Time 26 فروری ، 2025
کاروبار

دو روزہ پاکستان بینکنگ سمٹ مضبوط بینکاری نظام کیلئے اہم سفارشات کے ساتھ ختم ہوگئی

دو روزہ پاکستان بینکنگ سمٹ مضبوط بینکاری نظام کیلئے اہم سفارشات کے ساتھ ختم ہوگئی
سمٹ میں 12 بین الاقوامی اسپیکرز اور 20 سے زائد ملکی ماہرین نے شرکت کی— فوٹو: پی آئی ڈی

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی پہلی پاکستان بینکنگ سمٹ (پی بی ایس 25)  24 اور 25 فروری کو کراچی میں ہوئی۔

یہ دو روزہ تقریب پاکستانی بینکاری کی صنعت میں اپنی نوعیت کا پہلا مشترکہ اقدام تھی۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد پاکستان بینکنگ سمٹ 2025 ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی جس نے پاکستان کے بینکنگ اور مالیاتی شعبے کے کلیدی رہنماؤں کو بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔

سمٹ میں 12 بین الاقوامی اسپیکرز اور 20 سے زائد ملکی ماہرین نے شرکت کی جبکہ 45 سے زائد اداروں کے نمائندگان، بشمول روایتی، اسلامی، ڈیجیٹل اور مائیکروفنانس بینکس اور ڈیولپمنٹ فنانس ادارے بھی شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے دیگر شخصیات کے ساتھ تقریب میں شرکت کی جن میں سرکاری شعبہ، تعلیمی اداروں اور پاکستان کی کارپوریٹ سیکٹرکے نمائندے شامل تھے۔

پاکستان بینکنگ سمٹ نے بینکاری کی صنعت اور اسٹیک ہولڈرز کو ابھرتے ہوئے رجحانات، بینکاری اور مالیات کے مواقع سے متعلق اہم گفتگو میں شمولیت کے لیے ایک پلیٹ فارم پیش کیا۔ اس دو روزہ سمٹ میں عالمی اور مقامی اقتصادی ترقی، معاشی ترقی میں بینکاری کے شعبے کے کردار، ایس ایم ایز، زرعی ترقی اور فنانسنگ، ڈیجیٹل، اسلامی بینکاری، پائیداری، تنوع، مساوات اور شمولیت سے متعلق مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیاتھا۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے بینکنگ کے شعبے کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بینکنگ انڈسٹری سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا شعبہ ہے جس نے 2023 میں 644 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ قومی انفراسٹرکچر، عوامی خدمات اور معاشی منصوبوں کی براہِ راست مالی معاونت میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتے ہوئے اور خواتین کی 20 فیصد شمولیت کا ہدف مقرر کرکے، یہ صنعت پاکستان کا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، 99.8 فیصد بجٹ خسارے کی فنانسنگ بینکوں کے ذریعے ہوتی ہے  جو مالی استحکام، زرِمبادلہ کے انتظام، اور معاشی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ 

پاکستان بینکنگ سمٹ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین عاطف باجوہ نے کہا کہ پاکستان بینکنگ سمٹ نے ثابت کیا کہ پاکستانی مالیاتی اداروں کی عملی مہارت، بین الاقوامی ماہرین کے فراہم کردہ بہترین عالمی تجربات اور ایک ایسا ریگولیٹر جو سازگار پالیسی فریم ورک کے لیے پرعزم ہو، جب یکجا ہوتے ہیں تو حقیقی معنوں میں انقلابی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمٹ سے حاصل ہونے والی تجاویز اور سفارشات پاکستان کی بینکنگ صنعت میں ترقی، شمولیت اور طویل مدتی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سیکرٹری جنرل، منیر کمال نے صنعتی سطح پر تمام فریقین کے اشتراک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پاکستان بینکنگ سمٹ 25 نے موجودہ چیلنجز پر غور کرنے اور جدید حل تلاش کرنے کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو کامیابی کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے اور یہ سمٹ اس عزم کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی بینکنگ کمیونٹی ایک زیادہ ترقی یافتہ مالیاتی ایکو سسٹم کے لیے کوشاں ہے۔ 

اسی تقریب میں الیکٹرانک نو یور کسٹمر اقدام کا بھی باضابطہ آغاز کیا گیا جس کا مقصد دستی عمل کو ایک محفوظ، ڈیجیٹل فریم ورک سےتبدیل کرکے بینکنگ انڈسٹری میں انقلاب لانا ہے جو کمپلائنس اور صارفین کی سہولت میں مزیداضافہ کرے گا ۔

پاکستان بینکنگ سمٹ کے دوران ہونے والی گفتگو نے ان بے شمار مواقع کو اجاگر کیا جنہیں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان چیلنجز کو بھی مدنظر رکھا گیا جو بینکنگ سیکٹر کو درپیش ہیں۔

یہ سمٹ ایک نئے انقلابی سفر کا آغاز ہے جہاں حاصل کردہ کلیدی نکات کو عملی اقدامات میں ڈھال کر مالیاتی شعبے کے مستقبل کو تشکیل دیا جائے گا۔

مزید خبریں :