Time 26 فروری ، 2025
دنیا

حماس کے بانی شیخ احمد یاسین نے اسرائیل کے خاتمے سے متعلق کیا پیشگوئی کی تھی؟

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے بانی شیخ احمد یاسین شہید کے ایک پرانے انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کے خاتمے کے حوالے سے پیش گوئی کی تھی۔

عرب میڈیا کو 1999 میں دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں شیخ احمد یاسین سے اسرائیل کے مستقبل کے حوالے سے  سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اسرائیل کی بنیاد ظلم  پر ہے اور ظلم پر قائم کوئی بھی چیز بلآخر ختم ہوجاتی ہے۔

شیخ احمد یاسین نے کہا کہ دنیا میں کوئی طاقت ہمیشہ برقرار نہیں رہتی۔ انسان بچپن سے لڑکپن میں پہنچتا ہے، پھر جوانی اور بڑھاپے میں اور پھر ختم ہوجاتا ہے، ممالک کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

اس موقع پر شیخ احمد یاسین سے سوال کیا گیا کہ اس وقت اسرائیل کس مرحلے پر ہے؟ جس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ اسرائیل آئندہ صدی (21ویں صدی) کے ربع اول میں ختم ہوجائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سال 2027 میں اسرائیل نہیں رہے گا۔

یہاں شیخ احمد یاسین سے اس مخصوص سال کی وجہ پوچھی گئی جس پر انہوں جواب دیا کہ کیونکہ مجھے قرآن پر یقین ہے، قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ 40 سال میں ایک نسل تبدیل ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ [اسرائیل کے ] ابتدائی 40 سالوں میں نکبہ ہوا، اگلے 40 سالوں میں انتفاضہ کا آغاز ہوا جس میں مسلح جھڑپیں ہوئی اور اس کے بعد کے 40 سالوں میں ہم اسرائیل کا اختتام دیکھیں گے۔

1948 کی عرب اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے جبری بےدخل کیے جانے کو نکبہ کہا جاتا ہے۔

1987 میں غزہ میں اسرائیلی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کو انتفاضہ یا پہلی انتفاضہ کا نام دیا گیا تھا، انتفاضہ میں اسرائیلی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرے بعد ازاں پر تشدد رنگ اختیار کرگئے تھے، پہلی انتفاضہ 1993 تک جاری رہی۔

خیال رہے کہ شیخ احمد یاسین نے 1987 میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی بنیاد رکھی تھی۔

شیخ احمد یاسین لڑکپن میں ہی معذوری کا شکار ہوگئے تھے تاہم ان کی یہ معذوری بھی ان کے عزم و ہمت کو کم نہ کرسکی۔

اسرائیل نے شیخ احمد یاسین کو پہلی مرتبہ  1982 میں حراست میں لیا اور  معذور شیخ احمد یاسین کو 13 سال قید کی سزا سنائی تاہم 1985 میں قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت انہیں رہا کردیا گیا۔

بعد ازاں انہیں 1991 میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم انہیں اردن میں حماس کے رہنما خالد مشعل پر قاتلانہ حملہ کرنے والے موساد ایجنٹوں کی رہائی کے بدلے 1997 میں رہا کردیا گیا۔

 22 مارچ 2004 کو نماز فجر کے وقت غزہ میں شیخ احمد یاسین کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید کردیا گیا تھا۔


مزید خبریں :