Time 13 مارچ ، 2025
دنیا

نیویارک کی عدالت نے محمود خلیل کی وکلا سے بات کرانے کا حکم دیدیا

نیویارک کی عدالت نے  محمود خلیل کی  وکلا سے بات کرانے کا حکم دیدیا
فوٹو: اے پی

فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر گرفتار کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم محمود خلیل کو اپنے وکلا سے بھی علیحدہ بات کرنے کی اجازت نہیں ۔

اس بات کاانکشاف محمود خلیل کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ہواجس پر مین ہیٹن کورٹ کے جج جیسی فرمین  نے حکم دیا ہےکہ محمود خلیل سے اس کے وکلا کی بات کرائی جائے۔

خلیل پر تاحال کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

تاہم اس کے وکیل رمزی قسیم کا کہنا تھا کہ خلیل کو نیویارک کی سڑک سے جس روز سے گرفتار کیا گیا ہے وہ ایک بار بھی اس سے بات نہیں کرسکے۔

صدرٹرمپ نے محمود خلیل کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے اور اس کا گرین کارڈ منسوخ کردیا ہے۔

محمکمہ انصاف کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ خلیل کا مقدمہ نیویارک سے نیو جرسی یا لیوزی اینا منتقل کرنا چاہتےہیں۔

خلیل کی 8 ماہ کی حاملہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو افطارسے لوٹتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری جسم سے روح چھیننے جیسی ہے اور انہیں ایسی حالت میں بھی اپنے شوہر سے بات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے  محمود خلیل کوگرفتار کیا تھا۔

 محمود خلیل کی گرفتاری کے خلاف امریکا کی مختلف ریاستوں میں مظاہرے کیے گئے۔

مزید خبریں :