارشاد احمد خان نے شکر گڑھ اور سیالکوٹ کے 500 دیہات بغیر جنگ کے دشمن کو دے دیئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہزاروں جنگی قیدیوں کے علاوہ مغربی پاکستان کایہ مقبوضہ علاقہ بھی بھارت سے واپس لیا اور انہیں اس کا صلہ پھانسی کی صورت میں ملا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔