28 فروری ، 2025
مملکت میں جب بھی’’طاقت‘‘ انگڑائی لیتی ہے، آئین پاکستان پر کڑا وقت آ جاتا ہے۔ جمہوریت، مارشل لائی، ہائی برڈ کوئی بھی نظام، ہر دور میں آئین پاکستان کو روندنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔
مملکت کا مستقبل، سیاسی استحکام سے نتھی، سیاسی استحکام مستقلاً غیر موجود، آج وطنی مستقبل پر سوالیہ نشان ثبت ہے۔ معاشی، معاشرتی، قانون کی حکمرانی کا سیاسی استحکام سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاسی شعور جوانی میں پروان چڑھ چکا تھا۔ پسماندہ شہر میانوالی میں اپنی اَن پڑھ نانیوں اوردادیوں کی زباں سے فقرہ جڑا پایا، ہر جرم، ہر گناہ، ہر خرابی پرتلملاتی اور فرماتیں کہ ’’کلمہ کے نام پر ملک بنا ہے، یہ برائیاں کیوں؟‘‘۔ جملہ معترضہ، دین بیزار دانشور پاکستان کی پیدائش سے آج تک وافر مقدار میں شعور اور اثر و رسوخ کے حامل ضرور، جو بات اَن پڑھ نانیوں، دادیوں کو سمجھ آ گئی کہ مملکت کا وجہ وجود نظریاتی، کلمہ کی بنیاد پر قائم، سلجھی گتھیوں کو تب سے الجھا رہے ہیں۔
شعوری اٹھان مع جذباتی ہیجان، خلوص دل اور دلجمعی سے ’’ریاستِ قرآن و سنت‘‘ بنانے کی ٹھانی۔ ریاست دو لخت ہوئی، وائے ناکامی! ’’میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو ....قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا"۔ سوچ بدلی نظریہ کیساتھ آئین مع روح پر توجہ دی کہ آئین باقی، ریاست باقی۔ حیف! مستحکم ریاست ایک سراب بن چکی ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے آج سیاسی جماعتوں کا رول ماضی میں جنرل باجوہ کی ’’توسیع مدت ملازمت‘‘ (2019) سے مطابقت رکھتا ہے۔ شبہ نہیں کہ حکومت، اپوزیشن (بشمول PTI)، کُل مقتدرہ نے باجماعت کامیابی دلوائی۔ پرسوں ملٹری کورٹس میں وکیل دفاع عزیز بھنڈاری کو اسی ضمن میں جسٹس امین الدین نے طعنہ دیا کہ ’’پارلیمنٹ نے بلا حیل و حجت یک زباں جنرل باجوہ کو کس قانون کےمطابق توسیع دے ڈالی‘‘۔
دلچسپ صورتحال یہ بھی کہ 26ویں آئینی ترمیم کو وکلاء تنظیموں، سول سوسائٹی نے آئینی بینچ کے آگے چیلنج کر رکھا ہے یعنی کہ آئینی بینچ نے اپنے بارے میں فیصلہ کرنا ہے کہ ’’وہ آئینی ہے بھی یا نہیں‘‘۔ آج میری غرض ملٹری کورٹس کیس سے، پچھلے 5ہفتوں سے بغیر کسی توقف سپریم کورٹ کا آئینی بینچ سانحہ 9 مئی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بھولنا نہیں کہ آئینی بینچ 26ویں آئینی ترمیم کی پیداوار ہے۔ کالم لکھنے تک سینئر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے دلائل جاری ہیں۔ فی الحال ملک کے طول و عرض میں سانحہ 9 مئی میں ملوث کم و بیش 10 ہزار ملوث قرار پائے۔ 105کے کورٹ مارشل کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔ سانحہ 9 مئی کا واقعہ گھناؤنا، حملہ آور، جلاؤ گھیراؤ کرنیوالے، پلاننگ کرنیوالے سب ناقابل معافی ہیں۔ تو پھر تھوک کے حساب سے معافی کیونکر بانٹی گئی؟ جو کوئی بھی’’عمران مکاؤ‘‘پروجیکٹ کا انچارج ہے، پوچھنا بنتا ہے کہ جنوری 2022 کا زمین بوس عمران خان آج کہاں کھڑا ہے۔
9 مئی تحریک انصاف کا خاتمہ کر سکتا تھا۔ کس کی کوشش سے بیانیہ تباہ ہوا۔ اب جبکہ PTI پاش پاش ہو چکی تھی ، کیا ضرورت تھی کہ ’’بھائی لوگ‘‘ مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے۔ کیا ایسا کرنیوالوں کی بھی گوشمالی ہو گی۔ کیا ضرورت تھی تحریک انصاف کے کچرے کی لوٹ سیل پر جشن منانے کی۔ استحکام پاکستان پارٹی کیوں بنائی اور کیونکر ہزیمت اٹھائی؟ آج ہر محاذ پر پسپائی کمالِ عمران سے زیادہ حماقت یاراں ہی تو ہے۔ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے سپریم کورٹ میں انکشافات نے مبہوت رکھا کہ ادارے نے اپنے طور آرمی ایکٹ کا غیرقانونی استعمال کرکے اپنے ہی ایکٹ کی پامالی کی۔
ریکارڈ کیلئے، عمران خان سے علیحدہ ہوئے 13 سال ہونے کو، عمران سیاست سے صرف اتنی دلچسپی کہ ایک ایک جُزو سے شدید اختلاف ہے۔ معلوم تھا کہ 10اپریل 2022اقتدار سے علیحدگی، اسمبلیوں سے استعفیٰ تا جلسے جلوس، ریلیاں راحتوں اور صعوبتوں کے سفر میں ’’بھائی لوگ‘‘ شانہ بشانہ رہے۔ سب معلوم کہ جنرل فیض حمید نے عمران خان کا سیاسی نظم و نسق ’’بھائی لوگوں‘‘ کی مرضی اور منشاکےمطابق سنبھالے رکھا۔ باوجود یکہ عمران خان بارے میری ناپسندیدگی، ہر حد عبور کر چکی ہے۔ ہر CRITICAL موقع پر اپنی مقدور بھر عقل کے مطابق اپنی رائے پہنچانے کی کوشش کی کہ ملک و قوم کی جان ایسے لوگوں کی سیاست میں اٹکی ہے۔
11مئی 2023کو جسمانی ریمانڈ پر زیر حراست عمران خان کو سپریم کورٹ نے جب غیر معمولی طریقہ سے اپنی حفاظتی تحویل میں لیا تو قوم کے چاروں طبق روشن، حیرانی سراسیمگی چار سُو تھی۔ اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہلے میں تمام کیسز کو ضمانتی کمبل پہنانا ہی تھا۔ فاتح سپریم کورٹ نے 12مئی کی رات کو جب لاہور گھر قدم رنجا فرمایا، اتفاقاً میرا TV آن تھا۔ پہلے لمحہ میں موصوف کو تمام اہل خانہ کیساتھ ایک گروپ فوٹو میں دیکھا، شخصیت کا تکبر اور گھمنڈ اُمڈ اُمڈ سامنے تھا۔ فوراً ایک کلپ وائرل گھر داخل ہونیوالوں کو گالی سے نوازا، تو میرے ہوش و حواس اُڑ گئے۔
ایک طرف 9مئی کا اندوہناک واقعہ اور دوسری طرف عمران خان کا ایسا متکبرانہ تجاہل عارفانہ، تیقن کہ اگلا دن قیامت خیز رہنا ہے۔ جیسے تیسے رات کٹی، اگلے دن صبح سویرے پہلے عمران خان کے دیرینہ ساتھی عمر فاروق (گولڈی) اور فوراً بعد سینٹر شبلی فراز (چیف آف اسٹاف) کو فون کیا اور عمران خان سے ملنے کی شدید خواہش ظاہر کی۔ عمران خان سے مجھے کیا ملنا تھا، رات گئی بات گئی اپنے بر انگیختہ جذبات کو ٹھنڈا کرنا تھا۔ حسب معمول عمران خان ہوشیار تیار ہو کر وسیع و عریض میڈیا کے سامنے آئے تو دو فقروں میں سانحہ 9مئی کا اعتراف کر ڈالا۔ ’’اچھا! گرفتار تم کرو اور ہم احتجاج وزیراعظم ہائوس کے سامنے کریں۔ تم پھر گرفتار کرو گے تمہارے ساتھ پھر یہی ہو گا‘‘۔ عملاً اعتراف جرم تھا۔
چند دنوں بعد میرے بیٹے حسان نیازی نے تجسس اور حیرانی سے پوچھا کہ آپ عمران خان سے ملنا چاہتے تھے، آخر کیوں؟ یعنی کہ میرے ملنے کی خواہش کی خبر عام ہو چکی تھی۔ میرا جواب! ’’دو فقروں‘‘ (جن میں اعتراف کیا تھا) کو روکنے کیلئے ملنا تھا۔ مشورہ دینا تھا کہ اپنے میڈیا ہجوم کو ساتھ لیکر جناح ہاؤس جائیں، وہاں پریس کانفرنس میں نہ صرف واقعہ کی مذمت کریں، واقعہ میں ملوث PTI کارکنان کے نام مانگیں، لاقانونیت پھیلانے والوں کو خود حوالہ قانون کرنا تھا۔
باوجود یکہ عمران خان نے حماقتوں کے انبار لگائے، مقتدرہ اپنا 9 مئی پر کیس ہار گئی۔ آج مقتدرہ کو سپریم کورٹ کا سہارا چاہیے تاکہ بذریعہ سپریم کورٹ آئین کو پچھاڑا جا سکے۔ بھاری دل سے اعلان کرتا ہوں کہ وطنی اکثریتی رائے عامہ کی عدالت میں مقتدرہ عمران خان سے کیس ہار چکی ہے۔ دوسری طرف عمران خان بھی خرچ ہونے کو ہیں کہ حماقت، تکبر، منتقم مزاجی نے گھائل رکھنا ہے۔ جنگ و جدل کا ماحول جاری، پاکستان کا استحکام جائے بھاڑ میں، سپریم کورٹ آرمی ایکٹ کے سامنے ڈھیر ہونے کو ہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔