Time 27 فروری ، 2025
پاکستان

پاکستان میں 2024 میں جمہوریت تنزلی کا شکار رہی

پاکستان میں 2024 میں جمہوریت تنزلی کا شکار رہی
پاکستان کی جمہوریت کی درجہ بندی 2023 میں 3.25 تھی جو 2024 میں کم ہو کر 2.84 رہ گئی ہے: اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ۔ فوٹو فائل

پاکستان کی جمہوریت کی درجہ بندی 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ کے عمل کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور سیاسی انتشار کی وجہ سے کم ہو گئی۔

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جمہوریت کی درجہ بندی 2023 میں 3.25 تھی جو 2024 میں کم ہو کر 2.84 رہ گئی ہے جس کی وجہ ملک میں انتخابی مسائل اور سیاسی بحران کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران ملک میں پرتشدد واقعات پیش آئے، اس کے علاوہ پاکستان کی ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کو انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے جیل بھیج دیا گیا۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ سب سے زیادہ رہا مگر انتخابات سے پہلے اور بعد کے حالات نے جمہوری حقوق اور آزادیوں پر سوالات اٹھا دیے۔

ایچ آر سی پی کے مبصرین نے 51 حلقوں میں انتخابات کا مشاہدہ کیا جس میں پولنگ کے دن پورے ملک میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل رہنے، کچھ مقامات پر پولنگ کی تفصیلات میں اچانک تبدیل ہونے، ریٹرننگ افسران کی جانب سے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کرنے جیسے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے انتخابات کی شفافیت میں مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق، تقریباً 20 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران نے گنتی کا نتیجہ عوامی طور پر آویزاں نہیں کیا یا اس کی تصویر ریٹرننگ افسر کو نہیں بھیجی، کئی مقامات پر ریٹرننگ افسران کے اعلانات اور پریزائیڈنگ افسران کے نتائج میں فرق پایا گیا، امیدواروں، پولنگ ایجنٹس اور مبصرین کو عارضی نتائج کی تیاری کے عمل کا مشاہدہ کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔

جیو الیکشن سیل کی تحقیقات میں بھی کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جیسے چند ایک کے زیادہ تر فارموں میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، کچھ پولنگ اسٹیشنز  پر ووٹوں میں واضح رد و بدل کے شواہد بھی ملے۔

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جمہوریت کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور یہ 20 سالہ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلسل 16ویں سال ناروے کو دنیا کی سب سے زیادہ جمہوری ریاست قرار دیا گیا، جس کا اسکور 9.81 رہا جبکہ نیوزی لینڈ اور سویڈن بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

دوسری طرف، افغانستان 2021 سے اب تک جمہوریت کے لحاظ سے سب سے کم درجے پر موجود ہے جس کا اسکور صرف 0.25 ہے، سب سے بڑی تبدیلی بنگلادیش میں دیکھی گئی جو سیاسی عدم استحکام اور پرتشدد مظاہروں کے باعث 25 درجے نیچے چلا گیا۔

مزید خبریں :